نصیحت لقمان
Al-Risala, December 1991, pp. 16–24
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر ۳۱ کا نام لقمان ہے۔ اس سورہ میں لقمان حکیم کا ذکر ہے اور ان کی وہ نصیحت نقل کی گئی ہے جو انھوں نے غالباً اپنی آخر عمر میں اپنے بیٹے کو کی تھی۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے : اور ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر کرو، اور جو آدمی اللہ کا شکر کرے تو وہ اپنے ہی لئے شکر کرتا ہے۔ اور جو آدمی ناشکری کرے تو اللہ بے نیاز ہے، خوبیوں والا ہے۔ اور جب لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے بیٹے، اللہ کے ساتھ شریک نہ ٹھہرانا، بے شک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
اور ہم نے انسان کو اس کی ماں اور باپ کے معاملہ میں تاکید کی۔ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا، اور دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوا، کہ تو میرا شکر کر اور اپنے میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ اور اگر وہ دونوں تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ ایسی چیز کو شریک ٹھہرائے جو تجھ کو معلوم نبیں تو تم ان کی بات کو نہ ماننا۔ اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتاؤ اور تم اس آدمی کے راستہ کی پیروی کرنا جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ پھر تم سب کو میرے پاس آنا ہے۔ پھر میں تم کو بتا دوں گا جو کچھ تم کرتے رہے۔
لقمان نے کہا کہ اے میرے بیٹے، کوئی عمل اگر رائی کے دانے کے برابر ہو، پھر وہ کسی پتھر کے اندر ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو، اللہ اس کو حاضر کر دے گا۔ بے شک اللہ باریک ہیں ہے، باخبر ہے۔ اے میرے بیٹے، نماز قائم کرو، اچھے کام کی نصیحت کرو اور برائی سے روکو اور جو مصیبت تم کو پہنچے اس پر بے شک یہ ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ اور لوگوں سے بے رخی نہ کر، اور زمین میں اکڑ کر نہ چل بے شک اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست کر، بے شک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے (لقمان ۱۲ - ۱۹)
حضرت لقمان کی شخصیت کی تاریخی تفصیلات معلوم نہیں ہیں۔ مفسرین کا عام خیال یہ ہے کہ وہ پیغمبر نہیں تھے۔ البتہ ایک صالح اور حکیم انسان تھے۔ ایک رائے کے مطابق، وہ سیاہ نام حبشی تھے اور ان کا زمانہ حضرت داؤد علیہ السلام کا زمانہ تھا۔ اس سے قیاس ہوتا ہے کہ وہ پیغمبر پر ایمان لائے ہوئے
تھے اور مومن و صادق تھے۔ مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ربانی حکمت بھی عطا فرمائی تھی۔ حکم یا حکمت سے مراد فہم اور بصیرت ہے۔ ایک ہے دین کی معلومات ہونا، دوسری چیز ہے دین کی معلوماتی واقفیت کا تعلق ظاہری الفاظ سے ہوتا ہے۔ اور عارفانہ بصیرت کا تعلق گہری یافت قرآن کے مطابق، حضرت لقمان نہ صرف دین کے مسائل اور احکام سے واقف تھے بلکہ وہ دین میں گہری بصیرت رکھتے تھے۔ وہ معرفت کے درجہ میں خدا کے دین کو پائے ہوئے تھے۔ وہ دین خدا وندی کو اس کی گہرائیوں کے اعتبار سے جانتے تھے۔
حضرت لقمان کو جو حکمت عطا ہوئی تھی، اس سے انھوں نے جو سب سے پہلا سبق پایا وہ شکر چنانچہ فرمایا کہ لقمان کو ہم نے یہ حکمت دی کہ اللہ کا شکر ادا کرو۔ غیر حکیم آدمی چیزوں کو جیسا دیکھتا ہے ویسا ہی وہ ان کو مان لیتا ہے۔ اس لئے غیر حکیم آدمی کی نظر ہمیشہ چیزوں کے ظاہر پر اور ان کے سطحی پہلوؤں تک محدود رہتی ہے۔ اس کے برعکس حکیم آدمی چیزوں پر غور کرتا ہے۔ اس طرح وہ چیزوں کی گہرائی تک پہنچتا ہے۔ وہ چیزوں کو ان کے اندر کی حقیقت کے اعتبار سے جان لیتا ہے۔
