Al-Risala · February 1991

ایک سفر

Al-Risala, February 1991, pp. 35–44

By Maulana Wahiduddin Khan

سوویت یونین میں گلاسناسٹ (openness) کی پالیسی کے تحت حال میں کافی تبدیلیاں اس کے تحت روسی حکومت چاہتی ہے کہ بیرونی دنیا سے اپنے تعلقات بڑھائے۔ طبقہ کے لوگوں کو سوویت یونین جانے کے مواقع دئے جا رہے ہیں۔

اسی میں سے یہ ہے کہ سوویت حکومت عالم اسلام کی مختلف شخصیتوں کو دعوت دے رہی ہے کہ وہ سوویت یونین جاکر اپنی آنکھ سے وہاں کے مسلمانوں کے حالات کو دیکھیں۔ مثلاً سعودی عرب کے شیخ محمد بن ناصر العبودی اسی سلسلہ میں روس جا چکے ہیں۔ چنانچہ سوویت حکومت نے نجف کو بھی روس کے سفر کی دعوت دی۔ اس کے تحت جولائی۔ اگست ۱۹۹۰ میں سوویت یونین کا سفر ہوا۔ شیخ عبودی در رابطۂ اسلامی ، مکہ ، کی سرکردگی میں جو وفد پندرہ دن کے لئے سوویت یونین گیا تھا ، اس نے وہاں کی مسلم جمہوریوں کا دورہ کیا۔ روسی مسلمانوں کے حالات اور ضرورتوں کا جائزہ اس نے روسی مسلمانوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ وہ اسلام کی راہ میں تنہا نہیں ہیں بلکہ دنیا کے دوسرے مسلمان ان کے ساتھ ہیں۔

وفد نے وہاں کی ان مسجدوں کا بھی جائزہ لیا جو حال میں واگذار کی گئی ہیں۔ اس نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ان مسجدوں کی اصلاح و مرمت کافی ہے یا ان کو از سر نو تعمیر کرنے کی ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ روسی حکومت نے جن مقامات پر نئی مسجدوں کی تعمیر کی اجازت دی ہے ، ان کے لئے مناسب زمین حاصل کرنے کی بابت ذمہ داروں سے گفتگو کی۔

روس میں اشتراکی انقلاب ۱۹۱۷ء میں آیا جب کہ ابھی میں پیدا بھی نہیں ہوا تھا۔ شعور کو پہنچتے ہی اشتراکی روس کی باتیں میرے کان میں پڑنے لگیں۔ غالباً ۱۹۳۶ء کا واقعہ ہے۔ اعظم گڑھ میں مولانا اقبال احمد سہیل (۱۹۵۵-۱۸۸۲) کے مکان پر تھا۔ گفتگو کے دوران سوویت روس کا ذکر آیا۔ انھوں نے خاندان کے ایک نوجوان کا نام لے کر کہا کہ ان کے کورس میں روسی زبان کا بھی ایک پرچہ ہے۔ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد امید ہے کہ وہ روس جائیں گے۔ پھر ان کے ذریعہ سے وہاں کی صحیح باتیں معلوم ہوں گی۔ مذکورہ نوجوان اب بڑھاپے کی عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ تاہم وہ روس نہ جاسکے۔

ملازمت کے بعد اب وہ ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں۔

۱۹۳۶ میں میں ایک مدرسہ میں کتاب النحو اور کتاب الصرف کے اسباق پڑھارہا تھا۔ وقت بظاہر نا قابل تصور تھا کہ میں کبھی روس کا سفر کر سکوں گا۔ مگر عجیب اتفاق کہ اس واقعہ کے تقریباً ۵۵ سال بعد یہ "قرعہ" میرے نام آیا۔ جولائی ۱۹۹۰ میں میں نے اس ملک کا سفر کیا جس کا پورا نام یونین آف سوویت سوشلسٹ ریپبلکس (USSR) ہے۔

