Al-Risala · January 1991

روشن مستقبل

Al-Risala, January 1991, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمان ایک ایسے پیغمبر کی امت ہیں جس کی بابت عالمی مورخین نے یہ اعتراف کیا ہے کہ وہ پوری تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب (supremely successful) انسان تھے۔ قرآن کے مطابق، آپ دنیا میں اس لیے آئے تاکہ تمام انسانوں کے لیے بہترین نمونہ (اسوة حسنہ) قائم کریں۔ اس لحاظ سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آپ نہ صرف خود سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے بلکہ آپ نے اپنی زندگی کے نمونہ سے سب سے بڑی کامیابی کا راز بتایا ہے۔ آپ نے خود کامیاب ہو کر کامیابی کا نمونہ قائم کیا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت ترین مشکلیں پیش آئیں۔ آپ نے خود فرمایا کہ جتنا مجھے ستایا گیا اتنا کسی کو نہیں ستایا گیا۔ آپ نے ان مشکلوں اور ایذاؤں کے باوجود عظیم ترین کامیابی حاصل کی۔ ایک مستشرق نے بجاطور پر آپ کی بابت لکھا ہے کہ آپ کو اگر چہ مشکلات پیش آئیں مگر آپ نے مشکلات کا مقابلہ اس عزم سے کیا کہ ناکامی سے کامیابی کو نچوڑیں :

He faced adversity with the determination to wring success out of failure. یہی وہ بات ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ عسر کے ساتھ یسر ہے (الانشراح)، اس قرآنی تعلیم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے نمونہ کو سامنے رکھتے ہوئے مسلمانوں کے لیے کسی بھی حال میں مایوسی کی جب خود خالق کائنات نے یہ ابدی اعلان فرما دیا ہے کہ اس دنیا میں عسر (مشکل) کے ساتھ یسر بالفاظ دیگر، یہاں ہر ڈس ایڈوانٹیج کے ساتھ ایڈوانٹیج بھی لازمی طور پر موجود رہتا ہے تو ایسی حالت میں ہم کو اندیشہ کرنے کی کیا ضرورت۔

قرآن کی اس خبر کی صحت کو پیغمبر اسلام نے اس اعلیٰ درجہ پر ثابت کیا کہ آپ نے ناکامی سے کامیابی کو نچوڑ لیا اور ہر قسم کی مشکلوں کے باوجود تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی۔ ایسی حالت میں مسلمان کو ہمیشہ پرامید رہنا چاہیے، اس کو کسی بھی حال میں مایوسی کو اپنے دل میں جگہ نہیں دینا چاہیے ۔ مسلمان ایک روشن مستقبل کے کنارے کھڑے ہوئے ہیں ـ ان کا پیغمبر ان کو ابدی طور پر یہ پیغام دے رہا ہے۔

Printed page