مثلاً اپنی ذات کے اعتبار سے دیکھئے۔ آدمی ایک زندہ وجود کی حیثیت سے زمین پر چلتا پھرتا ہے۔ وہ طرح طرح کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ غیر حکیم آدمی اپنے اس وجود کو دیکھے گا تو اس کے اندر فخر اور ناز کی کیفیت پیدا ہوگی۔ حتیٰ کہ وہ اپنی صلاحیتوں کی بنا پر گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے گا۔ حکیم کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔
حکیم آدمی اپنے وجود کو دیکھ کر یہ سوچے گا کہ میرا یہ وجود کہاں سے آگیا۔ میں خود تو اپنے آپ کو پیدا نہیں کر سکتا۔ پھر میں کیسے ایک مکمل انسان کی صورت میں دنیا میں موجود ہو گیا۔ یہ سوچ اس کو اس حقیقت تک پہنچائے گی کہ اس کا پیدا کرنے والا خدا ہے۔ یہ دریافت اس کو خدا کے آگے جھکا دے وہ کہہ اٹھے گا کہ خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے انسان بنا کر پیدا کیا۔ حالاں کہ میں خود اپنے آپ کو پیدا نہیں کر سکتا تھا۔
اسی طرح آدمی اپنے آپ کو ایک زمین پر پاتا ہے۔ یہ زمین ایک اتھاہ کائنات کے اندر ایک حیرت انگیزہ انتشار ہے۔ دسیئہ کائنات میں یہ واحد معلوم سیارہ ہے جہاں انسان زندہ رہے اور اپنے لئے تمدن
کی تعمیر کرے ۔ اس زمین پر ضرورت کی ہر چیز انتہائی موزوں تناسب اور انتہائی صحیح مقدار میں موجود ہے۔ زمین اگر کائنات کے دوسرے اجسام ، مثلاً چاند اور مریخ کی مانند ہو تو یہاں انسان کے لئے زندگی گزارنا ناممکن ہو جائے۔
ایک غیر حکیم آدمی اس قیمتی دنیا کو صرف اس حیثیت سے جانے گا کہ وہ اس کے لئے ترقی کا شاندار میدان ہے ۔ وہ دنیا کے مواقع کو استعمال کرکے اپنی زندگی کی تعمیر کرے گا اور سمجھے گا کہ یہ سب میری محنتوں کا نتیجہ ہے۔ مگر حکیم آدمی اس سوچ میں پڑ جائے گا کہ اتنی قیمتی دنیا کیسے ظہور میں آئی ۔ انسان خود تو اپنے لئے ایسی مفید اور موافق دنیا نہیں بنا سکتا۔ پھر کس نے اس کو بنایا۔
یہ حکیم آدمی کے سوچنے کا طریقہ ہے۔ اور جو آدمی اس طرح سوچے ، اس کو اس کی سوچ خالق کی دریافت تک پہنچادے گی۔ وہ اپنے خالق کو دریافت کرکے اس کا شکر ادا کرے گا۔ وہ کہہ اٹھے گا کہ خدایا، یہ تیرا کیسا عجیب احسان ہے کہ تو نے میرے لئے ایک ایسی دنیا بنائی جہاں میری ضرورت اور ترقی کا ہر سامان انتہائی کامل صورت میں موجود ہے۔
اسی طرح ہر معاملہ میں غیر حکیم کی نگاہ سطحی پہلوؤں میں اٹک کر رہ جاتی ہے، اس لئے وہ ان سے صحیح سبق نہیں لے پاتا۔ مگر حکیم آدمی چیزوں کی گہرائی میں جاتا ہے۔ اس لئے اس کی نگاہ چیزوں کی گہرائی تک پہنچ جاتی ہے۔ وہ شکر و سپاس کے جذبہ سے لبریز ہو جاتا ہے۔
شکر سے غافل آدمی اپنی اُس جگہ پر نہیں پہنچتا جو اس کی حقیقی جگہ ہے۔ اس کے برعکس شکر کرنے والا آدمی اپنے اصل مقام کو پا لیتا ہے۔ شکر کا مزاج آدمی کو اپنے رب کی پہچان بھی کرا دیتا ہے ، اور اسی کے ساتھ خود اپنی پہچان بھی۔
" اور لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا جب کہ وہ اس کو وعظ کہہ رہے تھے ۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے جو باتیں کہیں ، وہ وعظ کے انداز میں کہیں ۔ وعظ سے مراد یہ ہے کہ بھلائی کی تلقین ایسے اسلوب میں کی جائے جو دل کو نرم کرنے والا ہو ( هو التذكير بالخير فيما يرق له القلب) مفردات امام راغب ۔
