Al-Risala · March 1992

روزہ کا حکم

Al-Risala, March 1992, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں روزہ کا حکم سورہ البقرہ میں کسی قدر تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ یہاں قرآن کی ان آیتوں کا ترجمہ نقل کیا جاتا ہے :

اے ایمان والو ، تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے کی امتوں پر فرض کیا گیا تھا، تا کہ تم پر ہیز گار بنو گنتی کے چند دن۔ پھر تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں تعداد اور جن کو طاقت ہے تو ایک روزہ کا بدلہ ایک مسکین کا کھانا ہے۔ جو کوئی مزید نیکی کرے تو وہ اس کے لیے بہتر ہے۔ اور تم روزہ رکھو تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم جانو۔ رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا، ہدایت ہے لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستہ کی۔ اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا ۔ پس تم میں سے جو شخص اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے ۔ اور جو بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کر لے۔ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے، وہ تمہارے ساتھ سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اور اس لیے کہ تم گنتی پوری کر لو، اور اللہ کی بڑائی کرو اس پر کہ اس نے تم کو راہ بتائی، اور تاکہ تم اس کے شکر گزار بنو۔ اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں ۔ تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں۔ اور مجھ پر یقین رکھیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ تمہارے لیے روزے کی رات میں اپنی بیویوں کے پاس جانا جائز کیا گیا۔ وہ تمہارے لیے لباس اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے جانا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے، تو اس نے تم پر عنایت کی اور تم کو معاف کر دیا۔ تو اب تم ان سے ملو اور چاہو جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے۔ اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری کالی دھاری سے الگ ظاہر ہو جائے۔ پھر پورا کرو روزہ رات تک۔ اور جب تم مسجد میں اعتکاف میں ہو تو بیویوں سے خلوت نہ کرو۔ یہ اللہ کی حدیں تو ان کے نزدیک نہ جاؤ۔ اس طرح اللہ اپنی آیتیں لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے تاکہ وہ بچیں (البقرہ ۱۸۷ - ۱۸۳)

یہ روزہ کا بنیادی حکم ہے۔ اس کی مزید تفصیل حدیث اور فقہ میں بتائی گئی ہے۔

حدیث کی کتابوں میں روزہ (صوم) کے ابواب کے تحت بہت سی حدیثیں جمع کی گئی ہیں۔ ان سے روزہ کی عبادت کے مختلف پہلو معلوم ہوتے ہیں۔

روایات میں آتا ہے کہ رمضان کا مہینہ آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے اس خطبہ میں آپ نے رمضان کے مہینہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت بتائی: قال علی رضی اللہ عنه فقمت فقلت یا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں کھڑا رسول الله ، ما افضل الاعمال في هذا الشهر ہو اور میں نے کہا کہ اے خدا کے رسول ، اس فقال يا ابا الحسن، افضل الاعمال في مہینہ میں سب سے بہتر عمل کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: هذا الشهر الورع من محارم الله اے ابوالحسن ، اس مہینہ میں سب سے بہتر عمل ہے اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا۔

اس روایت سے روزہ کی اصل روح معلوم ہوتی ہے۔ روزہ کی اصل روح ان چیزوں سے اپنے آپ کو روکنا ہے جن سے رکنے کا خدا نے حکم دیا ہے۔ رمضان کے دنوں میں کھانے پینے جیسی چیزوں سے روزہ رکھنے کا حکم در اصل اسی کا عملی سبق ہے۔ کھانا پینا وہ آخری چیز ہے جس سے کسی آدمی کو روکا جائے ۔ انسان کو آخری ضرورت سے روکنا اس کو شدید تر انداز میں یہ سبق دینا ہے کہ خدا نے جن چیزوں سے تمہیں روکا ہے ان سے لازماً تمہیں رکنا ہے ، خواہ یہ رکنا تمہارے ذوق اور عادت کے لیے کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، خواہ اس کی فہرست تمہاری زندگی کی لازمی ضرورتوں تک کیوں نہ پہنچ جائے ۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں :

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : ما من رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی کسی عبد صائم یشتم فيقول سلام عليكم روزہ دار کو گالی دی جائے اور وہ کہے کہ تم پر سلامتی لا اشتمك كما تشتمنی إلا قال الرب ہو، میں تم کو گالی نہیں دوں گا جیسے تم نے مجھ کو تبارك وتعالی: استجار عبدی بالصوم گالی دی تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرے بندے

Printed page