مسئلہ کا حل
Al-Risala, December 1991, pp. 26–28
By Maulana Wahiduddin Khan
ستمبر ۱۹۸۹ء میں ایک بیرونی سفر پر تھا۔ اس سفر کے دوران میری ملاقات ایک شیعہ بزرگ محمد عباس کاظمی سے ہوئی ۔ وہ دہلی میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۴۷ء کے انقلاب میں وہ لاہور چلے گئے اب وہ ایک پاکستانی شہری کی حیثیت سے لاہور میں رہتے ہیں۔
گفتگو کے دوران میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے برصغیر ہند کا ۱۹۴۷ء سے پہلے کا زمانہ بھی دیکھا ہے، اور ۱۹۴۷ء کے بعد کا بھی ۔ یہ بتائیے کہ دونوں زمانوں میں آپ نے کیا فرق پایا۔ غم انگیز لہجہ میں جواب دیا ۔ بس یہ فرق ہے کہ غیر منقسم ہندوستان میں ہندو اور مسلمان کے درمیان جھگڑے ہوتے تھے، اب پاکستان میں شیعہ اور سنی کے درمیان وہی جھگڑے ہو رہے ہیں (رسالہ مارچ ۱۹۹۰ء، صفحہ ۳۲ - ۳۳ )
اسی نوعیت کا ایک شیعہ سنی جھگڑا کراچی میں ۴ جولائی ۱۹۹۱ء کو ہوا۔ شیعہ فرقہ کا ایک جلوس سنیوں کی مسجد کے سامنے سے گزرا۔ اس پر سنیوں کو اعتراض ہوا۔ انھوں نے مطالبہ کیا
کہ جلوس کی روٹ بدلی جائے۔ شیعہ لوگ روٹ بدلنے پر راضی نہیں ہوئے۔ اس پر دونوں میں لڑائی شروع ہوگئی جس میں پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔ مقابل کی تصویر (ٹائمز آف انڈیا ۱۶ جولائی ۱۹۹۱) میں پولیس سنی فرقہ کے لوگوں پر لاٹھی چارج کر رہی ہے جو شیعہ جلوس کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہے تھے۔
پاکستان اس لئے بنوایا گیا تھا کہ غیر منقسم ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان جھگڑے ہوتے تھے۔ اس لئے مسلمانوں کے لیڈروں نے کہا کہ ہمیں ایک خطہ چاہئے جہاں سب مسلمان ہوں۔ تاکہ وہاں جھگڑے نہ ہوں اور ہم امن و سکون کے ساتھ رہ سکیں۔ پاکستان بن گیا تو معلوم ہوا کہ مسلم لینڈ میں بھی وہی تمام جھگڑے جاری ہیں۔ جو صرف ہند و لینڈ کی خصوصیت سمجھے جاتے تھے۔
اصل یہ ہے کہ جھگڑے کا تعلق ہند و لینڈ اور مسلم لینڈ سے نہیں۔ جھگڑے کا تعلق جھگڑا کرنے والوں کے مزاج سے ہے۔ اگر لوگوں کے اندر تحمل کا مزاج ہو تو کہیں جھگڑا نہیں ہوگا۔ اور اگر تحمل کا مزاج نہ ہو تو ہر جگہ جھگڑا ہوگا، خواہ وہ کوئی بھی جگہ کیوں نہ ہو۔
زندگی خلاف مزاج باتوں کو بر داشت کرنے کا نام ہے۔ اس برداشت کے بغیر کہیں بھی امن و سکون کا ماحول نہیں بن سکتا۔ خاندان کے اندر بھی اس کی ضرورت ہے۔ بستی کے اندر بھی اور پورے ملک کے اندر بھی۔ ایک فرقہ کے سماج میں بھی اسی سے امن قائم ہو سکتا ہے اور کئی فرقہ کے سماج میں بھی۔
