Al-Risala · November 1991

الرساله سمپوزیم

Al-Risala, November 1991, pp. 33–39

By Maulana Wahiduddin Khan

پٹنہ کا بنیادی پروگرام الرساله سمپوزیم تھا۔ ۲۸ جولائی ۱۹۹۱ کو اس کا انعقاد گورنمنٹ اردو لائبریری کے ہال میں ہوا۔ اس لائبریری میں اجتماعات ہوتے رہتے ہیں۔ مگر لائبریری کے منتظمین کا کہنا تھا کہ اتنا کامیاب اجتماع آج تک یہاں کوئی اور دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس سمپوزیم کی صدارت پٹنہ ہائی کورٹ کے جسٹس این پی سنگھ کرنے والے تھے۔ مگر عین وقت پر سرکاری ضرورت پیش آنے کی وجہ سے وہ رانچی چلے گئے۔ ان کی جگہ شہر کی مشہور شخصیت ڈاکٹر شری نواس نے سمپوزیم کی صدارت کی۔ مسٹر ایم ٹی خان نے کنوینر کی حیثیت سے کارروائی کو چلایا۔ یہ سمپوزیم پٹنہ کے الرسالہ ریڈرس فورم کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اس کی روداد کسی قدر تفصیل کے ساتھ درج کی جاتی ہے۔ راقم الحروف کے نزدیک یہ سمپوزیم الرساله مشن کی تاریخ کا ایک حصہ ہے، اس لئے اس کا ریکارڈ میں آ جانا ضروری ہے۔ دوسرے یہ کہ الرسالہ میں اس کی اشاعت سے دوسرے مقامات کے حلقہ الرسالہ کو ان شاء اللہ تحریک ملے گی اور وہ اپنے حالات کے لحاظ سے اپنے یہاں بھی اسی نوعیت کی سرگرمیاں جاری کر سکیں گے۔

ماہنامہ الرسالہ 1976 سے برابر نکل رہا ہے۔ اسی کے ساتھ کتابوں کی اشاعت کا سلسلہ بھی جگہ جگہ اجتماعات بھی کئے جاتے رہے ہیں۔ اس طرح پندرہ سال کی مسلسل محنت کے نتیجہ میں الرسالہ کا مشن پورے ملک میں بحث و گفت گو کا موضوع بن گیا ہے۔ ملک کا بیشتر تعلیم یافتہ طبقہ اس سے واقف ہو چکا ہے۔ الرسالہ کی فکری ضرب لوگوں کے لئے اتنی شدید ہے کہ لوگ مجبور ہو جاتے ہیں کہ اس کو پڑھنے کے بعد اس کے بارہ میں کچھ نہ کچھ ردعمل ظاہر کریں، خواہ مخالفت کی صورت میں یا موافقت کی صورت میں۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ الرسالہ مشن کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ آج الرسالہ ملک میں " سمپوزیم " کا عنوان بن رہا ہے۔ یہ واقعہ الرسالہ مشن کے دوسرے مرحلہ میں داخل ہونے کی علامت ہے، یعنی وہ مرحلہ جب کہ الرسالہ مشن انفرادی دلچسپی کے موضوع سے اوپر اٹھ کر اجتماعی دلچسپی کے دور میں پہنچ گیا۔ وہ عمومی سطح پر غوروفکر کا عنوان بن گیا۔ سمپوزیم (symposium) اصلا ایک مرکب یونانی لفظ ہے۔ قدیم یونان میں تعلیم یافتہ

