Al-Risala · December 1991

خلاصہ کلام

Al-Risala, December 1991, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں حضرت لقمان کا حوالہ جس طرح دیا گیا ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن کے نزدیک، لقمان کی حیثیت ایک مثالی باپ کی ہے۔ ایک باپ کے جذبات اپنے بیٹے کے بارہ میں کیا ہونے چاہئیں، اس کا بہترین نمونہ حضرت لقمان کی زندگی میں ملتا ہے۔

حضرت لقمان اپنے بیٹے سے نہ ذاتی حقوق کی کوئی بات کہتے اور نہ مادی یا دنیوی مفاد کے بارہ میں اس کو کوئی مشورہ دیتے ۔ وہ جو کچھ کہتے ہیں، تمام ترحق و صداقت کے بارہ میں کہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بیٹے سے ناصحانہ انداز میں کلام کرتے ہوئے اس کو توحید کی وصیت کی۔ انھوں نے اس کو اللہ کے سامنے جواب دہی کی یاد دلائی۔ انھوں نے اس کو اللہ کی عبادت اور عمل خیر کی تلقین کی۔ انھوں نے اس کو تاکید کی کہ دین کی راہ میں خواہ مشکلات و مصائب پیش آئیں ، تم کو ہر حال میں صراط مستقیم پر ثابت قدم رہنا کسی حال میں اس سے ہٹنا نہیں چاہئے۔

پھر حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو تاکید کی کہ لوگوں کے درمیان وہ اچھے اخلاق کے ساتھ رہے، وہ تواضع اور اعتدال کی روش اختیار کرے ۔ اس کی روح میں عبدیت اس طرح شامل ہو جائے کہ اس کا اثر اس کے جسم پر اور اس کے اعضاء و جوارح پر ظاہر ہونے لگے۔ وہ دنیا میں انسان بن کر رہے، وہ گدھے کی مانند نہ ہو جائے۔ " گدھے کی طرح نہ بولو، کیوں کہ گدھے کی آواز سب سے بری آواز ہے" ـــــ حضرت لقمان کے اس قول میں بظاہر صرف گدھے کی آواز کا ذکر ہے۔ مگر آواز کا لفظ یہاں حصر کے طور پر نہیں بلکہ علامت کے طور پر ہے۔ اس کا پورا مطلب یہ ہے کہ تم دنیا میں انسان بن کر رہو، تم گدھے بن کر نہ رہو۔ تم کو اوصاف انسانی کا پیکر ہونا چاہئے نہ کہ اوصاف حیوانی کا پیکر ۔

بیٹا کسی آدمی کے لئے اللہ کی ایک نعمت ہے۔ بلکہ وہ سب سے بڑی نعمت ہے۔ کوئی شخص خود سے اپنے لئے ایک بیٹا پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ صرف اللہ ہے جو کسی کو بیٹا جیسی قیمتی چیز عنایت فرماتا ہے۔ کارخانہ قدرت کے سوا کہیں اور سے ایک بیٹے کی تخلیق ممکن نہیں۔

آدمی کو چاہئے کہ وہ اس عظیم نعمت پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ جب اس کو اولا دملے تو اس کو تمام تر اللہ کا عطیہ سمجھے۔ اس عطیہ کی شکر گزاری میں وہ ہمہ تن اللہ کا فرماں بردار بندہ بن جائے اور اپنی اولاد کے لئے بھی یہی چاہے کہ وہ اللہ کی اطاعت وفرماں برداری میں زندگی

آدمی کو چاہئے کہ وہ ایسا باپ بنے جس کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہو کہ اس کا بیٹا صحیح معنوں میں اللہ والا بن کر دنیا میں رہے، وہ اللہ سے ڈرنے والا ہو۔ وہ پوری طرح اللہ کا عبادت گزار بن جائے، وہ لوگوں کا خیر خواہ ہو۔ وہ تمام بڑوں کے ساتھ اپنے بھائی جیسا سلوک کرے اور تمام چھوٹوں سے وہ معاملہ کرے جو وہ اپنی اولاد کے ساتھ کرتا ہے۔

اللہ سے تعلق جب صحیح معنوں میں پیدا ہوتا ہے تو وہ آدمی سے اس کی انا کو چھین لیتا ہے۔ اس کے بعد اس کی سرکشی ختم ہو جاتی ہے۔ ایسے آدمی کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے لگتا ہے ۔ لوگ اس کو تکلیف پہنچائیں تب بھی وہ لوگوں کو تکلیف نہیں لوگوں کے منفی رویہ کے باوجود وہ ان کے ساتھ مثبت رویہ کے اصول پر قائم رہتا ہے۔ ایسا آدمی ہر معاملہ میں اللہ کی پسند کو اپنا ر ہنما بنا لیتا ہے نہ کہ ذاتی پسند کو۔ وہ ہر ایک کے ساتھ خدا کے مقرر کئے ہوئے اصول کے تحت معاملہ کرتا ہے نہ کہ اپنے نفس سے اٹھنے والی خواہشوں

Printed page