روزہ کا بیان
Al-Risala, March 1992, pp. 10–19
By Maulana Wahiduddin Khan
روزہ کی عبادت کا ایک پہلو مسائل سے تعلق رکھتا ہے۔ یہ مسائل عام طور پر لوگوں کو معلوم ہیں۔ سال رمضان کے زمانہ میں تقریر و تحریر کے ذریعہ روزہ کے مسائل بتائے جاتے ہیں۔ اس لیے مسائل کا پہلو کافی تفصیل کے ساتھ لوگوں کے علم میں آتا رہتا ہے۔ اس وقت میں جو کچھ کہوں گا وہ زیادہ تر روزہ کی حقیقت کے بارہ میں ہوگا۔
قرآن میں روزہ کا باقاعدہ حکم سورہ البقرہ (رکوع ۲۲) میں دیا گیا ہے۔ اس حکم کا آغاز اس آیت سے ہوتا ہے کہ اے ایمان والو، تمہارے اوپر روزے لکھ دیے گئے جس طرح وہ پچھلی امتوں پر لکھے گئے تھے تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو (يا ایھا الذين آمنوا كتب عليكم الصيام كما كتب على الذين من قبلكم لعلكم تتقون)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ ہر دور میں شریعت خداوندی کا جزو رہا ہے۔ آج جب ایک شخص روزہ رکھتا ہے تو گویا کہ وہ ایک ایسے تاریخی تسلسل کا حصہ بن جاتا ہے جو ہر دور کے دین داروں میں جاری رہا ہے۔ اور آئندہ ہر دور میں جاری رہنے والا ہے۔ روزہ دار اپنے اندر یہ قلبی اطمینان محسوس کرتا ہے کہ میں وہ عمل کر رہا ہوں جو اللہ کے نیک اور مقبول بندوں نے ہر زمانہ میں کیا ہے۔ یہ احساس اس کو اس عالمی ربانی قافلہ میں شامل کر دیتا ہے جو نبیوں کی رہنمائی میں دنیا سے آخرت تک چلا جا رہا ہے۔ روزہ کا نظام قمری کیلنڈر کے اعتبار سے بنایا گیا ہے۔ شعبان کی آخری شام کو اگلے مہینہ کا چاند دیکھ کر روزہ رکھنے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ اس طرح روزہ کی سرگرمیاں شعبان کے مہینہ کے آخر سے ہی شروع ہو جاتی ہیں۔ لوگ شعبان کی آخری تاریخ کا شمار کرنے لگتے ہیں تاکہ اس روز چاند دیکھ کر رمضان کی آمد کا چاند دیکھ کر روزہ رکھنا گویا روزہ سے پہلے آدمی کے اندر روزہ کی نفسیات برپا کرنا ہے۔ روزہ کا زمانہ ایک مکمل عمل کا زمانہ ہے۔ یہ خصوصی دینی سرگرمیوں کا دور ہے۔ اس دور کا آغاز ۲۹ شعبان کی شام سے شروع ہو جاتا ہے۔ شعبان کے مہینہ کی ۲۹ تاریخ کی شام آتے ہی اہل ایمان کی نظریں چاند دیکھنے کے لیے آسمان میں گڑ جاتی ہیں۔ ان کا شعور یہ جاننے کے لیے جاگ پڑتا ہے کہ کیا وہ گردش زمین کے اس مرحلہ میں داخل ہو گئے ہیں جب کہ ان کو اپنی زندگی کا نقشہ بالکل بدل دینا چاہیے۔
اب انہیں روزانہ یہ جاننے کے لیے فکر مند ہونا ہے کہ صبح ٹھیک ٹھیک کس وقت شروع ہوگی، اور سورج کتنے بج کر کتنے منٹ پر غروب ہوگا۔ کیوں کہ روزہ ان کے لیے اس بات کا اعلان بن کر آتا ہے کہ اب انہیں اپنی زندگی کے نظام میں اوقات کی نئی رعایت کرتے ہوئے چلنا ہے۔
دوسرے دنوں میں ایسا تھا کہ جب بھوک لگی تو کھانا کھا لیا، جب پیاس لگی تو پانی پی لیا۔ دنوں میں بھوک اور خواہش ان کی رہنما تھی، مگر اب اصول ان کی زندگی کا رہنما بن جاتا ہے۔ اب ان کو نہایت صحت کے ساتھ یہ جاننا پڑتا ہے کہ رات کو کتنے بج کر کتنے منٹ تک کھانا ہے۔ اس کے بعد کھانا پینا بالکل بند کر دینا ہے۔ اور پھر شام کو دوبارہ ٹھیک کتنے بجے کھانے پینے میں مشغول ہونا ہے۔ جو دن پہلے کسی احتیاط اور اندیشہ کے بغیر گزرتے تھے، اب انہیں دنوں کو اس زندہ احساس کے ساتھ گزارنا پڑتا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا ہے۔ کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا ہے۔ کرو، ورنہ روزہ ٹوٹ جائے گا، ویسا نہ کرو ورنہ روزہ رکھ کر بھی تم بے روزہ ہو جاؤ گے۔ روزہ آدمی کے لیے ایک خصوصی تربیت گاہ میں داخلہ ہے۔ روزہ کے دنوں میں آدمی کے تمام اوقات اس مشق میں گزرتے ہیں کہ آدمی کی حد کیا ہے۔ وہ کہاں تک جاسکتا ہے اور کہاں تک نہیں اس کو کس طرح رہنا چاہیے اور کس طرح نہیں رہنا چاہیے۔ روزہ کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کے روزمرہ کے معمولات میں "کیا کر سکتے ہو، کیا نہیں کر سکتے" کا مسئلہ کھڑا کر کے اس کو تیار کیا جائے کہ اسی کو وہ اپنا مستقل مزاج بنا لے۔ یہ با اصول زندگی کی تربیت ہے اور اسی قسم کی با اصول زندگی مومن سے ساری عمر کے لیے مطلوب ہے۔
روزہ کا پہلا عمل یہ ہے کہ آدمی روزہ کی نیت کرے۔ حدیث میں آتا ہے کہ لا يصوم إلا من أجمع الصيام قبل الفجر (روزہ صرف وہ شخص رکھے جو فجر سے پہلے اس کا ارادہ کرے) مثلاً وہ کہے کہ میں نے کل کے دن روزہ رکھنے کی نیت کی (وبصوم غد نویت)
اس سے معلوم ہوا کہ روزہ ایک ارادی عمل ہے نہ کہ محض ایک رسمی عمل۔ وہ شعور کے تحت انجام دیا جاتا ہے نہ کہ غفلت اور بے خبری کے تحت۔ یہی معاملہ پورے دین کا ہے۔ دین پورا کا پورا شعور سے تعلق رکھتا وہی شخص دین دار ہے جو دینی اعمال کو زندہ شعور کے تحت ادا کرتا ہو۔
پھر فجر سے پہلے آخری کھانا کھایا جاتا ہے جس کو سحری کہتے ہیں۔ حدیث میں آتا ہے کہ سحری کھاؤ، کیونکہ اپریل ۱۹۹۰ء الہلال 11
سحری میں برکت ہے (تَسَحَّروا فَإِنَّ فِي السَّحُورِ بَرَكَةً) ایک صحابی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں مجھے سحری کے لیے بلایا تو فرمایا کہ آؤ ، مبارک کھانا کھاؤ۔ ایک اور صحابی کہتے ہیں کہ رمضان میں فجر سے پہلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاسی آیا تو آپ سحری کھارہے تھے، آپ نے فرمایا کہ سحری ایک برکت ہے جو اللہ نے تم کو دی ہے تو اس کو نہ چھوڑو (جامع الاصول)
فجر سے پہلے سحری کھانا اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اللہ جب بظاہر کسی سخت کام کا حکم دیتا ہے تو اس کے ساتھ اس کے لیے آسانی کا انتظام بھی فرما دیتا ہے۔ وہ روزہ کا حکم دیتا ہے تو اس کے ساتھ سحری کی رخصت بھی دیتا ہے۔ وہ دعوت کی ذمہ داری ڈالتا ہے تو مدعو کے مقابلہ میں داعی کی حفاظت کی ذمہ داری بھی لے لیتا وہ بوقت جارحیت جہاد کی ترغیب دیتا ہے تو اسی کے ساتھ فرشتوں سے یہ بھی فرمادیتا ہے کہ مجاہدین کو خصوصی مدد پہنچا کر انہیں کامیاب کرو۔
اللہ کے حکم میں بظاہر سختی یا مشکل نظر آئے تو مومن کو توکل کا طریقہ اختیار کرکے اس کی طرف بڑھ جانا چاہیے۔ کیوں کہ اللہ صرف حکم نہیں دیتا بلکہ اپنے حکم کے تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہے۔ وہ انسان کو آزمائش میں ڈالنے کے ساتھ اس کو سنبھالتا بھی ہے، وہ آزمائش کے وقت انسان کی نصرت کا انتظام بھی فرماتا ہے۔ سحری یا بالفاظ دیگر، اپنا آخری کھانا کھانے کے بعد، مومن اپنا دن شروع کرتا ہے۔ روزانہ جو کام وہ روزہ کے بغیر کرتا تھا، انہیں کاموں کو اب وہ روزہ دار بن کر انجام دیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے ہر کام میں نئی نفسیات شامل ہوجاتی ہے۔ وہ نماز پڑھتا ہے، وہ قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ وہ اللہ کی یاد کرتا ہے۔ وہ لوگوں سے مختلف معاملات کرتا ہے۔ ہر کام ظاہر کے اعتبار سے حسب معمول ہوتا ہے۔ اندرونی حالت کے اعتبار سے اب اس کا کام نئی کیفیات سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ پہلے جو کام روٹین کے طور پر ہوتا تھا، اب وہ زندہ عمل کے طور پر ہونے لگتا ہے۔ پہلے جو کام بے کیف طریقہ سے ہوتا تھا، اب وہ کام کیفیت کے ساتھ ہونے لگتا ہے۔ روزہ اس کے معمول کے کام کو غیر معمولی کام بنا دیتا ہے۔ اس طرح وہ اپنے لمحات گزارتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ شام ہوتی ہے اور افطار کا وقت آجاتا ہے۔ اب وہ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کھانا اور پانی اپنے منہ میں ڈالتا ہے۔ جس اللہ کے حکم سے وہ اس سے پہلے کھانے اور پانی سے رکا تھا، اسی اللہ کے حکم سے اب وہ دوبارہ کھانے اور پانی سے اپنے منہ کو
یہاں ان دعاؤں کا مطالعہ بہت مفید ہے جو روزہ کے سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول روایات میں آتا ہے کہ روزہ پورا کرنے کے بعد شام کو جب آپ افطار فرماتے تو آپ کی زبان سے دعا کے کلمات نکلتے۔ اس سلسلہ میں حدیث کی کتابوں میں مختلف دعائیں نقل کی گئی ہیں۔ ان میں سے کچھ دعائیں یہ ہیں :
الحمدُ للہ الذی اعاننی فصمت شکر اور تعریف اس اللہ کے لیے جس نے مدد کی تو میں نے روزہ رکھا اور اس نے رزق دیا تو میں نے افطار کیا۔
اللهم لك صمنا وعلی رزقك افطرنا اے اللہ ہم نے تیرے لیے روزہ رکھا اور تیرے دیے فتقبل منا انك انت السميع ہوئے رزق پر افطار کیا۔ تو ہم سے قبول فرما۔ تو سننے والا، جاننے والا ہے۔
اللهم لك صمتُ وعلی رزقك اے اللہ میں نے تیرے لیے روزہ رکھا اور میں نے تیرے رزق سے افطار کیا۔
الحمدُ لله ذهب الظما وابتلت العُروق شکر اور تعریف اللہ کے لیے ہے پیاس بجھ گئی اور رگیں تر و ثبت الاجر انشاء اللہ ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر ثابت ہو گیا۔
دعا کے یہ الفاظ روزہ کی روح کو سمجھنے کے لیے نہایت کار آمد ہیں۔ یہ دعائیں دراصل ان کیفیات کا اظہار ہیں جو بندہ مومن کے اندر روزہ رکھنے سے پیدا ہوتی ہیں۔ اللہ کا ایک بندہ اللہ کے لیے دن بھر بھوکا پیاسا رہتا ہے۔ پھر شام کو جب وہ کھانے اور پانی سے اپنے آپ کو شاد کام کرتا ہے تو اس وقت اس کے قلب میں اپنے رب کے لیے جو کیفیات امنڈتی ہیں، وہ کیفیات اسی قسم کے لفظوں میں ڈھل جاتی ہیں جس کا ایک نمونہ ان دعاؤں میں نظر آتا ہے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا قرآن میں روزہ کا حکم سورہ البقرہ رکوع ۲۳ میں ہے۔ قرآن کا یہ حصہ ۵۳ھ میں مدینہ اس سے پہلے مکہ میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب ہر مہینہ میں چند دن کا روزہ مگر ایک مہینہ کے روزہ کی فرضیت کا باقاعدہ حکم مدینہ میں نازل ہوا۔ یہ تدریج کا طریقہ ہے اور یہ طریقہ اسلام کے تمام احکام میں ملحوظ رکھا گیا ہے۔
روزہ کے لیے عربی لفظ صوم ہے۔ صوم کے اصل معنی ہیں رکنا۔ صائم کا مطلب ہے رکنے والا۔
