Al-Risala · February 1991

تحفظ کا مسئلہ

Al-Risala, February 1991, pp. 20–26

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان کے مسلمانوں ، خاص طور پر شمالی ہند کے مسلمانوں ، کے نزدیک ان کا نمبر ایک

مسئلہ جان و مال کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ وہ سب سے زیادہ اسی مسئلہ پر سوچتے ہیں۔ ان کی سرگرمیاں سب سے زیادہ اسی سوال پر مرتکز رہتی ہیں۔ اس سوال کو ذہن میں رکھ کر اگر ہم قرآن کو پڑھنا شروع کریں تو اس کو پڑھتے ہوئے ہم سورہ المائدہ کی اس آیت (نمبر ۶۷) پر پہنچیں گے جس میں تحفظ کے مسئلہ کا جواب نہایت واضح اور غیر مبہم انداز میں موجود ہے۔ وہ آیت یہ ہے : یَا اَيُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَا اُنْزِلَ اے پیغمبر جو کچھ تمہارے اوپر تمہارے رب کی طرف اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا سے اترا ہے اس کو پہنچا دو۔ اور اگر تم نے ایسا نہ کیا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَ اللهُ يَعْصِمُكَ تو تم نے اللہ کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تم کو مِنَ النَّاسِ اِنَّ اللهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ لوگوں سے بچائے گا۔ اللہ یقیناً منکر لوگوں کو راہ الْكٰفِرِيْنَ نہیں دکھاتا۔

اس آیت پر غور کیجئے۔ اس میں عبارت النص کی سطح پر یہ بات نکل رہی ہے کہ عصمت من الناس کا راز دعوت الی اللہ میں چھپا ہوا ہے۔ جب بھی مسلمانوں کو محسوس ہو کہ ان کے لئے غیر اقوام کی طرف سے تحفظ کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے تو انھیں فوراً دعوت الی اللہ کے کام میں مشغول ہو جانا چاہئے اور اس کو اس کے تمام ضروری آداب کے ساتھ جاری رکھنا چاہئے۔ یہی تحفظ کے مسئلہ کا سب سے زیادہ یقینی

اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی قوم مسلمانوں کے ساتھ دشمنی کرتی ہے تو عین اس وقت بھی اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے اندر خدا کی پیدا کی ہوئی فطرت کو بدل دے۔ یہ فطرت پیدائشی طور پر اسلام کی طالب ہوتی ہے۔ ہر آدمی اپنی ابتدائی فطرت کے اعتبار سے دین اسلام پر پیدا کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کا ہر دشمن امکانی طور پر ان کا دوست ہوتا ہے۔ اس کی سوئی ہوئی فطرت کو جگا دیا جائے تو وہ اسلام قبول کر لے گا۔ اور جب وہ اسلام قبول کرلے گا تو وہ بھی مسلمانوں کی ملت میں شامل ہو کر ان کا جزو بن جائے گا۔ اور اس کے بعد مسلمانوں کا مسئلہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔

تاریخ نے بار بار قرآن کے اس اصول کی تصدیق کی ہے۔ دور اول میں عرب کے مشرکین نے ابتدائے رسول اللہ کی سخت مخالفت کی مگر آپ ان کی مخالفت کو نظر انداز کرتے ہوئے صبر و حکمت

کے ساتھ انھیں اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صرف بیس سال کے مختصر عرصہ میں تمام عرب قبیلوں نے اسلام قبول کر لیا۔ جو لوگ بظاہر آپ کے دشمن تھے، وہ آپ کے دوست اور ساتھی اسلام کے سپاہی بن کر انھوں نے اسلام کی عالمی تاریخ بنائی۔

۱۳ ویں صدی عیسوی میں تاتاری قبائل ایک وحشی طوفان بن کر اٹھے اور انھوں نے سمر قند سے لے کر بغداد تک مسلمانوں کے تمام ملتی نشانات کو مٹا ڈالا۔ بغداد کی عباسی خلافت ان کی فوج کی یلغار کی تاب نہ لا کر ختم ہو گئی۔

