Energy can neither be created nor destroyed.
Al-Risala, December 1991, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ واقعہ خالق کی قدرت کا طہ کا ثبوت ہے۔ انسان موجودہ دنیا کو صرف استعمال کر سکتا ہے۔ وہ اس کو بدلنے یا اس کو مٹانے پر قادر نہیں۔ اسی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کی حیثیت انسان اس دنیا میں مالک کی حیثیت سے نہیں ہے بلکہ صرف تابع کی حیثیت سے ہے۔ اسی صورت حال کو مذہب کی اصطلاح میں امتحان کہا جاتا ہے۔ انسان اس دنیا میں صرف اس لیے آتا ہے تاکہ وہ محدود مدت میں یہاں رہ کر اپنے امتحان کا پرچہ پورا کرے۔ اس کے بعد وہ یہاں سے چلا جائے گا۔ اس سے زیادہ کسی اور چیز کا اس کو مطلق اختیار نہیں۔
بعض انسان دنیا کے حالات سے مایوس ہو کر خودکشی کر لیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے آپ کو ختم یا معدوم کر رہے ہیں، مگر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ جس طرح دنیا کی اُس توانائی کو مٹایا نہیں جاسکتا جو مادہ کے روپ میں ظاہر ہوئی ہے۔ اسی طرح یہاں اس توانائی کو مٹانا بھی ممکن نہیں جو انسان کی صورت میں متشکل ہوتی ہے۔ انسان کے اختیار میں خودکشی ہے، مگر انسان کے اختیار میں معدومیت نہیں۔ حال علامتی طور پر بتاتی ہے کہ انسان کا معاملہ اس دنیا میں کیا ہے۔
انسان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حقیقت واقعہ کا انکار کر دے۔ مگر حقیقت واقعہ کو بدلنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ سرکشی کرے مگر سرکشی کے انجام سے اپنے آپ کو بچانا اس کے لیے ممکن نہیں۔ انسان کو اختیار ہے کہ وہ اخلاقی پابندی کو قبول نہ کرے مگر اخلاق کی مطلوبیت کو کائنات سے حذف کرنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ انسان کو یہ اختیار ہے کہ وہ جو چاہے کرے مگر اس کو یہ اختیار نہیں کہ اپنے چاہنے ہی کو وہ اُس معیاری اصول کی حیثیت دے دے جس کے مطابق بالآخر تمام انسانوں کا فیصلہ کیا جانے والا ہے۔
انسان اس دنیا میں آزاد ہے، مگر اس کی آزادی محدود ہے نہ کہ لامحدود ۔