لوگ فکری مباحثہ (intellectual discussion) کے لئے جمع ہوتے تھے۔ ان کے مذاق کے مطابق، ایسی مجلسوں میں تفریحی پروگرام بھی رکھے جاتے تھے۔ اس کو وہ لوگ سمپوزن (sumposion) کہتے تھے۔ یہی لفظ انگریزی میں اگر سمپوزیم بن گیا۔ موجودہ استعمال میں سمپوزیم کا لفظ ایسی کانفرنس کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی مخصوص موضوع پر بحث و مذاکرہ کے لئے منعقد کی گئی ہو: A conference organized for the discussion of some particular subject. پٹنہ کے الرسالہ سمپوزیم کا عنوان بحث تھا : الرسالہ ایک روشنی ، زندگی کی تعمیر میں الرسالہ کا رول۔ الرسالہ ریڈرس فورم جس کی طرف سے یہ سمپوزیم منعقد کیا گیا، اس فورم کے سرپرست (پیٹرن) جسٹس این پی سنگھ ہیں اور مسٹر ایم ٹی خان ، ایم اے اس کے کنوینر ہیں۔ سمپوزیم کا مقرر وقت صبح دس بجے تھا۔ مگر علاوہ ساڑھے دس بجے شروع ہو سکا۔ مسٹر ایم ٹی خان مائیک پر کھڑے ہوئے تو سب سے پہلے انھوں نے کہا کہ آدھ گھنٹے کی یہ تاخیر الرسالہ مشن کے اصول کے خلاف ہے۔ اس کا ہم اعتراف کرتے ہیں۔ اور آپ سے اس کو تاہی کی معافی چاہتے ہیں ۔ اس کے بعد کنوینرنے کہا کہ کچھ دیر بعد یہاں لوگوں کے مقالات پڑھے جائیں گے اور لوگوں کے تاثرات آپ کے سامنے آئیں گے۔ اس سلسلہ میں چند ضروری باتیں میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ مشن کو سمجھنے کے لئے چار خاص شرطیں (conditions) ہیں ۔ آپ براہ کرم اپنے اظہار خیال میں ان کو ملحوظ رکھیں۔ الرسالہ کے پیغام کو اس کے صحیح تناظر (perspective) میں لینے کے لئے غیر متاثر ذہن ہونا ضروری ہے۔ اگر ہم پیشگی تاثرات کے ساتھ الرسالہ مشن کو دیکھیں تو الرسالہ کے صفحات میں ہم اپنے آپ کو پڑھیں گے ، ہم الرسالہ کو نہیں پڑھ سکیں گے ۔ الرسالہ مشن کو سمجھنے کے لئے وہ انسان درکار ہے جو ڈبل اسٹینڈرڈ پالیسی پر راضی نہ ہو ۔ یعنی ذاتی زندگی میں ایک طریقہ پر عمل کرنا اور اجتماعی امور میں دوسرے طریقہ کی وکالت کرنا۔ انھوں نے کہا کہ دہرا پن (duality) کے ساتھ آپ واقعیت (actuality) کو نہیں سمجھ سکتے۔

۳- تیسری چیز یہ کہ الرساله مشن کو سمجھنے کے لئے تقلیدی ذہن کے بجائے غیر تقلیدی ذہن ہونا ضروری ہے۔ تقلید پر مبنی (Tradition-based) سوچ رکھنے والا آدمی تعقل پر مبنی (Reason-based) پیغام کو سمجھنے سے عاجز رہتا ہے۔

اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ الرسالہ کے پیغام کو اس کے جامع انداز (integrated way) میں لیں، آپ اس کو متفرق انداز (segregated way) میں نہ لیں۔ کسی بھی پیغام کو اس کے کامل ڈھانچہ ہی میں رکھ کر سمجھا جا سکتا ہے نہ کہ منقسم ڈھانچہ میں۔ اس کے بعد کنوینر نے کہا کہ ہر اصول کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ جسٹسٹس طرح اصول مطلوب ہوتا ہے اسی طرح اس کے تقاضے بھی لازمی طور پر مطلوب ہوتے ہیں۔ تقاضوں کو چھوڑنے کے بعد اصول بے معنی ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اپنے حق (right) کو پانے کے لئے تحمل (restraint) کا اہتمام ضروری ہے۔ آدمی کو حق ہے کہ وہ اپنی چیز کو حاصل کرے مگر حاصل کرنے کی جد و جہد کے دوران تحمل کے اصول کو پکڑے رہنا ضروری ہوگا۔ ورنہ حق دار ہونے کے باوجود آدمی اپنے حق کو پانے سے محروم رہے گا۔