مگر اس کے بعد کیا ہوا۔ مسلمانوں کے قومی کھنڈر سے اسلام کی دعوتی قوت ظاہر ہونا شروع اسلام کے عقیدہ نے فاتح تاتاریوں کو مسخر کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ پچاس برس میں پوری تاریخ بدل گئی۔ مسلمانوں کے فاتح اسلام کے مفتوح بن گئے۔ ہلاکو نے مسلم دنیا کی جن مسجدوں کو ڈھایا تھا، اس کے پوتوں نے ان مسجدوں کو دوبارہ بنایا۔ اور ان مسجدوں میں خدا کے واحد کے سامنے جھک کر اپنے عجز کا اعتراف کیا۔

اسلامی تاریخ کا یہی واقعہ ہے جس کا ذکر علامہ اقبال نے ۱۹۳۰ میں آل انڈیا مسلم لیگ (الہ آباد) کے اجلاس میں اپنا خطبہ صدارت پڑھتے ہوئے اس طرح کیا تھا کہ مسلمانوں کی تاریخ سے مجھے یہ سبق ملا ہے کہ ان کی تاریخ کے نازک موقع پر پر یز اسلام تھا جس نے مسلمانوں کو بچایا یا نہ کہ مسلمانوں نے اسلام کو:

One lesson I have learnt from the history of Muslims. At critical moments in their history it is Islam that has saved Muslims and not vice یہی بات اقبال نے عوامی انداز میں اپنے اس شعر میں کہی ہے :

ہے عیاں فتنہ تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقبال نے اس حقیقت کو ماضی کے اعتبار سے سمجھا۔ مگر اس کو انھوں نے حال کے اعتبار سے دریافت نہیں کیا۔ انھیں یہ تو دکھائی دیا کہ گزری ہوئی تاریخ میں اسلام کی دعوتی طاقت نے مسلمانوں کو بچایا ہے مگر حال کے اعتبار سے وہ اس طاقت کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ۱۹۳۰ میں جغرافیائی تقسیم پاکستان کو ہندوستان کے مسلمانوں کا حل بتایا۔

انہیں مسلمانوں کو یہ تلقین کرنا چاہئے تھا کہ تم غیر اقوام کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کرو۔ بعد تمہارے مسائل اپنے آپ حل ہو جائیں گے جس طرح وہ ماضی میں حل ہو گئے۔

کسی قوم کے رہنما اور دانشور ہی وہ لوگ ہیں جو پوری قوم کا ذہن بناتے ہیں۔ ان کی تقریر میں اور تحریریں لوگوں کو کسی ایک طرف یا دوسری طرف لے جاتی ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کی مشکل یہ ہے کہ ان کے رہنماؤں اور دانشوروں میں دعوتی ذہن موجود نہیں۔ وہ صرف قومی طرزِ فکر کو جانتے ہیں۔ اور ہمیشہ قومی طرزِ فکر کے مطابق لکھتے اور بولتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ملک کے قومی مسائل تو دکھائی دیتے ہیں، مگر انہیں ملک کے دعوتی امکانات نظر نہیں آتے۔

اس کو سمجھنے کے لئے ایک مثال لیجئے ۔ ہندوستان میں کروڑوں کی تعداد میں وہ لوگ آباد ہیں جن کو اچھوت یا پست اقوام کہا جاتا ہے۔ ہندو مذہب اور روایات اس میں مانع ہیں کہ ان کو ملک میں برابر کا سماجی درجہ ملے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ مستقل طور پر مایوسی اور ذہنی انتشار میں مبتلا

ڈاکٹر امبیڈکر (۱۹۵۶-۱۸۹۳) ایک اچھوت خاندان میں پیدا ہوئے۔ مگر انہوں نے ملک کے اندر اور ملک کے باہر اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ یہاں تک کہ وہ چوٹی کے دانشور بن گئے۔ اور علمی خصوصیات کی بنا پر انھوں نے پوری اچھوت برادری میں واحد نمائندہ لیڈر کی حیثیت

