ہم پئیں، وہ نہ پئیں
Al-Risala, February 1991, pp. 32–34
By Maulana Wahiduddin Khan
اس سلسلہ میں ایک صحابی کا قول نہایت با معنی اور سبق آموز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں غزوہ بدر پیش آیا تو یہ سوال تھا کہ میدان جنگ کے لئے کس مقام کا انتخاب کیا ایک صحابی الحباب بن المنذر الجموح نے ایک مقام کی تجویز پیش کی۔ اس کی خصوصیت انھوں نے یہ بتائی کہ جب وہاں ہم ٹھہریں گے تو پانی کے چشمے ہمارے قبضہ میں آجائیں گے ۔ اور فریق ثانی پانی کے ذخائر سے محروم ہو جائے گا۔ اس تجویز کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پھر ہم پئیں گے اور وہ نہ پئیں گے (فنشر ب ولا يشربون)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تجویز کو پسند فرماتے ہوئے فورا اس کو قبول کر لیا (سيرۃ ابن هشام ۲/۲۶۱)
اسی قسم کا معاملہ ہندوستان کا بھی ہے۔ موجودہ حالات میں اگر ہم اپنے مسئلہ کو ہندو عوام کی سطح پر لے جائیں تو ایسی صورت میں ہندوؤں کا فرقہ پرست طبقہ پانی پئے گا ، اور مسلمان پانی سے محروم رہ جائیں گے۔ اس کے برعکس اگر ہم اپنے مسئلہ کو ہندو خواص کی سطح پر رکھ کر طے کریں تو ایسی صورت میں پانی سلمان کے حصہ میں آئے گا ، اور ہندو فرقہ پرست پانی سے محروم ہو کر رہ جائیں گے۔ دور اول کی مثال عوام اور خواص کے اس فرق کی مثال اسلام کی ابتدائی تاریخ میں بھی موجود ہے۔
صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی ایک تعداد مکّہ سے ہجرت کرکے سمندر پار کے ملک حبش چلی گئی تھی۔ ان کے لئے عوام اور مذہبی طبقہ کی طرف سے اسی قسم کے مسائل پیدا ہوئے جو ہم کو ہندوستان میں مگر یہ مسائل جب وہاں کے خواص کے سامنے آئے تو انتہائی انصاف کے ساتھ یہ مسائل مسلمانوں کے حق میں طے کردیئے گئے۔
مسلمان جب حبش کے ساحل پر اترے تو وہاں کے باشندے سے خارجی ہونے کی بنا پر ان کو حقیر سمجھتے تھے اور انھیں پریشان کرتے تھے۔ یہ مسلمان اگر مشتعل ہوکر عوام کے خلاف ایکٹیوشن کرتے تو نتیجہ مسلمان اقلیت میں تھے اور مقامی عوام اکثریت میں، اس لئے مسئلہ بڑھتا اور مسلمانوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوجاتا۔
مگر مسلمانوں نے عوامی سطح پر شکایت اور احتجاج سے کامل پر ہیز کیا۔ وہ ان سے اعراض کرتے ہوئے اپنا کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ایک وقت آيا جب کہ ان کو بادشاہ وقت نجاشی کے دربار میں جانے کا موقع ملا۔ نجاشی نے ان سے پوچھا کہ کیا حبش میں کوئی تم کو ستاتا ہے۔ مسلمانوں نے کہا کہ نجاشی نے فیصلہ دیا کہ جو شخص مسلمانوں کو ستائے، اس سے چار درہم بطور جرمانہ وصول کرکے مظلوم مسلمان کو دیا جائے۔ اُس کے بعد اس نے مسلمانوں سے پوچھا کہ کیا اتنا جرمانہ کافی ہے۔ مسلمانوں نے کہا کہ نجاشی نے دوبارہ فیصلہ دیا اور جرمانہ کی مقدار بڑھاکر آٹھ درہم کردی (حیاۃ الصحابہ ، الجزء الاول ،صفحہ ۳۵۵ )
اسی ہجرت کا دوسرا واقعہ یہ ہے کہ صحابہ کرام جب مکہ سے حبش پہنچے تو مکہ کے مشرکین نے اپنا ایک وفد بھیجا تاکہ وہ مسلمانوں کو وہاں سے واپس لائے۔ مشرکین کے وفد نے حبش پہنچ کر وہاں کے مذہبی طبقہ سے ملاقاتیں کیں اور آخر میں نجاشی کے دربار میں حاضر ہوئے۔
مشرکین مکہ کے وفد کی باتوں کو سن کر وہاں کے مذہبی پیشواؤں کا گروہ ( بگڑا ہو اند مذہبی طبقہ ) ان کا حامی بن گیا۔ انھوں نے نجاشی سے کہا کہ مسلم مہاجرین کو اس وفد کے حوالے کردینا چاہئے۔ ایک موقع پر انھوں نے دربار میں مسلمانوں کے خلاف باقاعدہ شور وغل برپا کر دیا۔ ایسی حالت میں معاملہ اگر اس مذہبی طبقہ کی سطح پر لایا جاتا تو یقیناً اس کا فیصلہ مسلمانوں کے خلاف ہوتا۔ مگر مسلمان وہاں کے مذہبی طبقہ سے مطلق نہیں الجھے۔ انھوں نے مذہبی طبقہ کو نظر انداز کرتے
ہوئے صرف نجاشی کے سامنے اپنی بات پیش کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نجاشی نے مکمل طور پر مسلمانوں کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا۔ اس نے مشرکین مکہ کے وفد کو دربار سے نکال دیا۔ اور مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ جب تک چاہو حبش میں عزت کے ساتھ رہو۔ یہاں سے نکلنے پر تمہیں کوئی مجبور نہیں کر سکتا (سیرۃ ابن کثیر