خبر نامه اسلامی مرکز ۷۷
Al-Risala, December 1991, pp. 47–49
By Maulana Wahiduddin Khan
۲۰ جولائی ۱۹۹۱ کو نظام الدین نئی دہلی، میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا ایک اجتماع ہوا۔ اسلامی مرکز نے اس موقع پر دین کی حقیقت" کے بارہ میں مختصر خطاب کیا۔
یوم آزادی (۱۹۹۱) کے پروگرام کے تحت صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کی گئی۔ اس کا موضوع " آزادی اور ہماری ذمہ داریاں" تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ آزادی کے ساتھ اگر اخلاقی پابندی کو نہ قبول کیا جائے تو آزادی دوبارہ نئے قسم کی غلامی بن جاتی ہے۔
نیویارک سے جناب کلیم الدین احمد صاحب نے ٹیلیفون پر بتایا کہ میشی گان کے ایک ۲۲ سالہ امریکی نو مسلم مسٹریئیلی، ایمرک (Yahya Emerick) کو انگریزی الرسالہ کے کچھ پرچے ملے ۔ اس کو پڑھ کر انھوں نے اتنا پسند کیا کہ اپنے پانچ امریکی دوستوں کے نام اپنی طرف سے انگریزی الرسالہ جاری کرایا۔ اس کے علاوہ انھوں نے انگریزی کتا بیں ، گائیڈ ار آنزہ وغیرہ منگائی ہیں اور بہت دلچسپی کے ساتھ مطالعہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صحیح معنوں میں "دعوہ میٹریل اسلامی مرکز کے لٹریچر میں ملتا ہے۔
ایم. کے. کمال الدین صاحب. کیرالا کے باشندے ہیں وہ ۱۹۶۳ سے دبئی میں رہتے ہیں اور وہاں نیو انڈین ماڈل اسکول کے چیئرمین ہیں۔ وہ اپنے انگریزی خط مورخہ ۱۴ جولائی ۱۹۹۱ میں لکھتے ہیں : " میں پچھلے پانچ برسوں سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں۔ اس نے مجھے بہت زیادہ متاثر اس کے اندر ہر کسی کے لئے عمدہ اخلاقی سبق ہوتے ہیں۔ تری و ندرم کیرالا، میں میرا ایک پرنٹنگ پریس ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ وہاں سے ماہانہ الرسالہ کو ملیالم زبان میں شائع کروں امید ہے کہ آپ اس کی اجازت عنایت فرمائیں گے ۔ کمال الدین صاحب کو اسلامی مرکز کی طرف سے الرسالہ ملیالم ایڈیشن نکالنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
مسٹر پرویز اختر (آرہ) نے بتایا کہ وہ تجارت کے سلسلہ میں اکثر فیروز آباد جاتے رہتے ہیں۔ وہاں ان کی ملاقات ایک ہندو تاجر مسٹر اروند سے ہوئی۔ مسٹر ارو ند نے بتایا کہ وہ الرسالہ سے اتنا زیادہ متاثر ہیں کہ اس کو اس کی اصل زبان میں پڑھنے کے لئے انھوں نے اردو سیکھی
ہے اور اب وہ رسالہ اردو کو روانی کے ساتھ پڑھ لیتے ہیں۔ اس طرح کے اور بھی کئی لوگ ہیں جنھوں نے الرساله کو پڑھنے کے لئے اردو سیکھی ہے۔
محمد ہارون صاحب (برہم پور، مرشد آباد) الرساله کے مستقل قاری ہیں۔ وہ الرسالہ کے مضامین کا بنگالی زبان میں ترجمہ کر کے ان کو بنگالی اخبارات و رسائل میں چھپواتے رہتے ہیں۔ حیدر آباد (پاکستان) کے پندرہ روزہ اخبار "حرہر و تصویر" نے اپنے شمارہ ۳۱ جولائی ۱۹۹۱ء میں الرسالہ کے بارہ میں ایک مفصل تائیدی مضمون شائع کیا ہے۔ اس کا عنوان ان لفظوں میں قائم کیا گیا ہے: ممتاز عالم دین اور مفسر قرآن مولا نا وحید الدین خاں کا کلمہ حق۔ اور بیرون ہند کے مختلف اخبارات و رسائل میں اس طرح کے مضامین شائع ہو رہے ہیں۔ اس سے پہلے مسلم مسائل میں صرف احتجاج اور شکایت اور مظلومیت کی زبان بولی جاتی تھی ۔ الرساله کی پندرہ سالہ متواتر کوشش کا یہ نتیجہ ہے کہ اب تمام لوگوں کی زبانیں بدل رہی ہیں۔ ہر ایک کسی نہ کسی طور پر الرسالہ کا پیٹرن اختیار کر رہا ہے۔ اس کی ایک مثال لکھنؤ کے پندرہ روزه تعمیر حیات کی ہے۔ اس کے شمارہ ۱۰ اگست ۱۹۹۱ء کے اداریہ کا عنوان "روشن مستقبل" ہے اور وہ پورا کا پورا الرسالہ کے نقطہ نظر کی نقل ہے۔