۱۱جون ۱۹۹۰ کو نئی دہلی کے روسی سفارت خانہ سے ٹیلی فون آیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مجھ کو دس روزہ پروگرام کے تحت سوویت روس بھیجنا چاہتے ہیں تاکہ میں وہاں اسلام اور مسلمانوں کے حالات کو براہ راست دیکھوں، نیز یہ کہ ۴ جولائی کے لئے انھوں نے میری سیٹ ریزرو کرا دی ہے۔ اس سے پہلے بھی تاریخ کے تعین کے بغیر وہ اس پروگرام کی بابت مجھ کو اطلاع دے چکے تھے۔ جولائی کے مہینہ میں میری بعض مصروفیات تھیں۔ مگر میں نے ان مصروفیات میں تبدیلی کر کے ان کی پیش کش کو قبول کر لیا۔ کسی روسی آدمی کو یہ پہلی بار میں نے پچاس سال قبل دیکھا تھا۔ اس وقت میں ایک عربی مدرسہ (الا صلاح، اعظم گڑھ میں پڑھارہا تھا۔ ایک روز میں نے دیکھا کہ صدر مدرس مولانا امین احسن اصلاحی اپنے کمرہ کی طرف چلے تو ان کے ساتھ نئے حلیہ کا ایک آدمی تھا۔ صاف رنگ، بھاری جسم، سر پر غیر ہندوستانی وضع کی ٹوپی۔ میری ان سے ملاقات تو نہ ہوسکی ۔ البتہ مولانا امین احسن اصلاحی کے ساتھ انھیں کئی بار مدرسہ کے احاطے میں چلتے پھرتے دیکھا۔ اتنا یاد ہے کہ مولانا اصلاحی سے ان کی گفتگو عربی زبان میں ہوتی تھی۔ اس وقت مدرسہ کی آبادی میں وہ سب سے زیادہ پر شکوہ شخصیت والے

یہ علامہ موسیٰ جبار اللہ روسی تھے۔ مجھے یاد تھا کہ اسی زمانہ میں مولانا امین احسن اصلاحی نے ان کی بابت اپنے ماہنامہ "اصلاح" میں "شذرات" کے تحت کچھ لکھا تھا۔ میں نے چاہا کہ اس مضمون کو میں نے مولانا عبد الرحمن ناصر اسلامی کو خط لکھا کہ اصلاح کے مذکورہ مضمون کی فوٹو کاپی روانہ خط لکھنے کے چند دن بعد پانچ صفحہ کے اس مضمون کی فوٹو کاپی مجھے بذریعہ ڈاک دہلی میں مل گئی۔ واضح ہو کہ دہلی اور سرائیمیر اعظم گڑھ) کے درمیان ۸۰۰ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ بظاہر ایک سادہ سی بات ہے ۔ مگر اس میں شکر کا عظیم الشان سرمایہ موجود ہے۔

ذہن کی کیسی عجیب خصوصیت ہے کہ ۵۰ سال پہلے کا واقعہ ایک سیکنڈ میں اس کو یاد آجاۓ۔ مجھے یاد نہیں آتا کہ زمانہ طالب علمی کے بعد دوبارہ کبھی اس کا ذکر آیا ہو۔ پھر ڈاک کا یہ نظام انسان کے لئے کتنی بڑی سہولت ہے۔ اگر موجودہ وسائل نہ ہوں تو مذکورہ مضمون کو حاصل کرنے کے لئے مجھے سولہ سو کلومیٹر کا سفر طے کرنے کی ضرورت پیش آتی۔ اس میں غاسب دو ماہ لگ جاتے۔ پھر فوٹو کاپی کی مشینیں کتنی بڑی نعمت ہیں جن کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ کسی چیز کا ویسا کا ویسا ہی عکس بلا تاخیر حاصل کر لیا جائے۔

یہ باتیں بظاہر بالکل معمولی ہیں، مگر معمولی چیز کو غیر معمولی چیز کے روپ میں دیکھنے ہی کا نام شکر ہے۔ اگر آدمی جذبہ شکر کے اپنے کے لئے انوکھے معجزہ کا انتظار کرنے تو وہ کبھی بھی خدا کا پما شکر گز ار نہیں ہو سکتا۔ کیوں کہ موجودہ دنیا میں ایسے اسباب شکر کسی کے لئے ظاہر ہونے والے ہی نہیں۔ علامہ موسی جار اللہ ۱۹۳۸ کے وسط میں روس سے پناہ گزیں کے طور پر ہندوستان آۓ تھے۔ مولانا امین احسن اصلاحی کا ان کے بارہ میں مضمون الاصلاح کے شمارہ جون ۱۹۳۸ میں چھپا تھا۔ اس مضمون میں بتایا گیا تھا کہ علامہ موسی جار اللہ عربی، فارسی، ترکی ، روسی اور فرینچ زبانیں بخوبی جانتے ہیں۔ علوم مشرقیہ کی مختلف شاخوں میں اچھی دستگاه رکھتے ہیں۔ عالم اسلام کی اس زمانہ کی تمام سیاسی اور مذہبی ہر گرمیوں کو قریب سے جانتے ہیں۔ وہ دو دن مدرسہ الاصلاح سرائیل، اعظم گڑھ، میں مقیم رہے۔