ڈاکٹر امبیڈ کر کو اس بات کی بہت زیادہ فکر تھی کہ وہ اپنی قوم کو اوپر اٹھائیں اور ان کو ملکی سماج میں برابری کا درجہ دیں۔ ہندو ازم اور ہندو سماج کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہندو دائرہ میں رہتے ہوئے وہ اپنی قوم کو یہ درجہ نہیں دلا سکتے۔ دوسری طرف اسلام کے مطالعہ نے انھیں بتایا کہ یہ مطلوبہ درجہ ان کو اور ان کی قوم کو نہایت کامیابی کے ساتھ حاصل ہو سکتا ہے اگر وہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہو جائیں۔ چنانچہ انھوں نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی پوری برادری کے ساتھ اسلام قبول کر لیں۔

اس سلسلہ میں انھوں نے مختلف تقریریں کیں اور مضامین لکھے ۔ مثال کے طور پر انھوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اسلام پست طبقات کو وہ سب کچھ دیتا ہے جس کی

انھیں ضرورت ہے۔ اقتصادی اعتبار سے اسلام کے ذرائع لامودود ہیں۔ سماجی اعتبار سے مسلمان پورے انڈیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ مسلمان ملک کے ہر صوبے میں موجود ہیں اور وہ پست طبقات کے نو مسلموں کی پوری مدد کر سکتے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے پست طبقات وہ تمام حقوق پالیں گے جو مسلمانوں کو

Islam, seems to give the Depressed Classes all they need. Financially, the resources behind Islam are boundless. Socially, the Mohammedans are spread all over India. There are Mohammedans in every province and they can take care of new converts from the Depressed Classes and render them all help. Politically the Depressed Classes will get all the rights which Mohammedans are entitled to. Politics of Conversion, New Delhi, 1986, p.321 واقعات بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر امبیڈ کر اسلام کے بالکل قریب آچکے تھے اور عین ممکن تھا کہ وہ اپنی پوری برادری کے ساتھ اسلام قبول کرکے مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہو جائیں۔ حتیٰ کہ انھوں نے ۱۳ اکتوبر ۱۹۳۵ء کو وہ اعلان کیا جس کو ایولا ڈیکلریشن (Yeola Declaration) کہا جاتا ہے۔ اس اعلان میں انھوں نے ۴۰ ملین ہریجنوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے موجودہ مذہب کو چھوڑ کر دوسرے مذہب میں داخل ہو جائیں (صفحہ ۳۳۲)

مگر مسلم لیڈروں میں سے کسی بھی قابل ذکر شخص نے ڈاکٹر امبیڈ کر کی طرف توجہ نہ کی۔ حتیٰ کہ کسی نے ان سے ملاقات کی ضرورت بھی نہ سمجھی۔ دوسری طرف عین اسی زمانہ (۱۹۳۰ اور ۱۹۳۰ کے درمیان) مسلمانوں نے بحیثیت قوم یہ مظاہرہ کیا کہ انھیں ملک کی تقسیم کے سوا کسی اور چیز سے کوئی دل چسپی نہیں ہے۔ رہنماؤں نے ہریجنوں کو اسلام کے سایہ رحمت میں داخل کرنے نے کوئی حقیقی دل چسپی نہ لی۔ نے اپنی ساری دل چسپی اس بات کے لئے دکھائی کہ ملک سیاسی اعتبار سے دو حصوں (ہند و انڈیا، مسلم انڈیا) میں بانٹ دیا جائے۔

مسلمانوں کی یہ قومی پالیسی ڈاکٹر امبیڈ کر کی امیدوں کے سراسر خلاف تھی۔ انھوں نے قدرتی طور پر یہ سمجھا کہ بٹوارہ کے بعد وہ اور ان قوم ہندو انڈیا میں باقی رہے گی۔ کیونکہ ہر یجن زیادہ تر اسی علاقہ میں آباد تھے۔ تقسیم کے بعد مسلمان اس حیثیت میں نہ ہوں گے کہ وہ ان کی کوئی مدد کر سکیں۔ دوسری طرف وہ تبدیلی مذہب کے نتیجہ میں مستقل طور پر ہند و غضب ناکی کا شکار ہو کر رہ جائیں گے۔

