سوال و جواب
Al-Risala, November 1991, pp. 40–26
By Maulana Wahiduddin Khan
مقالات پڑھنے کے بعد "سوال و جواب" کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس میں حق اختلاف (right to dissent) کا پورا لحاظ رکھا گیا ۔ بعض مقالات میں کچھ تنقیدی باتیں کہی گئی نہیں ۔ نیز سفر کے دوران پٹنہ میں بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ انہوں نے بھی مختلف قسم کے سوال یا اعتراض کئے ۔ ان سب کا تذکرہ یکم طور پر یہاں کیا جاتا ہے ۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ اپنی صبر و اعراض کی پالیسی کے لئے صلح حدیبیہ کی مثال دیتے ہیں۔ حالاں کہ حدیبیہ میں تو جہاد و قتال کی بیعت ہوئی تھی جس کو بیعت الرضوان کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ میں معاہدہ امن کی بات چلا رہے اس درمیان میں یہ خبر مشہور ہوئی کہ مکہ کے لوگوں نے حضرت عثمان بن عفان کو قتل کر دیا ہے۔ وقت آپ نے صحابہ سے وہ بیعت لی جس کو بیعت الرضوان کہا جاتا ہے ۔ صحابی کہتے ہیں کہ ہم نے آپ سے یہ بیعت موت پر نہیں کی تھی بلکہ اس امر پر کی تھی کہ ہم فرار کی راہ نہیں اختیار کریں گے (لم یبايعنا علی الموت ولكن بايعنا علیٰ ان لانفر، البدایہ والنہایہ ۱۶۸/۲۰)
اگر اس بیعت کو قتال کے معنی میں لیں تو نعوذ باللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور تمام صحابہ نے اس کے خلاف عمل کیا۔ کیوں کہ وہ جنگ نہ کر کے عمرہ کئے بغیر مدینہ واپس آگئے ۔ اصل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود تو ساری کوشش معاہدہ امن کے لئے کر رہے تھے ۔ مگر حضرت عثمان کے قتل کی خبر جو غلط تھی ، اس سے وقتی طور پر یہ اندازہ ہوا کہ قریش جنگ پر تلے ہوئے ہیں ، اس لئے آپ نے صحابہ سے بیعت لی کہ اگر ہمارے اوپر جنگ تھوپی گئی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے بلکہ مقابلہ کریں گے۔ اس سے یہ اصول ملتا ہے کہ اگر انتخاب امن اور جنگ کے درمیان ہو تو ہر قیمت پر امن کا انتخاب کیا جائے گا اور جنگ کا طریقہ چھوڑ دیا جائے گا۔ لیکن اگر انتخاب فرار اور جنگ کے درمیان پیش آجائے تو فرار نہیں کیا جائے گا بلکہ متحد ہو کر دشمن کا مقابلہ کیا جائے گا۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ فرقہ وارانہ فسادات میں ہمیشہ مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں ۔ یہ کہاں تک درست ہے ۔ میں نے کہا کہ یہ ہماری بات کی صحیح ترجمانی نہیں ۔ الرسالہ میں جو بات کہی گئی ہے وہ یہ کہ دوسری غلطی نہ کیجئے (الرسالہ ، جنوری ۱۹۹۰ ، صفحہ ۳۲ ) اس دنیا میں " پہلی غلطی" بہر حال