ایک طریقہ یہ ہے کہ بات کو کسی نہ کسی طرح بس سنا دیا جائے ۔ یہ صرف کہنا ہے ، یہ وعظ و نصیحت وعظ اس کہنے کا نام ہے جس میں سنجیدگی ہو ، درد مندی ہو ، خیر خواہی ہو ، نرم گفتاری
ہو ، دل کی تڑپ ہو ، اصلاًاح کا سچا جذبہ ہو، وغیرہ۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے جو باتیں کہیں اس میں ان کا انداز صرف کہہ دینے کا نہیں تھا، بلکہ انھوں نے جو کچھ کہا ، خالص وعظ ونصیحت کے انداز میں کہا۔ اس کے لئے انھوں نے از دل خیزد بردل ریزد کا اسلوب اختیار کیا۔
حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو جو پہلی نصیحت کی وہ یہ تھی کہ تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ ٹھہراؤ۔ شرک کی برائی تمام دوسری برائیوں کی جڑ ہے۔ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کا واقعہ اصل دل کے اندر ابھرتا ہے اور پھر اس کی علامتیں اور اس کے مظاہر خارجی زندگی میں نمایاں ہوتے ہیں۔ شرک بلا شبہ شکر خداوندی کی ضد ہے۔ ایک شخص جس کے اندر اپنے رب کے لئے تشکر کی کیفیت پیدا ہو چکی ہو ، وہ کبھی اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں کر سکتا۔ شرک سب سے بڑی ناشکری ہے۔
آدمی کمپیوٹر کی مانند نہیں ہے۔ اس کے اندر شعور ہے ، اس کے اندر جذبات ہیں۔ ان خصوصیات کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اپنے اندر خوف اور محبت کے جذبات پاتا ہے۔ اس کے اندر تعظیم اور تقدس کا احساس ہوتا ہے۔ اس قسم کے جذبات جو انسان کے اندر پائے جاتے ہیں، ان کا مرکز اگر ایک خدا کو بنایا جائے تو یہی توحید ہے۔ اور اگر ان جذبات کا مرکز خدا کے سوا کوئی اور چیز بن جائے تو اسی کا نام شرک ہے۔ زندگی کا رخ خدا کی طرف ہوتا ہے اور مشرک کی زندگی کا رخ غیر خدا کی طرف ۔
حضرت لقمان نے کہا کہ ”شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ ظلم کا مطلب ہے ــــ کسی چیز کو وہاں رکھنا جو اس کی جگہ نہ ہو (وضع الشيئ في غير موضعه) انسان کے اندر کسی کو بڑا ماننے، کسی کو اپنا سب کچھ سمجھنے، کسی سے امید اور خوف کرنے کے جو لطیف احساسات ہیں، ان کو ایک خدا کے لئے وقف کیا جائے تو یہ گویا ان احساسات کو اپنے صحیح مقام پر رکھنا ہوگا۔ اور اگر ان احساسات کو کسی اور کے لئے وقف کیا جائے تو یہ گویا ان احساسات کو غلط مقام پر رکھنا ہوگا ، پہلا آدمی موحد ہے، اور دوسرا آدمی مشرک۔ اللہ نے انسان کو اس کے والدین کے معاملہ میں حسن سلوک کی تاکید کی ہے۔ اللہ کی شکر گزاری کے بعد انسان کے اوپر فرض ہے کہ وہ اپنے ماں اور باپ کے حقوق ادا کرے۔ ماں اور باپ کے حقوق میں بالقصد کوتاہی کسی حال میں جائز نہیں۔ خدا حقیقی معنوں میں انسان کا پالنے والا ہے۔ اور ماں باپ مجازی معنوں میں انسان کی پرورش کرنے والے۔
خدائی شریعتوں میں ماں باپ کی خدمت کو بہت ضروری بتایا گیا ہے۔ حقوق کی ادائیگی کے اعتبار سے
ان کا درجہ خدا کے بعد ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے انسان تم میرا شکر کرو اور اپنے والدین کا حق ادا دونوں کو ایک ساتھ بیان فرمایا۔
اللہ کی حیثیت منعم حقیقی کی ہے۔ مگر اللہ کے بعد کسی انسان کے ساتھ سب سے زیادہ احسان کرنے والے اس کے والدین ہوتے ہیں۔ خاص طور پر آدمی کی ماں، بچپن میں کئی سال تک اس کو پالنے اور پرورش کرنے کے لئے جو مصیبت اٹھاتی ہے، وہ کسی بھی آدمی کے سلوک سے بہت زیادہ ہے۔ اس لئے باپ اور خاص طور پر ماں کا حق آدمی کے اوپر بہت زیادہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں باپ کی طرف سے اگر آدمی کو شکایت پیدا ہو تب بھی ان کے حقوق میں کمی کرنے کی اجازت نہیں۔
