ہر سخن موقع و ہر نکتہ مکانے دارد
Al-Risala, December 1991, pp. 33–35
By Maulana Wahiduddin Khan
جو لوگ قومی ترقی کے عمل میں توازن کو شاہ کلید بتاتے ہیں وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں اصرار کر رہے ہیں کہ ہم کو ہر محاذ پر بیک وقت ہمہ جہتی عمل کرنا ہو گا ۔ ذہنی بیداری اور تعلیم جیسے کاموں کے ساتھ عین اسی وقت سیاسی عمل اور حقوق طلبی کی مہم بھی پوری طاقت کے ساتھ جاری کرنا ہوگا۔ ورنہ ہم زندگی کی دوڑ میں ناقابلِ عبور حد تک پیچھے ہو جائیں گے۔
حتیٰ کہ ان حضرات کا کہنا ہے کہ اگر کوئی قوم صرف تعلیم یا اقتصادیات کے محاذ کولے کربیٹھ جائے اور اپنے حقوق کو حاصل کرنے اور سیاست میں دوسروں کے شانہ بشانہ چلنے کی کوشش نہ کرے تو وہ حقوق سے تو محروم ہی رہے گی، خود تعلیم اور اقتصادیات کو حاصل کرنے کے مواقع بھی اس کو نہیں
اس قسم کے مضامین یہ مان کر لکھے جاتے ہیں کہ ابھی تک ہم کو قومی اور سیاسی حقوق حاصل نہیں ان کو حاصل کرنا ابھی باقی ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ مذکورہ قسم کے قائدین اور دانشوروں کی اپنی اولاد تعلیمی اور اقتصادی میدان میں اعلیٰ ترقیات حاصل کر رہی ہیں۔ وہ فخر کے ساتھ اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ملت کی تعلیمی اور اقتصادی ترقی کے لئے تو ضروری ہے کہ پہلے سیاسی حقوق کی منزل طے کی جائے مگر خود ان حضرات کی اپنی اولادیں اس منزل کے طے ہونے سے پہلے ہی تمام ترقیاں حاصل کر رہی ہیں۔
اس قسم کی باتیں کرنے والوں کا حال یہ ہے کہ انھوں نے خود اپنے بیٹوں کو سمندر پار کے دسمبر ۱۹۹۱ الرسائل 33
ملکوں میں تعلیم و ترقی کے لئے بھیج رکھا ہے یا ان کو ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ہوسٹلوں میں داخل کر رکھا ہے جہاں وہ ملی سیاست کے ماحول سے الگ رہ کر تعلیمی ترقی کے مراحل طے کر رہے ہیں۔ انھیں قومی حقوق کی سیاست سے پوری طرح دور رکھتے ہیں۔ اپنے بیٹوں کے لئے ترقی کا راز وہ سیاست سے علیحدگی میں سمجھتے ہیں۔ اور قوم کے بیٹوں کے لئے ترقی کار از سیاست کے طوفان میں غوطہ خوری میں۔ ان حضرات کی یہ دہر اپالیسی بتاتی ہے کہ یا تو انھیں اپنی بات پر یقین نہیں، یا ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے بیٹوں کے معاملہ میں سنجیدہ ہیں اور قوم کے بیٹوں کے معاملہ میں غیر سنجیدہ۔ اب توازن اور تدریج کے معاملہ کو ایک اصولی مثال کے ذریعہ سمجھیئے۔ ایک شخص دو ہزار روپیہ مہینہ کماتا ہے۔ اگر وہ ایسا کرے کہ اس میں سے ایک ہزار روپیہ تفریحی مدوں میں خرچ کر دے تو اس سے کہا جائے گا کہ توازن کے ساتھ خرچ کرو۔ یعنی اپنی آمدنی کے لحاظ سے اپنا بجٹ بناؤ۔ زیادہ اہم ہے اس میں زیادہ رقم لگاؤ اور جو مد کم اہم ہے اس میں کم رقم خرچ کرو۔ اور خرچ میں ہم آہنگی قائم کرنے کا مسئلہ ہو تو اس کے لئے کلیدی لفظ توازن ہوگا۔ اب دوسری مثال لیجئے۔ ایک شخص کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ اب توازن کے اصول کو منطبق کرتے ہوئے باپ ایسا کرے کہ جس طرح وہ بچہ کی غذا اور حفاظت کا انتظام کرتا ہے اسی طرح وہ اول روز سے اس کے کان میں سیاست کے اسباق بھی داخل کرنا شروع کر دے۔ وہ اس کو جنس کے رموز سمجھانے کے لئے بھی ایک معلم مقرر کر دے۔ اگر کوئی باپ اس طرح اپنے بچہ کی متوازن تربیت شروع کر دے تو یہ بلاشبہ ایک لغو فعل ہوگا۔ کیوں کہ یہ زند گی کا معاملہ ہے۔ اور زندگی کا ارتقاء ہمیشہ تدریج کے اصول پر ہوتا ہے نہ کہ توازن کے اصول پر۔
توازن بجائے خود ایک اعلیٰ اصول ہے۔ مگر زندگی کی تعمیر کے معاملہ میں کلیدی لفظ توازن نہیں ہے بلکہ تدریج ہے۔ تدرّج کے اصول پر عمل کرکے ہی ہم ترقی کی منزل پر پہنچ سکتے ہیں۔ کے اصول پر عمل کرنے کی صورت میں ہم کہیں نہیں پہنچیں گے۔ خود ہماری قریبی تاریخ میں اس کی واضح مثال موجود ہے۔
اورنگ زیب (۱۷۰۷ - ۱۶۱۸) سے لے کر اب تک کی تاریخ بتاتی ہے کہ برصغیر ہند کے مسلمان سترھویں صدی کے آخر سے لے کر بیسویں صدی کے آخر تک پورے تین سو سال سے
سیاست کے محاذ پر مسلسل زور آزمائی کر رہے ہیں۔ اس طویل مدت میں ایک دن کے لئے بھی انھوں نے یہ "غیر متوازن" طریقہ اختیار نہیں کیا کہ اپنی ساری طاقت صرف ذہنی بیداری کے محاذ پر لگادیں اور سیاست کے عملی محاذ کو خالی چھوڑ دیں۔ اس تین سو سالہ متوازن عمل کے باوجود ملت کی بربادی میں صرف اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ملت کا احیاء اب تک کسی بھی درجہ میں واقعہ نہ بن سکا۔ کیا یہ تجربہ ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ۲۳ سالہ عمر نبوت میں مکمل طور پر تدریجی انداز میں عمل چنانچہ ابتدائی ۱۳ سال تک آپ پوری طرح سیاست اور جہاد کے میدان سے دور اس مدت میں آپ کی ساری کوشش اس امر پر مرکوز رہی کہ آپ لوگوں کے اندر ایمان کی اسپرٹ مکمل طور پر بیدار کر دیں۔ گویا نصف سے زیادہ مدت میں آپ نے عملی سیاست سے "صبر" کا طریقہ اختیار فرمایا نہ کہ اس میں داخل ہونے کا۔
موجودہ زمانہ میں جاپان اس طریق کار کی ایک مثال ہے۔ ۱۹۲۵ء کے بعد اس نے قومی حقوق کی سیاست کو یکسر ترک کر دیا اور صرف سائنسی تعلیم اور ٹیکنکل ریسرچ کے میدان میں اپنی ساری توجہ لگا دی۔ حالات بتاتے ہیں کہ جاپان نے ۳۰ سالہ "غیر متوازن" محنت سے وہ کامیابی حاصل کر لی جو مسلمان ۳۰ سالہ "متوازن" محنت کے بعد بھی حاصل نہ کر سکے۔ ہندوستان میں عیسائی فرقہ عملی سیاست سے بالکل الگ رہتا ہے۔ مگر تعلیم کے میدان میں وہ تمام فرقوں سے آگے ہے۔ مسلمان تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد مسلسل سیاست کے ہنگاموں میں مشغول رہے۔ اس کے باوجود ، ایجو کیشن منسٹری کی رپورٹ کے مطابق، مسلمان سب سے زیادہ تعلیمی پسماندگی میں مبتلا ہیں۔ حتی کہ تعلیم کے میدان میں وہ ہر یجنوں سے بھی زیادہ پیچھے جاچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملہ میں صحیح طریقہ تدریج کا ہے نہ کہ توازن کا۔ تجربہ اور اصول دونوں اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ اس وقت کرنے کا کام یہ ہے کہ ساری قوت ابتدائی تعمیر کے محاذ پر لگادی جائے۔ اس وقت ہم تاریخ کے آغاز میں ہیں ، ہم تاریخ کے اختتام میں نہیں ہیں۔ اور جو لوگ تاریخ کے آغاز میں ہوں ان کے لئے عمل کا اصول صرف ایک ہے۔ اور وہ وہی ہے جس کو الاقدم فالاقدم کہا گیا ہے ۔ اسی کا دوسرا نام تدریج ہے۔