کی جاتی ہے۔ ہندوستان میں اگر ہندو کُر تلہ ہے تو پاکستان میں مسلمان کرے گا۔ پہلی غلطی اس دنیا میں بہر حال ہونے والی ہے۔ اس کے بعد اگر دوسری غلطی نہ کی جائے تو بات اپنے ابتدائی مرحلہ میں ختم ہو جاتی ہے۔ اور اگر بے صبر ہو کر دوسری غلطی کردی جائے تو بات بڑھتی ہے یہاں تک کہ فساد اور ہلاکت کی نوبت آجاتی ہے۔ اس لئے عقلمند وہ ہے جو پہلی غلطی کو برداشت کر لے۔ غلطی کرنے کی غلطی نہ کرے۔ یہی اس دنیا میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کا واحد راز ہے، ہندوستان میں بھی اور ہندوستان کے باہر بھی۔
بیک صاحب نے کہا کہ آپ کی کتابوں کی قیمت زیادہ ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ کتابوں کی قیمت زیادہ نہیں بلکہ زیادہ لگتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ہمارے یہاں خرید کر پڑھنے کا مزاج نہیں۔ لوگ چاہتے ہیں کہ بس مفت لے کر پڑھ لیں۔ اور جب مفت پڑھنے کا مزاج ہو تو جو بھی قیمت رکھی جائے وہی لوگوں کو زیادہ معلوم ہوگی۔
ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ ایک سیٹ پر بیٹھنے کے لئے کہتا ہے۔ کیا اس سے پوری قوم شکست خوردگی اور پس ماندگی کا شکار نہیں ہو جائے گی۔ میں نے کہا کہ ”بیک سیٹ“ کا لفظ علامتی طور پر صرف وقتی تدبیر کے معنی میں ہے۔ اس کا مطلب ہے ابتدائی مرحلہ میں کم پر راضی ہونا تاکہ زیادہ کے لئے جد و جہد کی جاسکے۔ یہ ہر با مقصد انسان کا طریقہ ہے۔ ہر آدمی جو کسی بڑے مقصد تک پہنچنا چاہتا ہو وہ ابتداء پہلے زینہ پر قدم جمانے کے لئے اپنے آپ کو راضی کرتا ہے۔ جو آدمی ابتدائی مرحلہ میں پہلے زینہ پر اپنا قدم رکھنے پر راضی نہ ہو وہ کبھی اگلے زینہ پر پہنچنے کی سعادت حاصل نہیں کر سکتا۔ اس قسم کی رضا مندی اس دنیا میں وقفہ تعمیر حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ایک باپ اگر صرف میٹرک پاس ہو تو اس کو کلرک بننے پر راضی ہونا پڑے گا تاکہ وہ اپنے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے قابل ہو سکے۔ ایسا باپ اگر اپنے آپ کو ”بیک سیٹ“ پر بیٹھنے کے لئے راضی نہ کرے تو وہ اپنے بیٹے کو اگلی سیٹ تک پہنچانے کا خواب پورا نہیں کر سکے گا۔ تدبیر کار کا مسئلہ ہے نہ کہ ہمیشہ کے لئے پس ماندہ بن جانے کا مسئلہ۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ہندوؤں کے جلوس کو اپنے محلہ سے یا مسجد کے سامنے سے گزرنے دیں۔ یہ تو بڑی بے غیرتی کی بات ہے۔ وہ لوگ اشتعال انگیز
الفاظ بولتے ہیں۔ پھر ہم کیسے ان کو اپنے علاقے سے گزرنے دیں۔
میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کے لئے ہمیشہ دو میں سے ایک کا چوائس ہوتا ہے مگر وہ تیسرا چوائس لینا چاہتا ہے جو ممکن نہیں۔ جلوس کے معاملہ میں ہم کو دو میں سے ایک کا چوائس ہے۔ تو جلوس کو برداشت کریں یا فساد کو۔ مگر ہم تیسرا چوائس لینا چاہتے ہیں۔ وہ یہ کہ سرے سے جلوس ہی کو نکلنے نہ دیں جو ناممکن ہے۔ اچھی طرح جان لیجئے کہ یہ ہمارے لئے جلوس اور بے جلوس میں انتخاب کا کا معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ جلوس اور فساد میں انتخاب کا معاملہ ہے۔ اب آپ سوچ لیجئے کہ دونوں میں سے کون سا آپ کے لئے اہون ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ ہر ایک کے اوپر تنقید کرتے ہیں۔ کیا کوئی ہے جو آپ کے نزدیک میں نے کہا کہ یہ صحیح اور غلط کا مسئلہ نہیں ہے، یہ آزادی رائے کا مسئلہ ہے۔ ہر شخص کو اظہار رائے کی آزادی دی گئی ہے۔ چنانچہ صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین کے زمانہ میں تنقید کا عام رواج تھا۔ لوگ سخت ترین الفاظ میں ایک دوسرے پر تنقید کرتے تھے مگر کبھی یہ نہیں کہا گیا کہ تنقید کیوں کہ تنقید کو ختم کرنا تخلیقی فکر کو ختم کرنا ہے۔ اور جس قوم میں تخلیقی فکر کی صلاحیت نہ رہے وہ کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔
اصل یہ ہے کہ یہاں بھی وہی چوائس (انتخاب) کا معاملہ ہے۔ ہمارے لئے صرف دو میں سے ایک کا چوائس ہے۔ تیسرے چوائس کا ہمارے لئے کوئی موقع نہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کے لئے تنقید اور بے تنقید میں چوائس ہے۔ حالاں کہ صحیح یہ ہے کہ آپ کے لئے تنقید اور ذہنی موت میں چوائس ہے۔ اگر تنقید کو ختم کر دیں تو اس کے بعد جو چیز آپ کے حصہ میں آئے گی وہ سادہ معنوں میں بے تنقید نہیں ہے بلکہ ذہنی موت ہے۔ یعنی جمود اور منافقت۔
ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں صرف آپ کے مضامین ہوتے ہیں۔ کسی اور کا مضمون اس میں شائع نہیں ہوتا۔ اس طرح الرسالہ "ون مین شو" بن گیا ہے۔
میں نے کہا کہ الرسالہ ایک مشن ہے اور مشن میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ پھر میں نے مثال دی کہ مولانا یوسف صاحب مرحوم کے زمانہ میں تبلیغ کے ہر جلسہ میں انہیں کی لمبی لمبی تقریر ہوا کرتی تھی۔ مولانا یوسف صاحب کی تقریر کا نام تبلیغی اجتماع تھا۔ مگر کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ تو ون مین شو ہے۔
یہ ہے کہ جو مشن تقریر کی سطح پر پھیلایا جائے اس کو لوگ مشن سمجھتے ہیں، اور جو مشن رسالہ اور کتاب کے ذریعہ پھیلایا جائے اس کو وہ صحافت سمجھتے ہیں۔
اس قسم کا اعتراض کرنے والوں کی مشکل یہ ہے کہ وہ ابھی تک الرسالہ کو صرف ایک میگزین سمجھے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ابھی تک اس کو ایک مشن نہیں سمجھا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کو ایسے اشکالات پیش آرہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی مشن اپنے ابتدائی دور میں دن مین شوہی ہوتا ہے۔ الرسالہ کو کئی مین شو کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کو اس مشن کے اگلے دور کا انتظار کرنا
ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے اب تک اپنا کوئی عملی پروگرام نہیں بتایا۔ پھر آخر آپ کا مقصد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ الرسالہ کا مقصد ، ایک لفظ میں ــــــــ اسلامی بیداری (Islamic awakening) ہے ۔ یعنی موجودہ مسلمانوں میں دوبارہ اسلام کی اس اسپرٹ کو زندہ کرنا جو دورِ اول کے مسلمانوں میں تھی۔ یہی اسلامی اسپرٹ تمام باتوں کا خلاصہ ہے۔ اسپرٹ بیدار ہو تو لوگوں میں ایمان کی حرارت پیدا ہو جائے ۔ عبادتوں میں جان آجائے۔ کردار ابھر آئے ۔ لوگ معاملات و مسائل کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھنے لگیں اور اسلامی ہدایات کے مطابق ان کے حل کی تدبیر کریں۔ اسلامی دعوت کا جذبہ ان کے اندر ابھر آئے ۔ ہماری تشخیص کے مطابق، موجودہ مسلمانوں میں جو اصل چیز کھوئی گئی ہے وہ کوئی ظاہری ڈھانچہ نہیں ہے بلکہ اصل چیز جوان سے کھوئی گئی ہے وہ اندرونی اسپرٹ ہے۔ دوسری تمام چیزیں جو ان میں مفقود نظر آتی ہیں وہ اسی اصل کے نہ ہونے کا نتیجہ ہیں۔
تعمیر ملت کے سلسلہ میں اس بنیادی کام کی اہمیت ہر ایک کو معلوم ہے۔ مگر کوئی اپنے آپ کو اس کام میں نہیں لگاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسرے کاموں میں فوراً لیڈری ملتی ہے، جب کہ اس کام میں لیڈری اور مقبولیت کی کشش موجود نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی قربانی گمنامی کی قربانی ہے۔ یعنی شہرت والے کام کو چھوڑ کر اس کام کو اختیار کرنا جس میں آدمی کو عوامی شہرت
ایک صاحب نے کہا کہ آپ زیادہ تر رسالہ اور کتاب کے ذریعہ اپنا مشن چلا رہے ہیں۔
آپ نے ابھی تک اپنی کوئی مستقل تنظیم قائم نہیں کی۔ ایسی حالت میں آپ کا مشن آئندہ صرف کتب خانوں میں رہ جائے گا، ان نے باہر اس مشن کا کوئی وجود نہ ہوگا۔
میں نے کہا کہ شاہ ولی اللہ دہلوی (۱۷۰۳-۱۷۶۲) نے صرف کتابیں لکھیں۔ اپنے افکار کی بنیاد پر وہ کوئی عملی تنظیم قائم نہ کر سکے۔ پھر کیا شاہ ولی اللہ کا مشن ختم ہوگیا۔ انھوں نے کہا کہ نہیں ۔ وہ شاہ صاحب کے بعد بھی پوری طاقت کے ساتھ زندہ رہا اور آج تک زندہ ہے۔ میں نے کہا کہ پھر آپ کیسے یہ فرض کر رہے ہیں کہ الرسالہ مشن آئندہ ختم ہو جائے گا، صرف اس لئے کہ ہم نے ابھی تک اس کے لئے معروف قسم کی کوئی عملی تنظیم قائم نہیں کی۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اب میں بوڑھا ہوگیا۔ ایسی حالت میں آپ نے اپنے بعد اس مشن کو زندہ رکھنے کا کیا انتظام کیا ہے۔
میں نے کہا کہ کسی مشن کی بقا کا انحصار اس کی اپنی فکری طاقت پر ہوتا ہے نہ کہ کسی خارجی مولانا محمد علی جوہر اور مولانا ابوالکلام آزاد کے دھواں دھار خلافت تحریک اٹھائی۔ وہ ۱۹۲۴ میں ختم ہوگئی جب کہ محمد علی اور ابوالکلام ابھی زندہ تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ خلافت تحریک اگرچہ ہندوستان میں چل رہی تھی مگر اس کا اصل سراترک لیڈروں کے ہاتھ میں تھا۔ اس مثال سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشن اگر اندرونی طاقت سے محروم ہو تو وہ بانی کی موجودگی میں ختم ہو سکتا ہے۔ اور اگر مشن خود جاندار ہے تو وہ بانی کے بعد بھی زندہ اور قائم رہے گا۔ میں نے کہا کہ غور کیجئے کہ الرسالہ مشن کیا ہے۔ یہ مشن مسلمانوں کے لئے اسلام کو ان کی تازہ دریافت (rediscovery) بنانا چاہتا ہے۔ اس کی اساس داخل پر ہے نہ کہ خارج پر۔ ہم اس میں کامیاب ہو جائیں کہ کچھ صاحب صلاحیت افراد کے لئے اسلام کو ان کی از سر نو دریافت بنا دیں تو خود اسلام ان کے لئے ہر دوسری چیز کا بدل بن جائے گا۔ لوگ جس طرح کسی خارجی سہارے کے زور پر حرکت کرتے ہیں، یہ افراد خود اسلام کے ابدی سرچشمہ سے اپنے آپ کو جوڑ کر مزید شدت کے ساتھ متحرک ہو جائیں گے۔ اور اس طرح یہ مشن خود اپنی اندرونی طاقت کے زور پر زندہ رہے گا۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ باتیں تو بہت اچھی اچھی کرتے ہیں، مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے
سامنے کوئی عملی نقشہ نہیں ۔ اس سلسلہ میں میں نے بتایا کہ ستمبر ۱۹۸۹ میں میں ایک عرب ملک میں تھا ، وہاں عرب نوجوانوں کا ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر میں نے الرسالہ کے پیغام کا تعارف کرایا۔ آخر میں ایک نوجوان نے کہا کہ میں نے آپ کی عربی مطبوعات پڑھی ہیں اور آج آپ کا خطاب بھی سنا۔ مگر میں یہ نہ سمجھ سکا کہ آپ کا پروگرام کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مہمارا پروگرام یہ ہے کہ ہم پر وگرام بنانے والے انسان بنائیں (برنامجنا هو اعداد المبرمجين)
یہ اللہ کا فضل ہے کہ اب الرسالہ مشن بالفعل اس مرحلہ میں پہنچ رہا ہے۔ اس کے حلقہ میں پروگرام ساز انسان بننا شروع ہو گئے ہیں ۔ اس کی ایک مثال خود یہ سمپوزیم ہے۔ الرسالہ میں کبھی یہ تصور نہیں دیا گیا تھا کہ لوگ الرسالہ سمپوزیم منعقد کریں ۔ مگر پٹنہ کے قارئین نے خود اپنی سوچ سے الرسالہ سمپوزیم کی اسکیم بنائی اور کامیابی کے ساتھ اس کو عملی مرحلہ تک پہنچایا۔ اسی طرح متعدد مقامات پر ہمارے ساتھیوں نے بطور خود الرسالہ اکیڈمی ، الرسالہ لائبریری جیسی مختلف تحریکیں چلا رکھی ہیں۔ بعض مقامات پر انہوں نے اسکول اور مدرسہ قائم کیا ہے اور اس کو بنیاد بنا کر الرسالہ مشن کی توسیع و اشاعت میں مشغول ہیں۔ اسی طرح باہر کے ملکوں میں کئی مقامات پر اجتماعی انداز میں کام ہو رہا ہے ۔ ایک عرب ملک میں خاص اسی مقصد کے لئے دار الرسالة الرَّبَّانِيَّةِ. قائم کیا گیا ہے ، وغیرہ ۔
مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ وقت آرہا ہے جب کہ ملت کے اندر عمومی سطح پر ایک نئی لہر لوگ بستی بستی اور شہر شہر میں الرسالہ کی فکر کو پھیلانے کے لئے مختلف تحریکیں اس کے نام سے چلائیں ___ مثلاً الرسالہ لائبریری ، الرسالہ ریڈرس فورم ، الرسالہ اکیڈمی ، الرسالہ ریسرچ سنٹر، الرسالہ سمپوزیم ، الرسالہ کانفرنس ، الرسالہ اسٹڈی سرکل ، الرسالہ انفارمیشن سروس ، الرسالہ اسپتال ، الرسالہ اسکول الرسالہ کالج وغیرہ ، وغیرہ ۔ لوگ جگہ جگہ اس طرح کے کام شروع کریں ۔ حتی کہ انشاء اللہ وہ وقت آئے گا جب کہ کچھ لوگ الرسالہ یونیورسٹی قائم کریں گے ، اور ایک نئی تازہ دم ملت بنانے کے لئے اس کو مکمل ادارہ کے طور پر چلائیں گے۔