اس عام حکم میں صرف ایک استثناء ہے، وہ یہ کہ اگر ماں باپ کا حکم خدا کے حکم سے ٹکرا جائے تو اس وقت خدا کے حکم کو لے لینا ہے اور ماں باپ کے حکم کو چھوڑ دینا ہے۔ تاہم اس انتہائی موقع پر بھی صرف متعین معاملہ کی حد تک ماں باپ کی خلاف ورزی کرنے کا حکم ہے۔ عام انسانی برتاؤ اور خدمت کے معاملہ میں بدستور ماں باپ کے ساتھ وہی بہتر سلوک کرنا ہے جس کے وہ ماں باپ ہونے کی حیثیت سے مستحق ہیں۔ دینی فرائض کے معاملہ میں ان کی حکم عدولی کی جاسکتی ہے مگر دنیوی تعلقات کے معاملہ میں ان کے ساتھ معروف طریقہ کے مطابق ہی برتاؤ جائے گا۔
"اور پیروی صرف ان کے طریقہ کی کرو جو میری طرف متوجہ ہیں۔ آخر کار سب کو میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر میں تم کو آگاہ کر دوں گا جو کچھ تم دنیا میں کر رہے تھے" یہ پیروی کے سلسلہ میں نہایت اصولی بات ہے۔
عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ باپ دادا یا قوم کے لوگ جو کچھ کیا کرتے ہیں، بس اسی کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔ آدمی جانچے اور پرکھے بغیر، جو کچھ اپنے بڑوں کو کرتے ہوئے دیکھتا ہے، اسی کو خود بھی کرنے لگتا ہے۔ کا طریقہ ہے۔ مزید یہ کہ یہ گمراہی کوئی سادہ گمراہی نہیں ہے۔ آخرت میں اس پر سخت پکڑ ہونے والی ہے۔ اس لئے آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی سمجھ کو استعمال کرے۔ وہ ان لوگوں کا پیرو بنے جو سچی دلیل پر ہیں۔ ان کی پیروی نہ کرے جو عصبیت کی بنیاد پر ایک راستہ اختیار کرلیتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی طرف بلاتے ہیں۔
آدمی کے سامنے ہمیشہ دو قسم کے نمونے ہوتے ہیں۔ ایک وہ لوگ جو اللہ کی طرف متوجہ ہوں۔
اللہ کی طرف رخ کر کے اپنی زندگی کا سفر طے کر رہے ہوں۔ دوسرے وہ لوگ جو اللہ سے منحرف ہوں۔ جو اللہ کی ہدایت سے بے پروا ہو کر خود ساختہ رخ پر چل رہے ہوں۔ پہلا گروہ حق پر ہے اور دوسرا گروہ ناحق پر۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ پہلے گروہ کے راستے پر چلے ، خواہ وہ اس کے غیر ہوں۔ وہ دوسرے گروہ کا نموجو اختیار نہ کرے، خواہ وہ اس کے اپنے لوگ ہوں۔ خدا تقلید حق کو پسند کرتا ہے نہ کہ تقلید رجال کو۔ اس معاملہ میں حق پرستی کا طریقہ کوئی آسان طریقہ نبیں۔ آدمی جب خالص حق کو اپنا رہنما بناتا ہے تو اس کو لوگوں کی طرف سے بہت سی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ تم نے اپنے اکابر کے راستے کو چھوڑ دیا۔ تم اپنی قوم کے مسلک سے دور ہوگئے، مگر آدمی کو اس قسم کی باتوں کی پروا نہیں کرنا چاہئے ۔ آخر کار وہ وقت آنے والا ہے جبکہ خدا تمام حقیقتوں کو ظاہر کر دے۔ اس دن حق پرست لوگ سرخرو ہوں گے ، اور باطل کلام بولنے والی تمام زبانیں بند ہو جائیں گی۔ اس دن نہ ان کے پاس الفاظ ہوں گے کہ وہ بولیں اور نہ کوئی سننے والا ہو گا، نہ ان کی بات کو سنے۔ "کوئی عمل اگر رائی کے دانے کے برابر ہو اور وہ کسی پتھر کے اندر ہو، یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، پھر بھی اللہ اس کو حاضر کرے گا، اللہ باریک ہیں ہے، خبردار ہے۔