اس تمہیدی تقریر کے بعد لوگوں کے پیغامات پڑھ کر سنائے گئے۔ سب سے پہلے جس این پی سنگھ کا پیغام پڑھاگیا۔ وہ سمپوزیم میں بحیثیت صدر شریک ہونے والے تھے مگر اچانک سرکاری ضرورت پیش آنے کی وجہ سے ان کو رانچی جانا پڑا۔ چنانچہ ڈاکٹر شری نواس نے سمپوزیم کی صدارت جس سنگھ نے اپنا تحریری پیغام بھیج دیا تھا۔ ان کے پیغام کا ایک حصہ یہ تھا : A serious reader of Al-Risala can take a great benefit from Maulana's manifestations by becoming quick in precision, broad in vision and fresh اس کے علاوہ اور بھی کئی صاحبان کے پیغامات پڑھے گئے۔ انھوں نے اپنے پیغام میں یہ کہا تھا کہ وہ الرسالہ کے قاری ہیں۔ اور اس کے پیغام سے اتفاق رکھتے ہیں۔ یہی قوم اور ملک کی ترقی کا راستہ ہے۔ ان حضرات کے نام یہ ہیں :

ڈاکٹر مناظر عاشق ہرگانوی ، مارواڑی کالج، بھاگل پور محمد مصباح الزماں ، پرنسپل ایم اے ہائی اسکول ، پٹنہ

بدرالدین احمد، اکاؤنٹ افسر، کنا را بینک، پٹنہ محمد شفیق ، شیخ پورہ ، مونگیر ڈاکٹر عبد الصمد ، پٹنہ پیغام سنانے کے بعد مقالات پڑھنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان مقالات میں الرسالہ کے بارے میں اپنے اپنے تاثرات کو بیان کیا گیا تھا۔ اور یہ بتایا گیا تھا کہ موجودہ ملکی اور بین اقوامی حالات میں اس کے پیغام کی کیا اہمیت ہے۔ یہاں ان مقالات کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے۔ مسٹر ایم کے سنہا، سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس، بہار نے اپنا مقالہ انگریزی میں پڑھا۔ انھوں نے دوسری باتوں کے علاوہ لکھا کہ آج ہمارے پاس انڈیا ہے ، انڈین ہیں ، مگر انڈین نس (Indianness) نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ ملک میں انڈین نس پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مقالہ کا ایک جملہ یہ ہے :

Al-Risala gives a correct lead to this vexed (communal) problem which is possibly due to politics becoming more and more complicated in re- دوسرا مقالہ جناب مصطفی کمال صدیقی اور نٹیل بینک آف کامرس) کا تھا۔ یہ مقالہ اردو میں تھا ۔ انھوں نے اپنے تفصیلی تاثرات بتاتے ہوئے کہا کہ اگر مجھ سے الرسالہ کی ڈیفینیشن (تعریف) پوچھی جائے تو میں کہوں گا کہ الرسالہ ایک ایسا مشن ہے جو جاگے ہوئے لوگوں کو جگانے کا کام کر رہا ہے۔ ہوئے لوگوں کو جگانا آسان ہوتا ہے۔ مگر جاگے ہوئے لوگوں کو جگانا انتہائی حد تک مشکل ہے۔ اس کے بعد مس انشو مترا چودھری (ایم اے انگلش ، پٹنہ یونیورسٹی) نے اپنا انگریزی پیپر انھوں نے کہا کہ میں الرسالہ انگریزی کی مستقل قاری ہوں۔ مجھے اس کے پیغام سے اتفاق ہے۔ الرسالہ کرکٹ تھنکنگ پیدا کرتا ہے۔ میری تمنا ہے کہ میں سماج کی اصلاح کے لئے الرسالہ کے انداز میں کام کروں۔ ان کے مقالہ کا ایک جز یہ تھا :