یا صائم چونکہ روزہ کے دنوں میں کھانے پینے سے وقتی طور پر رک جاتا ہے۔ اس لیے اس کو صائم کہا جاتا ہے۔ اس اعتبار سے روزہ کے مہینہ کو پر ہیز کا مہینہ کہا جاسکتا ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ شعبان کے مہینہ کے آخر میں، جب کہ رمضان قریب آچکا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی مسجد نبوی میں خطبہ کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ نے رمضان کے مہینہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت بیان کی۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو، تمہارے اوپر ایک ایسے مبارک مہینہ نے سایہ کیا ہے جس کا پہلا حصہ رحمت ہے۔ اس کا در میانی حصہ مغفرت ہے۔ اس کا آخری حصہ آگ سے نجات دلاتا ہے۔ یعنی رمضان کے مہینہ میں داخل ہونا ایسے مہینہ میں داخل ہونا ہے جس میں اللہ بندوں کے اوپر اپنی خصوصی رحمت نازل فرماتا ہے۔ اس مہینہ میں اللہ کی توفیق سے آدمی ایسے اعمال کرتا ہے جو اس کی مغفرت کا ذریعہ بننے والے ہوں۔ وہ اسی طرح اس مہینہ سے گزرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ اُس کے آخر میں پہنچتا ہے تو وہ ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جس کو آگ سے نجات دی جائے اور اس کو جنت میں داخل کیا جائے۔
روایات میں مزید بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے بارہ میں اس قسم کا خطبہ دیا تو حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے آپ سے ایک سوال کیا۔ انہوں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، اس مہینہ میں سب سے افضل عمل اور سب سے بہتر عمل کیا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس مہینہ میں سب سے بہتر عمل ہے۔ اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے بچنا ( افضل الاعمال في هذا الشعر الورع عن محارم الله)
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ یا صوم کی ایک شکل ہے، اور ایک اس کی اسپرٹ اس کو سمجھنے کے لیے صوم اسپرٹ کہا جاسکتا ہے۔ یہ صوم اسپرٹ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ان چیزوں سے روکے جن سے رکنے کا اللہ نے حکم دیا ہے۔ وہ رمضان کے مہینہ کے صوم کو اپنے لیے سال بھر کا صوم بنالے۔ رمضان کے دنوں میں کھانے پینے جیسی چیزوں سے رکنا یا اُن کا روزہ رکھنا گویا اسی کا ایک عملی سبق وہ آدمی کے اندر اسی صوم اسپرٹ کو جگانے کی ایک تدبیر ہے۔ کھانا اور پینا آدمی کی ناگزیر ضرورتوں میں سے ہے۔ کھانا پینا وہ آخری چیز ہے جس سے کسی آدمی کورو کا جائے۔ ایسی حالت میں انسان کو اس کی آخری ضرورت سے روکنا گویا اس کو شدید تر انداز میں یہ سبق دینا ہے کہ اللہ نے تم کو جن چیزوں سے
روکا ہے ، ان سے ہر حال میں تمہیں رکنا ہے، خواہ یہ رکناتمہارے ذوق اور تمہاری عادت کے لیے کتنا ہی زیادہ سخت کیوں نہ ہو، خواہ ان ممنوعہ چیزوں کی فہرست تمہاری زندگی کی لازمی ضرورتوں تک کیوں نہ پہنچ