موجودہ دنیا میں آدمی مختلف حالات کے درمیان ہوتا ہے۔ کبھی وہ بظاہر ایک چھوٹا عمل کرتا ہے اور کبھی بڑا عمل۔ کبھی وہ چھپے ہوئے مقام پر ہوتا ہے اور کبھی کھلے ہوئے مقام پر۔ کبھی وہ دور ہوتا ہے اور کبھی اس بنا پر آدمی اس غلط فہمی میں پڑ جاتا ہے کہ خدا کو اتنے مختلف احوال کی خبر نہیں ہو سکتی۔ یہ آدمی کی بھول ہے۔ خدا کا خدا ہونا ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ ہر چھوٹے اور بڑے اور کھلے اور چھپے عمل کو جانے۔ وہ ہر نوعیت کے عمل سے پوری طرح باخبر ہو۔
آدمی کو چاہئے کہ وہ ہر آن اپنے آپ کو اللہ کی نگرانی میں سمجھے۔ وہ اس یقین کے ساتھ دنیا میں رہے کہ اللہ اس کو پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ جن لوگوں کے دل میں یہ احساس بیٹھ جائے ، ان کی پوری زندگی احتیاط اور ذمہ داری کی زندگی بن جائے گی۔ وہ بولیں گے تو اس احساس کے ساتھ بولیں گے کہ خدا ان کی بات کو سن رہا ہے۔ اور کچھ کریں گے تو یہ سوچتے ہوئے کریں گے کہ خدا ان کو ہر جگہ اور ہر لمحہ دیکھ رہا ہے۔
پھر فرمایا کہ نماز قائم کرو۔ آدمی کو جب اللہ کی معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ اللہ ہر لمحہ اس کی نگرانی کر رہا ہے اور آخر کار اس کا حساب لینے والا ہے،
تو فور اُس کے اندر عبدیت کا احساس جاگ اٹھتا ہے، وہ اللہ کے آگے اعتراف عجز کے طور پر گر پڑتا ہے۔ اسی کا نام نماز ہے۔ نماز کی حقیقت اللہ کی بڑائی کو مان کر اس کے آگے اپنے آپ کو چھوٹا کر لینا ہے۔ آدمی کے دل کے اندر پیدا ہوتی ہے اور نماز اس کیفیت کو خارجی صورت میں متشکل کرتی ہے۔ پھر فرمایا کہ لوگوں کو معروف کا حکم دو اور انہیں منکر سے روکو ، اور جو مصیبت تم کو پہنچے اس پر صبر یہ بے شک ہمت کے کاموں میں سے ہے۔
معروف سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو پسندیدہ اخلاق کی حیثیت رکھتی ہیں۔ مثلاً ایک دوسرے کی کمزوروں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا۔ معاملات میں انصاف کا طریقہ اختیار کرنا، لوگوں کے درمیان بھائی اور خیر خواہ کی طرح رہنا۔ دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرنا جو آدمی چاہتا ہے کہ خود اس کے ساتھ
منکر سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو اخلاقی اعتبار سے ناپسندیدہ سمجھی جائیں۔ مثلاً دوسروں کا حق ادا لوگوں کے ساتھ ظلم اور سرکشی کا رویہ اختیار کرنا ، عہد پورا نہ کرنا ، فخر و غرور یا کینہ وانتقام کی روش پر چلنا ، غصب اور خیانت کو اپنے لئے جائز کر لینا۔ مومن ایک با اصول انسان ہوتا ہے۔ وہ لوگوں کے درمیان اصول پسند انسان کی طرح زندگی اسی اصول پسندی کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے ساتھ مصالحت آمیز رویہ اختیار نہیں وہ لوگوں کو بتاتا ہے کہ انھیں کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں کرنا چاہئے! کسی کو وہ غلط کام کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کو ٹوکتا ہے اور اس کو صحیح کام کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ وہ حق پر عمل کرنے کے ساتھ حق کا اعلان بھی کرتا ہے۔ اس کے لئے یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ بھلائی اور برائی کے معاملہ میں غیر جانب دار بن کر رہ سکے۔