جہاں بھی کچھ انسان مل کر رہیں، خواہ وہ ایک مذہب اور کلچر کے ہوں یا کئی مذہب اور کلچر کے۔ لازماً ایک دوسرے کے درمیان ٹکراؤ کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان مواقع کی پیدائش کو بند نہیں کیا جاسکتا، البتہ ان کو نقصان کی حد تک جانے سے روکا جا سکتا ہے۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ جب ٹکراؤ کی نوبت آئے تو اس کو حسن تدبیر سے دفع کرنے کی کوشش کی جائے۔ صبر کے ذریعہ اس کو اس کے ابتدائی مرحلہ میں ختم کر دیا جائے۔ اس کے سوا جو بھی صورتیں ہیں وہ سب مسئلہ کو بڑھانے کی صورتیں ہیں نہ کہ مسئلہ کو گھٹانے کی صورتیں۔ جو چیز غیر فطری ہو اس کو آپ کوشش کرکے ختم کر سکتے ہیں۔ مگر ایک فطری چیز کو ختم کرنا دسمبر 1991 البلاغ 27
کسی حال میں ممکن نہیں۔ سماج کے اندر مختلف افراد اور گروہوں کے درمیان اختلاف کا پیش آنا عین فطری ہے، اس لئے اس کو کسی بھی طرح ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا حل صرف یہ ہے کہ اس کو انگیز اعراض اور صبر کی تدبیروں سے اس کو اپنے لئے بے ضرر بنا دیا جائے۔ تقسیم (۱۹۴۷ء) سے پہلے کے دور میں جلوس پر جھگڑے کا ایک واقعہ بمبئی میں ہوا۔ کا ایک جلوس باجا بجاتا ہوا ایک مسجد کے سامنے سے گزرا۔ اس پر مسجد کے مسلمان متولی نے اعتراض یہاں تک کہ معاملہ عدالت تک پہنچ گیا۔ متولی نے انگریز عدالت کے سامنے اپنا یہ دعوی پیش کیا کہ ہندوؤں کو اس کی مسجد کے سامنے سے جلوس نکالنے سے روک دیا جائے۔ بمبئی کے ایک مشہور مسلم رہنما نے اس کیس کی وکالت کی۔ ان کی وکالت کامیاب رہی۔ انگریز جج نے یہ فیصلہ دیا کہ مذکورہ مسجد کے سامنے عدالتی حکم کے تحت یہ بورڈلگا دیا جائے کہ اس کے سامنے ہندوؤں کو جلوس نکالنے کی اجازت نہیں۔
مذکورہ مسلم رہنما اس کے بعد مسلمانوں کے درمیان خوب مقبول ہوئے۔ ان کو مسلمان اپنا عظیم رہنما اور ملت کا نجات دہندہ سمجھنے لگے۔ مگر یہ صرف نا سمجھی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ قیادت نہیں تھی، بلکہ برعکس رہنمائی تھی۔ مذکورہ رہنما اگر دانش مند ہوتے تو وہ مسلمانوں سے کہتے کہ جلوس کے مسئلہ کا حل اس کو ختم کرنا نہیں ہے بلکہ اس کو برداشت کرنا ہے۔ اس قسم کی چیزیں ہر سماج میں جاری حتی کہ خامض مسلم سماج میں بھی۔ اس لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ان کو نظر انداز کیا جائے نہ کہ بے فائدہ طور پر ان سے الجھا جائے۔
ایک بچے نے پھول توڑا۔ اس کا ہاتھ کانٹے سے زخمی ہو گیا۔ وہ روتا ہوا اپنے باپ کے پاس اب یہ باپ کی نادانی ہوگی اگر وہ پھول کے درخت سے کانٹے کا وجود ختم کرنے کی مہم چلائے۔ اس کے برعکس اس کو چاہئے کہ خود اپنے بیٹے سے کہے کہ اس دنیا میں ہر پھول کے ساتھ کانٹا موجود رہے اس لئے تم کانٹے کے ساتھ جینا سیکھو نہ کہ کانٹے کا وجود مٹانے کی بے فائدہ کوشش کرو۔ بمبئی کے واقعہ میں مسلم قیادت اگر مسلمانوں کو صحیح رہنمائی دیتی تو آج مسلمانوں کی تاریخ دوسری ہوتی۔ مگر غلط رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان سو سال سے جلوس کے جھگڑوں میں مبتلا ہیں، ہندوستان میں بھی اور اسی طرح پاکستان میں بھی۔ تعمیر کے بہترین امکانات کے درمیان وہ بے تعمیر حالت میں پڑے ہوئے ہیں۔