اس طرح کی اور بہت سی حدیثیں ہیں جن سے روزہ کے بارے میں اس چیز کی اہمیت معلوم ہوتی ہے جس کو میں صوم اسپرٹ کہہ رہا ہوں۔ مثلاً صحیح بخاری کی ایک روایت ہے۔ اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس آدمی نے روزہ رکھا۔ مگر روزہ رکھ کر اس نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑا تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور اپنا پانی چھوڑ دے۔ یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ وہی روزہ روزہ ہے جس کے اندر روزہ کی روح یا صوم اسپرٹ پائی جائے ۔ جس کے لیے کھانا اور پانی چھوڑنا تمام خدائی ممنوعات کو چھوڑنے کی علامت بن جائے۔ جس کا روزہ گویا اس بات کا اعلان ہو کہ میں اللہ کی خاطر ہر چیز چھوڑ دوں گا ، حتیٰ کہ ضرورت ہو تو کھانا ، اور پانی بھی۔ جب آخری چیز کی بابت بول دیا جائے تو بقیہ چیزیں اپنے آپ اس میں شامل ہو جاتی ہیں۔ جس حدیث کا ابھی میں نے ذکر کیا ، اس کے مطابق ، اُسی روزہ دار کے روزہ کی قیمت ہے جو جھوٹ اور دوسری باتوں کو خدا کے منع کرنے کی بنا پر چھوڑ دے جس طرح وہ خدا کے منع کرنے کی بنا پر رمضان میں کھانا اور پانی چھوڑتا ہے۔ جو شخص روزہ کی عبادت اس طرح کرے کہ وہ جھوٹ بولے ، وہ جھوٹی باتوں پر عمل کرتا ہو، تو اس کا روزہ صوم اسپرٹ سے خالی ہے، اور صوم اسپرٹ کے بغیر کسی کا روزہ اللہ کے یہاں قبول نہیں۔
جھوٹ کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی خود خلاف واقعہ بات کہے۔ وہ ایسی بات اپنے منہ سے نکالے جس کے متعلق اس کو معلوم ہو کہ وہ درست نہیں ہے۔ مگر حدیث میں جھوٹ کی اور بھی قسمیں بتائی مثلاً ایک حدیث کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اس کو بیان کرنے لگے۔ گویا دوسروں سے کوئی بات سننا اور اس کو تحقیق کے بغیر دہرانے لگنا بھی جھوٹ میں شامل ہے۔ جو آدمی چاہتا ہو کہ وہ اللہ کے یہاں روزہ داری کے نمبر حاصل کرے ، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ جھوٹ کی تمام قسموں سے اپنے آپ کو دور رکھے۔
طرح بتائی گئی ہے کہ جب بھی کسی روزہ رکھے ہوئے آدمی کو گالی دی جائے اور روزہ دار اس کے جواب میں غصہ ہونے کے بجائے یہ کہے کہ تم پر سلامتی ہو (سلام علیکم) وہ کہے کہ تم نے اگر مجھ کو گالی دی ہے تو میں ایسا نہیں کروں گا کہ میں بھی تم کو گالی دینے لگوں۔ جو آدمی ایسا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندے نے ایک شخص کی برائی کے مقابلہ میں روزہ کی پناہ لی تو میں نے بھی اپنے اس بندے کو آگ سے پناہ دے دی۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ آدمی کو منفی نفسیات سے بچاتا ہے اور اس کے اندر مثبت نفسیات کی پرورش کرتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی پر مشتعل دوسروں سے برائی کا تجربہ ہو تب بھی وہ ان کے ساتھ بھلائی کرے۔ کوئی شخص اسے گالی دے تب بھی وہ اس کے ساتھ شفقت کا سلوک کرے۔ روزہ آدمی کے اندر یہ جذبہ ابھارتا ہے کہ وہ اپنے دشمن کو دعائیں دے۔ جو لوگ اس کے ساتھ برائی کریں ان کے حق میں وہ اپنے رب سے بہتری کی
روزہ دنیا میں برائیوں کے مقابلہ میں ڈھال ہے۔ اور آخرت میں وہ جہنم کے مقابلہ میں آدمی کی ڈھال بن جائے گا۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ روزہ صرف کھانا اور پینا چھوڑنے کا نام نہیں ہے۔ روزہ دراصل یہ ہے کہ آدمی لغو اور بے ہودہ بات کو چھوڑ دے (ليس الصيام من الأكل والشرب انما الصيام من اللغو والرفث)