مولانا امین احسن اصلاحی کے مضمون کا ایک اقتباس یہ ہے: ”علامہ موسی جار اللہ نے مجھ سے سوال کیا کہ ہندوستان میں علوم عربیہ کی تعلیم جس نہج پر ہو رہی ہے ، تمہارے خیال میں اس کا آخری انجام کیا ہونے والا ہے۔ میں نے کہا کہ عربی تعلیم ، مدارس عربیہ اور ساتھ ہی مذہب کی تباہی۔ مجھے خیال تھا کہ علامہ اس کی تردید کریں گے لیکن انھوں نے اس کی حرف حرف تائید کی۔ میں نے اپنی تحریری زندگی شروع کی تو میں کمیونزم کا مخالف بن چکا تھا۔ کانگریس کا ڈائمنڈ جبلی سشن جنوری ۱۹۵۵ میں آوڈی (مدراس) میں ہوا تھا۔ اس موقع پر جواہر لَالَ نہرو کی تحریک پر کانگریس نے یہ تجویز منظور کی تھی کہ ہمارا مقصد ہندوستان میں سوشلسٹ طرز کا سماج اسی زمانہ میں میں نے اس کے بارہ (socialistic pattern of society)

میں ایک مقالہ لکھا تھا جو "ہندوستان کی منزل : سوشلزم یا اسلام" کے نام سے چھپا تھا۔ اس میں دونوں نظاموں کا تقابل کرنے کے بعد آخر میں میں نے لکھا تھا :

پنڈت نہرو نے کہا ہے کہ ہندوستان کی منزل سوشلزم ہے۔

ہم کہتے ہیں : ہندوستان کی منزل اسلام ہے۔

اس کے بعد میں نے اس موضوع پر زیادہ جامع کتاب لکھی جو اپریل ۱۹۵۹ میں شائع ہوئی۔ اس کا نام تھا ، مارکسزم جس کو تاریخ رد کر چکی ہے۔ اس کے جلد ہی بعد اس موضوع پر میری دوسری کتاب اگست ۱۹۵۹ میں شائع ہوئی ۔ اس کا نام تھا ، سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ۔ پچھلے ۳۵ سال کے اندر اس موضوع پر میں کم از کم ایک سو مضامین اور کتابیں اردو ، عربی اور انگریزی میں شائع کر چکا ہوں۔ ان تمام مضامین اور کتابوں میں ہمیشہ میں نے کمیونزم اور سوشلزم کی مخالفت کی ہے۔ ایک زمانہ میں بہت سے اسلام پسند (مثلاً ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی وغیرہ) سوشلزم کی طرف مائل ہو چکے تھے اور اس کو اسلامی اصطلاحوں میں بیان کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ مگر میں ہمیشہ اس نظریہ کا مخالف رہا۔

سوویت روس کی موجودہ حکومت کا میرے جیسے ایک "مخالف" کو اپنے ملک میں بلانا کوئی سادہ یہ ایک نہایت اہم واقعہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جدید سیکولرزم کی وہ کون سی خصوصیت ہے جو اس کو سار سے عالم پر غالب کئے ہوئے ہے۔ وہ یہی فراخ دلی اور ہر داشت ہے۔ جس کو اب روس اختیار کر رہا ہے ، وہ موافق اور مخالف کی اصطلاحوں سے اوپر اٹھ کر لوگوں سے معاملہ کرتی ہے وہ اپنے ایک مخالف کی پذیرائی کے لئے بھی تیار رہتی ہے۔ اس کی اسی صفت نے اس کو یہ طاقت دی ہے کہ وہ ساری دنیا پر غلبہ حاصل کر سکے۔

