موجودہ مسلمان
Al-Risala, February 1991, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
آج بھی ہندوستانی مسلمانوں کے مسئلہ کا حل یہی ہے۔ اس موقع کو استعمال کرنے کا میدان اب بھی ان کے لئے کھلا ہوا ہے۔ آج بھی اگر ان کے اندر داعیانہ ذہن پیدا ہو جائے تو آج بھی وہ اس میدان میں متحرک ہو کر اس کے تمام فائدے حاصل کر سکتے ہیں۔ سورہ المائدہ (۵۴) میں خدا کی جو سنت بتائی گئی ہے، وہ ایک ابدی سنت ہے۔ وہ جس طرح ماضی کے لئے تھی، اسی طرح وہ آج کے لئے بھی ہے، اور وہ قیامت تک اسی طرح باقی رہے گی۔
انسان کی فطرت کبھی نہیں بدلتی۔ آج بھی جو انسان پیدا ہو رہے ہیں وہ یقیناً فطرت اللہ پر پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آج کا انسان بھی اپنی پیدائشی فطرت کے تحت اس کا منتظر ہے کہ کوئی آئے اور اس کی فطرت کے دروازے کو کھٹکھٹائے، تاکہ وہ اپنے خالق کے سکھائے ہوئے سبق کے مطابق اس کا جواب دے سکے۔
تاہم اس دعوتی امکان کو حاصل کرنے کے لئے ایک شرط لازمی طور پر ضروری ہے، اور وہ صبر و مسلمانوں کو اس ملک میں داعی بننے کے لئے یہ کرنا ہوگا کہ وہ دوسری قوم کے ساتھ اپنے تمام نزاعات کو یک طرفہ طور پر ختم کر دیں۔ یہ ختم کرنا مصنوعی طور پر نہ ہو۔ بلکہ دل کی گہرائی کے ساتھ ہو۔ اب تک وہ دوسری قوم کو اپنا حریف بنائے ہوئے تھے۔ اب انھیں دوسری قوم کو اپنا دعوتی محبوب بنانا انھیں اس حد تک ان کا خیر خواہ بننا ہوگا کہ ان کے دل سے دوسری قوم کے لوگوں کے لئے دعائیں
جس دن مسلمان ایسا کریں گے، اسی دن اس ملک میں دعوتی عمل کا آغاز ہو جائے گا، اور اسی کے ساتھ وہ نتیجہ بھی ظاہر ہونا شروع ہو جائے گا جو دعوت الی اللہ کے ساتھ اللہ نے ابدی طور پر مقدر کر دیا ہے۔