اس کام کو صحیح طور پر انجام دینے کے لئے صبر بہت ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں مختلف اسباب سے ایسا ہوتا ہے کہ ناصح کو اپنے مخاطب کی طرف سے تکلیف پہنچتی ہے۔ کبھی اس کی روک ٹوک کی وجہ سے لوگوں میں غصہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے وقت میں اگر ناصح رد عمل کا طریقہ اختیار کرے تو اس کے اور مخاطب کے درمیان نزاع کا ماحول قائم ہو جائے گا، اور نزاع کے ماحول میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام موثر طور پر انجام نہیں دیا جا سکتا۔
دعوت و اصلاح کا کام کوئی چیخ پکار کا کام نہیں۔ یہ بے حد سنجیدہ کام ہے۔ اس کو کرنے کے لئے آدمی کو عام اخلاقی سطح سے اوپر اٹھنا پڑتا ہے۔ اس کو وہی لوگ انجام دے سکتے ہیں جو نفع و نقصان اور تعریف و تنقید اور موافقت و مخالفت سے بلند ہو کر کام کرنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ " اور لوگوں کے ساتھ بے رخی نہ کر اور زمین میں اکڑ کر نہ چل۔ بے شک اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔
آدمی کو جب کوئی ایسی چیز مل جائے جس میں بظاہر وہ دوسروں سے زیادہ دکھائی دیتا ہو۔ مثلاً صحت، مال، عہدہ، طاقت، خاندانی شرف، وغیرہ۔ تو ایسے موقع پر اس کے اندر فخر اور اکڑ کا مزاج پیدا ہو جاتا ہے وہ دوسروں کے ساتھ تکبر کا معاملہ کرنے لگتا ہے۔ ایسی روش بہت بڑا جرم وہ کسی حال میں اللہ کو پسند نہیں۔
آدمی کو کوئی چیز کم ملے یا زیادہ، دونوں ہی اللہ کی طرف سے ہے۔ دونوں ہی امتحان کا پرچہ ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ دونوں حالتوں میں وہ اپنی ساری توجہ اس پر لگائے کہ وہ اللہ کی آزمائش میں پورا اتر سکے، نہ یہ کہ کم ملے تو پست ہمت ہو جائے اور زیادہ ملے تو گھمنڈ اور برتری میں مبتلا ہو جائے۔ زیادہ پا کر فخر اور اکڑ میں مبتلا ہو جائے وہ بندوں کے سامنے بڑا بننے کی کوشش میں خدا کی نظروں اپنے کو چھوٹا اور حقیر بنا لیتا ہے، اور جو آدمی خدا کی نظر میں حقیر ہو جائے اس کو پھر کوئی بڑائی ملنے والی نہیں۔ " اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز کو پست کر۔ بے شک سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔
" اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر" یہاں ظاہری کیفیت کا لفظ بول کر باطنی کیفیت کی اصلاح کی طرف متوجہ کیا گیا ہے۔ آدمی کو جب کوئی چیز مل جائے ۔ مثلاً صحت ، طاقت ، دولت ، عہدہ ، اقتدار، وغیرہ تو اس کے مزاج میں بڑائی کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا اثر اس کی چال سے ظاہر ہوتا اس کے برعکس اگر ظاہری چیزوں میں اس کو کم حصہ ملے، وہ کسی نقصان سے دوچار ہو جائے تو اس کی چال میں پست ہمتی اور احساس کمتری کا انداز دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ دونوں ہی چیزیں غلط ہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ اعتدال پر قائم رہے۔ اس کو کچھ ملے تو وہ فخر والی چال نہ چلے، اور اگر اس سے کچھ کھو جائے تو وہ مایوسی کی چال نہ اختیار کرے۔
اسی طرح انسان کو گدھے کی مانند نہیں ہونا چاہئے۔ گدھا صرف ایک قسم کی آواز نکال سکتا ہے۔ وہ جب بھی بولے گا، کرخت اور بھدی آواز ہی بولے گا۔ لیکن انسان دونوں قسم کی آواز اپنے منہ سے نکالنے پر قادر ہے۔ سخت آواز بھی اور نرم آواز بھی۔ اللہ نے انسان کو اختیار دیا ہے تاکہ وہ اس کو آزمائے۔ طرح اللہ تعالیٰ انسان کو یہ خصوصی کریڈٹ دینا چاہتا ہے کہ اس نے خود اپنے آزادانہ فیصلہ کے تحت کڑی آواز کا طریقہ چھوڑ دیا۔ اور صرف نرم آواز اپنے منہ سے نکالی۔ جو لوگ اپنے ملے ہوئے اختیار کا اس طرح صحیح استعمال کریں وہ اللہ کے یہاں بہت بڑا انعام پائیں گے۔