موجودہ زمانہ کے اسلامی اداروں کا حال اس معاملہ میں بالکل برعکس ہے۔ ان کے یہاں صرف اپنے موافق کے لئے جگہ ہے۔ جس شخص کو وہ اپنا مخالف سمجھ لیں ، اس کے سایہ سے بھی وہ نفرت کرنے ایک شخص اگر کسی اسلامی ادارہ کے اکابر پر تنقید کر دے تو اس کی تنقید خواہ کتنی ہی علیٰ اور مدلل کیوں نہ ہو ، اس کے بعد وہ شخص اس ادارہ کی نظر میں اتنا مبغوض ہو جائے گا کہ وہ معقول انداز میں اس کا نام بھی نہیں لے سکتے ، کجا کہ اس کو اپنے ادارہ کے کسی پرو گرام میں شرکت کے لئے بلائیں۔

موجودہ اسلامی اداروں کی ہی کمزوری ہے جس نے ان کو آج کی دنیا میں بالکل بے قیمت بنا دیا ہے۔ اس کا مزید نقصان یہ ہے کہ یہ ادارے سطحی انسانوں کی سرائے بن کر رہ گئے ہیں۔ کم از کم پچاسے پچاس سال کی بابت میں کہہ سکتا ہوں کہ اس مدت میں غالباً کوئی ایک بھی ایسا انسان پیدا نہ ہو سکا جس کی آج کی دنیا میں کوئی اہمیت ہو۔ زندہ اور اعلیٰ انسان وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں کھلی تنقید اور آزادانہ اختلاف رائے کا ماحول ہو۔ ان اداروں میں یہ ماحول سرے سے موجود ہی نہیں، پھر وہاں اعلیٰ درجہ کے انسان کیوں کر پیدا ہو سکتے ہیں۔

آج اسلام کی نئی تاریخ بنانے کے لئے مجتہدانہ صلاحیت رکھنے والے افراد درکار ہیں۔ موجودہ اسلامی اداروں میں اکابر پرستی اور تقلید شخصی کا ماحول اتنی گہرائی کے ساتھ چھایا ہوا ہے کہ وہاں صرف تنگ نظر اور مقلد انسان ہی بن سکتے ہیں۔ ان اداروں سے مجتہدانہ اور صاف والی شخصیت کا پیدا ہو نا ممکن ہی نہیں۔ ان اداروں سے کسی اعلیٰ انسان کا ابھرنا ویسا ہی ایک عجوبہ ہوگا جیسا کسی قبرستان سے ایک زندہ انسان کا نکل آنا۔

روس کے لئے روانگی سے پہلے وہ لوگ روس میں اسلام" کی بابت ایک" فلم شو " دکھانا اس کے تحت ۲۱ جون ۱۹۹۰ کو پہلی بار نئی دہلی کے روسی کلچرل سنٹر کے دفتر میں جانا ہوا۔ وہاں انھوں نے ایک مخصوص ہال میں مذکورہ فلم شو" دکھایا۔

میں سنٹر میں پہنچا تو ایک روسی افسر نے اسلام علیکم" کہہ کر استقبال کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہیں اور ان کا نام (Bolat K. Nurgaleyev) ہے فلم شو" میں تصویروں اور آوازوں کے ذریعہ روس کے مسلم علاقہ (سنٹرل ایشیا) کو دکھایا گیا تھا۔ ایک گھنٹہ کی فلم میں "مسلم روس" کا مکمل تعارف سامنے اسلامی دور کے آثار، موجودہ اسلامی سرگرمیاں، روسی مسلمانوں کے رہن سہن کا طریقہ، غرض ہر چیز کامیاب تصویروں کے ذریعہ اس طرح دکھائی گئی کہ کچھ عرصہ کے لئے محسوس ہوا کہ ہم دہلی میں نہیں ہیں، بلکہ سنٹرل ایشیا میں گھوم رہے ہیں اور سارے مناظر کو براہ راست اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ "فلم شو کو دیکھنے کے بعد جب ہم واپس آنے کے لئے لفٹ کے دروازہ پر پہنچے تو سنٹر کے روسی ڈائرکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا " اب تو روس جاکر دیکھنے کی ضرورت نہیں ۔ " ان کے اس جملہ میں دراصل ان کا یہ احساس فخر جھلک رہا تھا کہ جو چیز آپ آئندہ روس میں جاکر دیکھیں گے، اس کو ہم نے کامیاب