The publication of Al-Risala in Hindi, Urdu and English provides people across the country with ample scope to introduce themselves with reason and rationalism. اس کے بعد حافظ محمد حفظ الرحمان صاحب (رضا ہائی اسکول ، پٹنہ) نے اپنا اردو مقالہ پیش

انھوں نے اپنی زندگی کے کچھ تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ الرسالہ ہم کو اعراض کی تعلیم دیتا ہے۔ زندگی کی کامیابی کے لئے بے حد اہم ہے۔ اعراض کا مطلب بزدلی نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس آدمی کے اندر اعراض کی صفت آجائے وہ سب سے زیادہ بہادر آدمی ہے۔

اس کے بعد پروفیسر ایس شہاب الدین دسنوی اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے اپنا مقالہ پڑھا۔ ان کا مقالہ انگریزی میں تھا۔ انھوں نے اپنے مقالہ میں الرسالہ کے نقطہ نظر سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو اپنی تعمیر نو کے لئے اپنا ذہن بدلنا چاہئے : Muslims should consider changing their own thinking which may lead to building up their own strength and help them in the reconstruction of ذکیہ مشہدی صاحبہ نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ مجھے الرسالہ کے پیغام سے پورا اتفاق ہے۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کے مشن کو آگے بڑھانے کے سلسلہ میں اپنی بساط کے مطابق میں پورا تعاون کرنے کے لئے تیار ہوں۔ یہ قوم وملک کی بہترین خدمت ہے۔

واصف امام صاحب نے اپنے انگریزی مقالہ میں الرسالہ کے مشن سے مکمل اتفاق کیا۔ نے کہا کہ الرسالہ کی تاثیر اتنی غیر معمولی ہے کہ کوئی بھی شخص پڑھنے کے بعد اس کو نظر انداز نہیں کر سکتا: One can like Al-Risala, one can dislike Al-Risala, but one cannot ignore Al-Risala. شفیع مشہدی صاحب نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ الرسالہ اپنی ذات میں ایک آفاقی پیغام بن چکا ہے۔ وہ محض کسی قوم کے لئے نہیں، محض کسی ملک کے لئے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے

مسٹراے خان (میجر، انڈین بینک) نے اپنے انگریزی مقالہ میں الرسالہ کے مشن کی تائید کی اور اس کو مسلمانوں کے لئے صحیح راہ عمل بتایا۔ انھوں نے کہا : Al-Risala's stand on peaceful co-existence .is essentially a message to Muslims محمد رضی احمد صاحب نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ الرسالہ ایک عظیم تعمیری منصوبہ ہے۔

بزدلی کا سبق نہیں بلکہ بہادری کی تعلیم ہے۔ یہ بے عملی کا نہیں بلکہ حقیقی عمل کا پیغام ہے۔ ڈاکٹر متری نوابس صاحب نے انگریزی میں اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے الرسالہ کے تعمیری پیغام کی پوری حمایت کی۔ انہوں نے واضح لفظوں میں کہا :

Every Hindu must read Al-Risala for purity of heart and cleansing of head. ڈاکٹر ایل اے خان دیگھانے انگریزی میں اپنا مقالہ پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ الرسالة صرف ایک میگزین نہیں ہے بلکہ وہ ایک تحریک ہے۔ وہ روح اور دل اور دماغ کے لئے ایک انقلاب