الرسالہ مشن کی فکری تعمیر کی ہم ہے۔ اس مقصد کے لئے ہمیں ہر ممکن طریقہ اختیار کرنا ہو گا ، یہاں تک کہ قوم کے اندر مطلوبہ فکری انقلاب آجائے۔ الرسالہ مشن کی کامیابی یہ ہے کہ وہ ایک عمومی فکری
انقلاب بن جائے ۔ اگر وہ عام جماعتوں کی طرح محض ایک تشکیلی ڈھانچہ کے روپ میں زندہ رہا تو کم از کم میں اس کو الرسالة مشن کی کامیابی نہیں سمجھوں گا۔
ایک صاحب نے فرمایا کہ آپ کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ مسلم دشمن طاقتوں کی طرف سے آپ کو مدد ملتی ہے اور آپ ان کے تعاون سے اپنا مشن چلا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ جو شخص بھی غور کرے وہ پائے گا کہ یہ ایک بے بنیاد الزام ہے۔ الرسالہ میں سراسر قرآن و حدیث کی دعوت دی جاتی ہے۔ کون مسلم دشمن اور اعداءِ اسلام ہیں جو ہم کو اس لئے مدد دے رہے ہیں کہ ہم قرآن وحدیث والے دین کو دنیا میں پھیلائیں۔
پھر میں نے کہا کہ الرسالة مشن خدا کے فضل سے آتنا طاقت ور ہو چکا ہے کہ وہ خود اپنی بنیاد پر قائم اس کو کسی "دشمن دین" کی مدد لینے کی ضرورت نہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے کہ الرسالة مشن کے حامی اور مؤید ساری دنیا میں بڑی تعداد میں پیدا ہو چکے ہیں۔ اس کا ایک نمونہ آپ نے خود پٹنہ میں آج (۲۸ جولائی ۱۹۹۱) کو دیکھا ہے۔ یہاں سنہا انسٹی ٹیُوٹ میں الرسالہ ریڈرس فورم نے شام کا ایک پرو گرام رکھا تھا جس میں میری تقریر اسلام اور بقائے باہم کے بارہ میں تھی۔ اتفاقاً ایسا ہوا کہ جس وقت انسٹی ٹیُوٹ کے ایک ہال میں میری تقریر تھی، ٹھیک اسی وقت انسٹی ٹیُوٹ کے دوسرے ہال میں بہار کے چیف منسٹر مسٹر لالُو پر شاد کی تقریر تھی۔
دونوں ہال گراؤنڈ فلور پر ہیں اور پاس پاس ہیں۔ حسب معمول دوسرے ہال میں زبردست دھوم تھی ۔ پولیس اور سرکاری لوگ بڑی تعداد میں نظر آ رہے تھے۔ اس کے با وجود ہمارے ہال کی تمام سیٹیں بھر گئیں۔ بہت سے لوگوں کو کھڑا ہونا پڑا۔ لمبی تقریر کے دوران مکمل خاموشی تھی۔ آخر وقت تک لوگ نہایت سکون کے ساتھ تقریر کو سنتے رہے۔ سامعین میں تقریباً نصف ہند و اور نصف مسلمان خود سنہا انسٹی ٹیُوٹ کے کئی لوگ، مثلاً پروفیسر ڈی ڈی گرو (Dr. D. D. Guru) بھی شروع سے آخر تک اس میں شریک رہے۔
میں نے کہا کہ جس مشن میں یہ طاقت ہو کہ وہ لوگوں کو مجبور کرے کہ وہ چیف منسٹر کے اپنے صدر مقام پر چیف منسٹر کا پرو گرام چھوڑ کر اس کا خطاب سننے کے لئے آئیں، اس کو چلانے کے لئے کسی "دشمن دین" کی مدد لینے کی ضرورت نہیں۔ وہ خود اپنے زور پر چل سکتا ہے اور قائم ہو سکتا ہے۔ ان شاء اللہ عز وجل