"فلم شو" کی صورت میں آپ کو یہی دکھا دیا ہے۔

اس "فلم شو" کو دیکھنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ بھی اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ قرآن میں جنت کے بارے میں کہا گیا کہ و أتوا به متشا لها (البقرہ ۲۵) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی چیزیں آخرت کی چیزوں کا تمثیلی تعارف ہیں۔ اسی کا ایک نمونہ یہ "فلم شو" بھی ہے۔ نے اس کو ممکن بنا دیا کہ "مسلم روس" کو واضح تصویروں کی صورت میں دہلی کے اندر پیشگی طور پر دیکھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو اس طرح بنایا ہے کہ دیکھنے والی آنکھیں موت سے پہلے کی دنیا میں موت کے بعد والی دنیا کو پیشگی طور پر تمثیل کے روپ میں دیکھ سکتی ہیں۔ ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ کی شام کو روانگی ہوئی۔ دفتر سے نکل کر گاڑی پر بیٹھا تو دل سے بے اختیار یہ دعا نکلی: خدا یا خیریت کے ساتھ لے جایئے اور خیریت کے ساتھ واپس لائیے۔ دنیا اور آخرت میں خیریت کا

دہلی میں میں نے ۱۹۷۲ سے ہوں۔ یہاں کی مانوس سڑکوں سے گزرتے ہوئے جب میں ایئر پورٹ کی طرف جا رہا تھا تو خیال آیا کہ زندگی نام ہے مانوس راہوں میں نامانوس سفر طے کرنے کا۔ خارجی ظواہر میں اندرونی حقائق کو پالینے کا جو لوگ صرف دیکھے کو جانیں انھوں نے نہیں دیکھا۔ جو لوگ اُن دیکھے کو پالیں وہی دراصل وہ لوگ ہیں جن کو جاننے والا کہا جائے۔

قرآن کے مطابق، حیات دنیا کا ایک ظاہر ہے اور اسی کے ساتھ حیات دنیا کا ایک باطن ہے (الروم ،)، ایک مفسر نے اس آیت کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے کہ انھوں نے چھلکے کو جانا اور وہ مغز کو نہ جان سکے وانهم عرفوا القشور ولم يعرفوا اللباب، دنیا کے دکھائی دینے والے مناظر میں اللہ تعالیٰ نے نہ دکھائی دینے والی آخرت کی نشانیاں چھپا دی ہیں ۔ وہی لوگ حقیقہ آنکھ والے ہیں جنھوں نے دکھائی دینے والی دنیا میں نہ دکھائی دینے والی آخرت کا مشاہدہ کر لیا۔ مغرب اور عشا کی نماز ایئر پورٹ پر وی آئی پی لاؤنج میں پڑھی۔ لاؤنج کے باہر دہلی کا موسم مگر لاؤنج کے اندر مجھے سویٹر پہننا پڑا۔ ایئر کنڈیشنگ کے ذریعہ مصنوعی طور پر موسم کو بدل لینا بظاہر اچھی بات ہے۔ مگر یہ سہولت آدمی کو صرف اس قیمت پر ملتی ہے کہ وہ "نیچر" سے بے تعلق ہو جائے۔ اس کو انسانی مصنوعات کی خبر ہو ، مگر خدائی مصنوعات اس کے لئے لا معلوم چیز بن جائیں۔

دہلی سے ایروفلاٹ کی پرواز ۴۵۷ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ جہاز میں ہر چیز کا معیار یورپ کی اچھی ہوائی کمپنیوں سے کم نظر آیا۔ اشتراکی روس نے جنگی صنعت کی ترقی میں بہت زیادہ توجہ دی۔ کے وسائل محدود ہیں۔ ایک شعبہ میں بہت زیادہ آگے بڑھنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی دوسرے شعبوں میں پیچھے رہ جائے۔ یہی روس کے ساتھ ہوا۔ جنگی صنعت میں تقدم کا نتیجہ اس کے لئے غیر جنگی شعبوں میں تخلف کی صورت میں برآمد ہوا۔ گورباچوف کا پروسترائیکا (re-structuring) روسی زندگی میں اسی عدم توازن کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔

جہاز میں ایروفلاٹ کا میگزین "سوویٹ ایئر لائنز" موجود تھا۔ ایک مضمون میں بتایا گیا تھا کہ سیکڑوں روسی ہوابازوں میں سے پانچ کو ہیرو ازم اور بہت (courage) کی بنا پر خصوصی انعام ناموں سے اندازہ ہوا کہ ان میں سے ایک مسلمان ہواباز تھے۔ ان کا نام میجر رشید بتایا گیا ان کا جہاز فضا میں سخت حالات کا شکار ہوگیا۔ مگر انھوں نے غیر معمولی محنت اور مہارت سے کام لے کر جہاز کو اور اس کے مسافروں کو بچالیا۔ مگر جب ان کا جہاز زمین پر اترا تو ان کا حال یہ تھا کہ وہ اپنی سیٹ سے اپنے آپ نہیں اٹھ سکتے تھے۔ انھوں نے جہاز کو بچانے کے لئے اپنی ساری طاقت خرچ کردی تھی :

But when the plane came to a standstill he could not leave the cabin by himself. He had no strength left (p. 3). یہ جان کر خوشی ہوئی کہ مسلمان یہاں کی اعلی سروسوں میں ہیں۔ مزید یہ کہ انھوں نے اپنی غیر معمولی کارکردگی سے نمایاں درجہ حاصل کر لیا ہے۔

درمیان میں جہاز ایک گھنٹہ کے لئے تاشقند میں رکا لیڈنگ اتنی اچھی تھی کہ یہ محسوس ہی نہیں ہوا کہ کب وہ اُتر ہا تھا اور کب زمین پر اتر گیا۔ اکثر مسافر تاشقند ایئر پورٹ دیکھنے کے لئے اترے۔ میں بھی اترا۔ یورپی معیار کے لحاظ سے ہوائی اڈہ کم تر معیار کا تھا۔ "ٹرانزٹ پاس" سے لے کر کرسیوں اور ٹوائلٹ تک ہر چیز نسبتاً معمولی تھی۔

ہوائی اڈہ موجودہ زمانہ میں قوموں کی ترقی کا معیار سمجھا جاتا ہے۔ اس کو دیکھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ روس کی موجودہ تبدیلیاں گویا فطرت انسانی کی چیخ ہیں۔ ستر برس کے ناکام تجربہ کے بعد

یہاں کے انسان کی فطرت چیخ اٹھی کہ ہم کب تک مارکس کے مصنوعی نظام کا بوجھ اپنے اوپر لادے رہیں جس نے ہمیں دنیا کی قوموں سے پیچھے کر دیا۔

تاشقند ازبیک علاقہ کی راجدھانی ہے۔ اس کی تاریخ دوسری صدی قبل مسیح تک جاتی ہے۔ از بیک زبان میں تاشقند کے معنی ” پتھر کا گاؤں“ ہیں۔ مگر آج وہ ماسکو، لینن گراڈ اور خیف کے بعد سوویت یونین کا چوتھا سب سے بڑا شہر ہے۔ عربوں نے اس شہر کو آٹھویں صدی عیسوی میں فتح کیا تھا۔ تیرہویں صدی میں اس پر منگولوں نے قبضہ کر لیا۔ مگر منگولوں کے قبول اسلام کے بعد وہ بدستور مسلم سلطنت کا ایک جز رہا۔ ۱۹۱۷ء سے اس پر کمیونسٹ روس کا قبضہ ہے۔ سابق وزیر اعظم ہند لال بہادر شاستری نے اسی مقام پر پاکستان کے ساتھ ۱۰ جنوری ۱۹۶۶ کو ” تاشقند معاہدہ “ پر دستخط کئے تھے جس کے اگلے دن حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ان کا انتقال ہو گیا۔ تاشقند ہی میں قرآن کا وہ نسخہ موجود ہے جس کو مصحف عثمان کہا جاتا ہے۔ خلیفہ سوم عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن کے پانچ مکمل نسخے تیار کرائے۔ اس کے بعد مکہ، بصرہ، کوفہ اور دمشق میں ایک ایک نسخہ رکھوایا، اور ایک نسخہ اپنے پاس رکھا۔

