خدا کی حفاظت میں
Al-Risala, January 1991, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام دین محفوظ ہے۔ مسلمان اس دین محفوظ کے حامل ہیں۔ مسلمانوں کی اس حیثیت نے ان کو بھی ایک محفوظ گروہ بنا دیا ہے۔ جس طرح اسلام کو مٹانا ممکن نہیں، اسی طرح مسلمانوں کو مٹانا بھی ممکن اسلام اور مسلمانوں کے لئے خدا کی یہ حفاظت جاری رہے گی، یہاں تک کہ قیامت آجائے۔ مسلم امت کے ساتھ خدا کے اس معاملہ کا اظہار بار بار ہوا ہے۔ دور اول میں کہ مسلمانوں کے قیام کو ناممکن بنا دیا گیا۔ عین اس وقت مدینہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لئے ایک طاقت ور مرکز فراہم کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عرب قبائل میں عمومی بغاوت پیدا ہو گئی جس کو تاریخ میں فتنہ ارتداد کہا جاتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی مدد سے فتنے کے پیدا ہوتے ہی اس کو کچل دیا۔ خلافت راشدہ کے زمانہ میں رومی شہنشاہیت اور ایرانی شہنشاہیت نے مسلمانوں کو ختم کرنا چاہا مگر اللہ کی مدد سے مسلمان خود ان شہنشاہیتوں کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔ اس کے بعد یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے متحدہ طور پر مسلم دنیا پر حملہ کر دیا تا کہ شام و فلسطین پر قبضہ کر لیں۔ مگر دو سو سالہ جنگ کے باوجود ان کو مکمل شکست ہوئی۔ آخری عباسی خلیفہ کے زمانہ میں تاتاری قبائل نے مسلم سلطنت کو تاراج کر دیا۔ سمرقند سے لے کر بغداد تک تمام مسجدوں کو ڈھا مگر صرف پچاس سال کے اندر تاریخ بدل گئی۔ تاتاریوں نے اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے ڈھائی ہوئی مساجد کو دوبارہ تعمیر کیا اور ان مسجدوں میں سجدہ کر کے خدا کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اقرار کیا۔ انیسویں صدی کے وسط میں مغل سلطنت ختم ہوئی۔ بیسویں صدی کے آغاز میں عثمانی خلافت کا خاتمہ ہو گیا۔ بظاہر ایسا معلوم ہوا کہ اب مسلمانوں کے لئے دنیا میں کوئی مستقبل نہیں۔ جنگ عظیم کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ دنیا کے نقشہ پر پچاس سے زیادہ کی تعداد میں آزاد مسلم ممالک وجود میں آگئے ہیں اور تمام اسلامی سرگرمیاں از سر نو نئی قوت و وسعت کے ساتھ جاری ہو گئی ہیں۔ مسلمانوں کو امت مرحومہ کہا جاتا ہے، یہ بات صحیح نہیں۔ البتہ مسلمان امت محفوظ ہیں۔ یعنی ان کے اندر بگاڑ کے باوجود ان پر عذاب متأصل نہیں آئے گا، اور کوئی قوم ان پر اتنا قابو نہ پا سکے گی کہ وہ ان کو بالکل مٹا دے۔ اس کا سبب کوئی فضیلت نہیں ہے۔ یہ دنیوی حفاظت مسلمانوں کو تمام تر ختم نبوت کے
طفیل میں حاصل ہوئی ہے۔
موجودہ زمانہ میں اس سنت الہی کا ظہور بہت بڑے پیمانہ پر ہوا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو مسلم رہنما اٹھے، انھوں نے اپنی غلط رہنمائی سے مسلمانوں کا یہ حال کر دیا کہ وہ اپنے اندر کسی بھی قسم کی بنیاد (base) فراہم نہ کر سکے۔ بے شمار ہنگامہ خیز تحریکیں صرف ان کی قوتوں کو ضائع کرتی رہیں۔ کوئی بھی تحریک انھیں وقت کی چیزوں میں سے کوئی چیز نہ دے سکی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے برتر انتظام کے تحت انھیں ہر چیز فراہم کر دی۔
لیڈروں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں مسلمان جدید اقتصادیات میں اپنی جگہ نہ بناسکے۔ کہ وہ زمانہ جدید کے ہرت بن کر رہ جائیں۔ مگر عین وقت پر تیل کا خزانہ ظاہر ہوا۔ مسلم ملکوں کی زمین کے نیچے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے تیل کے ذخائر کا ۵۰ فی صد سے بھی زیادہ حصہ رکھ دیا۔ اس قدرتی خزانہ نے مسلمانوں کے اقتصادی پچھڑے پن کی تلافی کر دی۔
کائنات میں ایسے حقائق چھپے ہوئے تھے جو قرآن کے کتاب الہی ہونے کی تصدیق کرنے والے تھے۔ مسلم قائدین اپنے جھوٹے مشغلوں کی وجہ سے حقائق کائنات کی دریافت کے عمل میں نہ لگ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کام مغربی قوموں سے لیا۔ انھوں نے حقائق فطرت کو دریافت کر کے اس بات کی عملی تفسیر فراہم کر دی کہ ہم ان کو آفاق وانفس میں اپنی نشانیاں دکھائیں گے تاکہ ان پر واضح ہو جائے کہ یہ حق ہے (حم السجدہ) اللہ تعالیٰ کو اس دین کی آواز سارے کرۂ ارض کے ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں پہنچانی تھی۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے عالم فطرت کے اندر وسائل اعلام کے نہایت اعلی ذرائع چھپارکھے تھے۔ مگر مسلم رہنما یہاں بھی ان چیزوں کو دریافت کرنے میں ناکام رہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری قوموں کو اس تحقیق پر لگا دیا۔ کہ وہ تمام اشاعتی ذرائع وجود میں آگئے جن کو پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کہا جاتا ہے۔ ذرائع کے ظہور میں آنے کے بعد اب یہ نہایت آسان ہو گیا کہ ان کو استعمال کر کے اسلام کی آواز تمام کرۂ ارض میں پھیلادی جائے۔
اس طرح کے بہت سے پہلو ہیں جو بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح اپنی مدد سے مسلمانوں کی کوتاہیوں کی تلافی مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ خدا کے اس معاملہ کو جانیں اور ان کو استعمال کرتے ہوئے اس خدمت اسلام میں لگ جائیں جس کے لئے ان کے رب نے ان کے ساتھ حفاظت و نصرت کا یہ خصوصی معاملہ فرمایا ہے۔