ایک صاحب لکھتے ہیں : میں الرسالہ کا برابر ۱۹۸۵ء سے قاری ہوں۔ اور بہت ہی دلچسپی سے الرسالہ کا ہر لفظ موتی اور ہیرے کے برابر ہوتا ہے۔ اگر ہماری قوم اس پر عمل کرے تو یقیناً ہم کو جینے کا طریقہ حاصل ہو جائے ۔ خاص کر اعراض کا جو سبق آپ دے رہے ہیں وہ بہت ہی قیمتی سبق ہے۔ مگر نادان لوگ اس کو بزدلی بتاتے ہیں اور برابر خود ہی نقصان بھی اٹھارہے یہاں کی مسجد میں تذکیر القرآن بھی موجود ہے۔ وہ واقعی اپنی نوعیت کی پہلی تفسیر ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کہ لوگ تبدیل ہوں گے اور الرسالہ کی نصیحت پر عمل کرینگے۔ (مبارک حسین، اعظم گڑھ)
ایک خاتون لکھتی ہیں : میں مقامی ایجنسی سے ہر مہینے الرسالہ حاصل کرلیتی ہوں ۔ اس کے مضامین بہت جاندار ہوتے ہیں۔ بہت سی نئی نئی باتیں سیکھتی ہوں۔ ملنے جلنے والوں کو الرسالہ پڑھنے کی ترغیب دیتی رہتی ہوں ۔ کچھ ہندو صاحبان کو الرسالہ کے نسخے تقسیم کئے۔ کچھ لوگوں کو فوٹو کاپی
کراک کے دیا ر آمنہ منظر، کشن گنج )
میڈیکل کے ایک طالب علم لکھتے ہیں : میں ۱۹۸۷ء سے الرسالہ کا قاری ہوں۔ میں نے پایا کہ الرسالہ نے کئی نوجوانوں کے ذہن کو تعمیری سوچ کی روشنی سے منور کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے مشن کو کامیاب کرے جو مسلمانوں کو ایک بکھری ہوئی زندگی اور ناکامی سے بچانے کے لئے جاری ہمارے کالج میں تقریباً ۴۰ مسلم طلبہ ہیں۔ ہم یہاں کئی مشکلوں سے آسانی سے نکل آئے۔ اور اب یہاں ہماری پوزیشن بہت اچھی ہے۔ کیوں کہ ہم نے آپ کے بتانے کے مطابق "حدیبیہ پرنسپل" کو استعمال کیا ( محمد انور فہمی، اورنگ آباد)
۱۲ | قاری سید مبین صاحب نانڈیر میں مستان پورہ کی مسجد میں امام ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہر روز نماز فجر کے بعد وہ مسجد میں تذکیر القرآن پڑھ کر سناتے ہیں۔ بیشتر نمازی درس سننے کے لئے ٹھہر جاتے ہیں۔ تقریباً پندرہ منٹ کا وقت لگتا ہے۔ لوگ بہت شوق سے سنتے اسی طرح بہت سی مساجد میں تذکیر القرآن کے ذریعہ درسِ قرآن کا سلسلہ قائم ہے۔ ۱۳ | ایک صاحب لکھتے ہیں: الرسالہ نظروں سے گزرا۔ شکر خداوندی ہے کہ اس نے آپ جیسے دینی قناعت پسند شخصیت کے ہاتھوں سے اتنا مدبر رسالہ جاری کروایا ہے۔ واقعی یہ رسالہ صرف مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ عام و خاص انسانوں کے لئے ایک بہترین عطیہ ہے۔ ایک مشعل راہ ہے (حسین خاں، بنگلور )
۱۴ | ۱۵ اگست 1991ء کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ موضوع تھا : سماجی اصلاح کا مسئلہ۔
۱۵ | عبد الرحمن صاحب (پونہ) الرسالہ کے قاری ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں الرسالہ پڑھنے کے بعد یہ کرتا ہوں کہ اس کے منتخب مضامین کو ہندو لوگوں کو سناتا ہوں ۔ وہ لوگ اس کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اسی طرح بہت سے لوگ خود پڑھنے کے بعد دوسروں کو پڑھ کر
۱۶ | ایک نئی کتاب تیار ہوئی ہے۔ اس کا نام کاروانِ ملت ہے۔ اس کا موضوع ملت کا احیاءِ نو ہے اور وہ ۲۲۴ صفحہ پر مشتمل ہے۔