چنانچہ انہوں نے اسلام کے دائرہ میں داخل ہونے کا ارادہ ختم کر دیا۔

مسلم رہنماؤں میں اگر دعوتی ذہن ہوتا تو وہ سمجھتے کہ پست طبقات کو اسلام میں داخل کرکے اگر وہ ان کا درجہ اونچا کریں تو یہ خود ان کے لئے بھی حد درجہ مفید ہوگا۔ اس کے بعد ان کی آبادی ملک میں مجموعی طور پر تقریباً ۵۰ فی صد ہو جائے گی۔ اور اگر آئندہ تبلیغی عمل کو جاری رکھا جائے تو قریبی مستقبل میں وہ پچاس فیصد سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اس کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی کہ وہ "پاکستان" کی صورت میں اپنے لئے سیاسی پناہ کا ایک گوشہ تلاش کریں۔ مگر مسلم رہنماؤں کے غیر قرآنی ذہن کا یہ نقصان ہوا کہ انہیں قومی خطرات دکھائی دئے مگر انہیں دعوتی امکان نظر نہ آیا۔ دعوت الی اللہ سے عصمت من الناس کا فائدہ حاصل ہونا اتنا یقینی ہے کہ وہ کسی براہ راست کوشش کے بغیر اپنے آپ حاصل ہو سکتا ہے ، بشرطیکہ مسلمان اپنی کسی نادانی سے اس کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کا سبب نہ بنیں۔

اس کا زندہ ثبوت ۱۹ ویں صدی اور پھر ۲۰ ویں صدی کے آغاز کی تاریخ ہے۔ بتاتے ہیں کہ اس زمانہ میں اسلام نہایت تیزی کے ساتھ ہندوستان میں پھیل رہا تھا۔ بلا مبالغہ ہزاروں آدمی اسلام میں داخل ہو رہے تھے۔ اگر اس عمل کو بدستور جاری رہنے دیا جاتا تو کسی اقبال یا جناح کی ضرورت نہ تھی جو بٹوارہ کی صورت میں مسلمانوں کے مسئلہ کا حل تجویز کرے ۔ عالمی جنگ (۱۸ - ۱۹۱۴) کے بعد مسلمانوں میں جو قومی تحریکیں اٹھیں ، جس کا آخری عروج آل انڈیا مسلم لیگ تھی، اس نے سارا نقشہ بگاڑ دیا۔ ان تحریکوں نے انتہائی غیر دانشمندانہ طور پر ہندوؤں مسلمانوں کے درمیان اختلافی باتوں کو ابھارا۔ انھوں نے اپنی دھواں دھار کا روائی کے ذریعہ دونوں قوموں میں نفرت کی ناقابل عبور دیوار کھڑی کر دی۔ مسلم لیڈروں کی یہی نفرت انگیز سیاست ہے جس نے اسلام کی اشاعت کے اس سیلاب کو روک دیا جو مغل سلطنت کے زوال کے بعد انیسویں صدی میں اس ملک میں جاری ہوا تھا۔

ہندوستان میں مسلمانوں کو مستقبل کی تعمیر کے لئے دو میں سے ایک کام کرنا تھا۔ یا تو وہ سچے داعی بن کہ دوسری قوموں کو اپنا مدعو بناتے اور صبر اور حکمت کے ساتھ انہیں اسلام کی دعوت دیتے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تھے تو دوسرا کام ان کے کرنے کا یہ تھا کہ وہ اسلام کی فطری اشاعت کے عمل میں فروری ۱۹۹۱ء | صاۃ 25

کوئی رکاوٹ نہ کھڑی کریں۔ وہ اس معاملہ میں خاموش ہو جائیں اور اسلام کو اپنی ذاتی طاقت سے آگے بڑھنے کا موقع دیں۔

مسلمان ان دونوں میں سے جو بھی طریقہ اختیار کرتے اس کا نتیجہ جلد یا بد دیر ایک ہی نکلتا۔ مگر وہ نہ اسلام کے براہ راست داعی بن سکے اور نہ بالواسطہ معاون۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک صدی کی پرشور اور ہنگامہ خیز سیاست کے باوجود ان کے حصہ میں کچھ نہ آیا۔

Printed page