Al-Risala is not a magazine but a movement, a change and a revolution of soul, mind and heart. ایس خالد رشید صاحب نے ہندی میں اپنا مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے الرسالہ کے پیغام کی حمایت کی اور کہا کہ الرسالہ مانو مولیہ (انسانی قدروں) کے پر چار میں دلوں کو دل سے جوڑنے میں، اور نفرت کو پیار سے بدلنے میں سہل ہوا ہے ۔ اور یہ آج کے حالات میں بہت بڑی بات ہے۔ ڈاکٹر ایس ایف رب نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ الرسالہ کے مطابق کسی بھی قوم کی ترقی یا تنزل کاراز اس حقیقت میں چھپا ہوا ہے کہ اس کے افراد کے سوچنے کا انداز کیا ہے۔ سوچتا ہے ویسا ہی وہ بن جاتا ہے۔ اس لئے الرسالہ کی کوشش ہے کہ وہ صحیح سوچ والے انسان

ڈاکٹر ڈی ڈی گرونے انگریزی میں اپنا مقالہ پڑھا۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ کی نہیں اگر چہ مذہب ہے مگر وہ ریزن اور عقیدہ کی طرف رہنمائی کرتا ہے نہ کہ جذبات اور عقیدہ کی طرف۔ انہوں نے کہا: Al-Risala refers to a path of reason and faith rather than emotion and faith. یمین ثمرفضل صاحبہ نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ الرسالہ عصری تقاضوں کے پیش نظر پوری دردمندی کے ساتھ قوم کے مسائل کا حل پیش کرتا ہے ۔ وہ مستقبل کی تعمیر کا پیغام ہے۔

نعمان غنی دیوروی نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ الرسالہ کی تحریر بڑی جاندار ہوتی ہے۔ جملوں میں بڑی اچھی اچھی باتیں پڑھنے کو ملتی ہیں۔ الرسالہ اس قابل ہے کہ اس کو اپنی زندگی کا رہنما

پرنسپل بلبیر سنگھ نے اپنے انگریزی مقالہ میں کہا کہ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ الرسالہ کے ذریعہ جس پیغام کی اشاعت کی جارہی ہے وہ براہ راست قارئین کے دل تک پہنچ رہا ہے: I have come to the conclusion that the messages conveyed by Al-Risala go straight to the heart of the reader. ڈاکٹر اختر حسین آفتاب نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ میری نگاہ میں الرسالہ کا شمار اقوال زریں میں ہوتا ہے۔ وہ زندگی کے قیمتی اصولوں کو مختصر الفاظ میں پیش کر رہا ہے۔ ریحانہ خانم صاحبہ نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ تعمیر حیات کی ساری ضروری باتیں (inputs) الرسالہ میں موجود ہیں۔ وہ بتاتا ہے کہ کامیابی کا راز ہے کہ آدمی اپنے ذاتی خول سے باہر آئے اور اپنے ساتھ دوسروں کو بھی شامل کرے۔

کوثر مظہری صاحب (پٹنہ یونیورسٹی) نے اپنے اردو مقالہ میں دوسری باتوں کے علاوہ کہا کہ الرسالہ کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ قرآن و حدیث کی تعلیمات کو عصری اسلوب اور جدید علم کی روشنی میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ڈاکٹر رام شو بھت پر شاد سنگھ نے اپنے ہندی مقالہ میں کہا کہ الرسالہ ایک دو چار انچک اور پر بھاو کاری پتریکا ہے۔ ہر آدمی کو اسے پڑھنا چاہئے۔

ڈاکٹر عبد الصمد صاحب نے اپنے اردو مقالہ میں کہا کہ الرسالہ تحریر کا جادو ہے یہ ہر دور کی ایک زبان ہوتی ہے اور الرسالہ آج کے دور میں آج کی زبان میں بات کرتا ہے۔ اس کا پیغام وقت کے تقاضے کے عین مطابق ہے۔

یہ پیش کئے گئے مقالات کا خلاصہ ہے۔ کچھ اور بھی تنقیدی باتیں بھی شامل ہیں۔ تنقیدوں کی وضاحت مقالات پڑھنے والے بعد میں قارئین کی طرف سے کی جاتی ہیں۔ آئندہ سوال و جواب کے تحت بتایا جارہا ہے۔

Printed page