کہا جاتا ہے کہ یہی عثمانی نسخہ پہلی صدی ہجری میں سمرقند پہنچا۔ پھر ۱۸۶۹ء میں اس کو قیصر روس نے حاصل کیا اور اس کو پیٹرس برگ کی سرکاری لائبریری میں محفوظ کر دیا۔ تاہم اس سلسلہ میں دوسری روایتیں بھی ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ تیمور نے جب دمشق پر قبضہ کیا تو وہاں سے اس نے مصحف عثمان کو حاصل کیا اور اس کو اپنے ساتھ سمرقند لے آیا۔ امین الخولی مصری جامعۃ الازہر کے استاد تھے۔ ان کی ایک عربی کتاب ہے جس کا نام ہے : الارتباطات بين النيل والفولغا۔ اس کتاب میں انھوں نے اس مسئلہ پر بحث کی ہے کہ مصحف عثمانی کس طرح تاشقند پہنچا۔ تاہم انھوں نے مختلف روایات کو جمع کر دیا ہے۔ کسی ایک روایت کو انھوں نے ترجیح نہیں دی۔

اس علاقہ کے مسلمان اول روز سے یہ چاہتے تھے کہ حکومت روس یہ مصحف ان کے حوالے مگر قدیم دور میں انھیں کامیابی نہ ہو سکی۔ ۱۹۱۷ء کے اشتراکی انقلاب کے بعد مسلمانوں نے دوبارہ مشورہ کیا اور ایک وفد اس سلسلہ میں لینن کے پاس بھیجا گیا۔ لینن نے مسلم وفد کی بات سننے کے بعد اس سے اتفاق کیا اور اسی وقت حکومت کے متعلقہ ذمہ دار کے نام مصحف کی واپسی کے

لئے ایک خط لکھا جس پر ۹ دسمبر ۱۹۱۶ء کی تاریخ درج تھی۔ اس خط کا عربی ترجمہ میں نے المفتی ضیاء الدین خان بن ایشان با باخان کی عربی کتاب الاسلام والمسلمون فى البلاد السوفيتية میں دیکھا ہے (صفحه ۸۶-۸۷)

اس مصحف کے کچھ صفحات ضائع ہوگئے ہیں۔ موجودہ مصحف میں کل ۲۵۵ صفحات ہیں۔ ۱۹۲۳ تک وہ شہر اونٹ میں تھا۔ ۱۹۲۳ میں اس کو خصوصی اہتمام کے ساتھ سمرقند لایا گیا اور شہر کی جامع مسجد خواجہ احرار میں رکھا گیا۔ ۱۹۴۳ سے وہ ایک میموزیم میں ہے جو خاص اسی کے نام پر بنایا گیا ہے۔

تاجقستان سوویت خطہ میں واقع ہے جس کو سنٹرل ایشیا کہا جاتا ہے۔ روس کے مشہور عالم المفتی ضیاء الدین خان بن ایشان بابا خان نے اپنی ۲۸۵ صفحہ کی کتاب (الاسلام والمسلمون في البلاد والسوفيتيه) میں بتایا ہے کہ اسلام یہاں سب سے پہلے آذربائیجان اور داغستان میں یہ خلیفہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں ساتویں صدی عیسوی کا واقعہ ہے۔ اس کے بعد اسلام پورے سنٹرل ایشیا میں پھیل گیا جو اس زمانہ میں ماورا النہر کہا جاتا خلفاء بنی امیہ نے اس علاقے میں کثرت سے ایسے مسلمان بھیجے جو یہاں اسلام کی اشاعت کریں اور لوگوں کو قرآن اور عربی زبان کی تعلیم دیں۔ انھیں میں سے ایک قثم بن عباس بن عبد المطلب بھی تھے جن کی قبر آج بھی سمرقند میں موجود ہے۔ دسویں صدی عیسوی تک اس علاقہ کے قبائل بہت بڑی تعداد میں اسلام قبول کر چکے تھے۔

سنٹرل ایشیا سے اسلام کی زبردست تاریخ وابستہ ہے۔ اس علاقہ سے اسلام کی نہایت ممتاز اسلامی شخصیات اٹھیں۔ مثلاً محمد بن اسماعیل البخاری، محمود الزمخشری، ابونصر الفارابی، ابو علی بن سینا، ابوعیسی الترمذی، وغیرہ۔

۲۹ جولائی کی صبح کو ہمارا جہاز ماسکو ایئر پورٹ پر اترا۔ لینڈنگ حیرت انگیز حد تک ”اسموتھ“ جہاز کی خاتون اناؤنسر نے جب اعلان کیا کہ "اب آپ ماسکو میں ہیں" تو اچانک مجھے خیال آیا کہ اسی طرح ایک روز خدا کے فرشتے مجھے ایک سفر کرائیں گے اور منزل پر پہنچ کر اعلان کریں گے کہ "اب تم عالم آخرت میں ہو"۔ ماسکو بھی میرے لئے ایک نئی دنیا ہے اور آخرت بھی میرے لئے نئی

مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ ” ماسکو“ میرے سفر حیات کی صرف درمیانی منزل ہے، جب کہ ” آخرت“ میرے سفر حیات کی آخری منزل ہوگی۔ ماسکو ہوائی اڈہ پر تو میرے استقبال کے لئے حکومت کے نمائند نے آئے ہوئے ہیں۔ یہاں میرے سفر کے لئے گاڑی موجود ہے اور قیام کے لئے ہوٹل کا کمرہ پیشگی طور پر رزرو کر دیا گیا ہے۔ مگر آخرت کی دنیا میں میرے اوپر کیا بیتے گی، اس کو احکم الحاکمین کے سوا کوئی اور نہیں جانتا۔

ماسکو کا ہوائی اڈہ تاشقند کے ہوائی اڈہ سے بہتر تھا۔ مگر جدید معیار جو جدہ ، روم ، فرینکفرٹ جنیوا وغیرہ میں نظر آتا ہے، اس کے لحاظ سے اس کو صرف دوسرے درجہ کا کہا جا سکتا ہے۔ کی ہر چیز اعلیٰ معیار سے کم تر تھی۔ سوویت روس نے جنگی طاقت میں امریکہ کی برابری (parity) حاصل کر لی ہے۔ مگر اس کی قیمت اس کو یہ دینی پڑی کہ وہ دوسری چیزوں میں غیر برابر ہو کر رہ گیا۔ سوویت روس کو مارکسزم کا تحفہ ہے۔

ائیر پورٹ سے ہوٹل کا راستہ تقریباً پون گھنٹہ کا تھا۔ مسٹر الکسی گالکن (Alexei Galkin) بطور گائیڈ ساتھ تھے۔ ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ فضا میں کہی تھی۔ اس لئے اطراف کے مناظر بہت زیادہ صاف نہیں دکھائی دے رہے تھے۔ تاہم ایک چیز نمایاں تھی۔ سڑک کے دونوں طرف جو عمارتیں نظر آئیں وہ زیادہ تر کثیر منزلہ تھیں۔ اگر آپ دبئی ایئر پورٹ سے شارجہ کی طرف جائیں تو آپ کو وہاں کی بیشتر عمارتیں یک منزلہ یا دو منزلہ دکھائی دیں گی۔ یہاں کی بیشتر عمارتیں کثیر منزلہ تھیں۔ اس فرق کا سبب سمجھ میں نہیں آیا۔ شاید وہاں کے لوگ افقی ترقی (horizontal growth) پر یقین رکھتے ہیں اور یہاں کے لوگ عمودی ترقی (vertical growth) پر۔

ماسکو میں میرا قیام جس ہوٹل میں تھا اس کا نام از مائیلوف (Izmailovo) تھا۔ یہ ۳۰ منزلہ اس ہوٹل کے کمرہ نمبر ۱۰۲۹ میں مجھے ٹھہرایا گیا۔ کمرہ کافی اچھا تھا۔ تاہم اس کمرہ کی سب سے ممتاز چیز وہ تھی جس کو میں استعمال نہ کر سکا۔ اور وہ ٹی وی سیٹ تھا۔ بظاہر اس کی کوالٹی اچھی تھی۔ سے اس معاملہ میں میں بہت بے ذوق واقع ہوا ہوں۔ کمرہ میں ٹی وی کا خصوصی اہتمام یہاں کے نظام کی علامت تھا۔ کیوں کہ کمیونسٹ نظام کے تحت سوویت روس میں اسلحہ کی تیاری کے بعد دوسری جس چیز پر سب سے زیادہ توجہ دی گئی وہ پلیٹ تھی ۔

Printed page