ایک شخص اگر بظاہر روزہ رکھے اور اسی کے ساتھ وہ جھوٹ بولے، گالی دے، غیبت کرے۔ بدخواہی کرے کسی کو بے عزت کرنے والے کلمات بولے، تو اس قسم کے اعمال میں مبتلا شخص سچا روزہ دار نہیں ہے۔ اس قسم کا روزہ حدیث کے الفاظ میں، ایسا ہی ہے جیسے کسی آدمی نے خدا کی جائز کی ہوئی چیز سے روزہ رکھا اور پھر خدا کی حرام کی ہوئی چیز سے اس نے افطار کر لیا۔ اسی نوعیت کی ایک حدیث وہ ہے جس کو بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ اس کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے۔ پس جب تم میں سے کسی شخص کے روزہ کا دن ہو تو وہ نہ فحش کلامی کرے اور نہ شور کھلے۔ اور اگر کوئی آدمی اس کو برا کہے یا اس سے لڑائی
کرے تو اس کو چاہیے کہ وہ کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔
یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے صوم اسپرٹ کہا ہے۔ موجودہ دنیا میں مومن کا رویہ ردعمل کا رو یہ نہیں مومن کے لیے درست نہیں کہ کوئی شخص اس کو غصہ دلائے تو وہ غصہ میں آکر اس سے لڑنے لگے، مومن کو اپنی زبان یا اپنے رویہ سے یہ بتانا چاہیے کہ میں تم سے مختلف آدمی ہوں۔ روزہ دار آدمی ہوں۔ میں نے اپنے آپ کو خدا مرضی کا پابند بنارکھا ہے۔ میں تمہاری طرح بے قید نہیں ہوں کہ جو چاہوں کرنے لگوں۔
روزہ گویا خواہشات پر روک لگانے کی مشق ہے۔ رمضان کے مہینہ میں اس کی مشق اس آخری حد پر کرائی جاتی ہے کہ آدمی کو کھانا اور پانی جیسی ضروری چیزوں کے استعمال سے بھی روک دیا کھانا پینا انسان کے لیے بالکل جائز ہے۔ مگر روزہ کے دنوں میں اس ضروری چیز پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے، تاکہ آدمی کو موجودہ دنیا میں جو پابند زندگی گزارنا ہے، اس کا احساس اس کو آخری حد تک کرایا جاسکے۔
رمضان کے مہینہ میں جو اعمال کیے جاتے ہیں ان میں سے ایک عمل تراویح ہے۔ یعنی عشاء کی نماز کے بعد جماعت کے ساتھ کچھ اور نمازیں ادا کرنا۔ تراویح در اصل تہجد ہے۔ عام لوگوں کی سہولت کی بنا پر اس کا وقت کچھ پہلے مقرر کر دیا گیا ہے۔
تہجد کو قرآن میں نافلہ (بنی اسرائیل 79) کہا گیا ہے۔ نافلہ کے معنی زائد یا مزید کے ہوتے ہیں۔ تہجد (یا تراویح) عبادت مزید ہے۔ جب کوئی شخص کسی کے بارہ میں بہت اعلیٰ جذبات پا رہا ہو تو وہ اس کے لیے ضروری فرائض سے زیادہ کچھ کرنا چاہتا ہے۔ بندے کے اندر یہی احساس اپنے رب کے بارہ میں اور بھی زیادہ شدت کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ مقررہ عبادت کے ساتھ کچھ مزید عبادت ادا کرے ۔ اہل ایمان کے اوپر پانچ وقت کی نماز کی فرض کی گئی ہے۔ مگر ایک سچا مومن عین اپنے فطری تقاضے کے تحت چاہتا ہے کہ وہ اپنے رب کی کچھ اور بھی عبادت کرے ۔ اسی عبادت مزید کی ایک شکل تہجد ہے۔ رات کی اس نماز کو جب موخر کر کے پڑھا جائے تو اس کو تہجد کہا جاتا ہے۔ اور رات کی اس نماز کو جب مقدم کر کے پڑھیں تو اسی کا نام تراویح ہے۔
تراویح کے ذریعہ گویا اجتماعی نظم کے تحت مسلمانوں کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ تم کو عبادت مفروضہ ذاریخ ۱۹۹۲ | المسائل 17
اس کو گویا ابھی تک عبادت الہی کا ذائقہ نہیں ملا۔
رمضان کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس مہینہ میں لیلۃ القدر (شب قدر) لیلۃ القدر کے معنی ہیں فیصلے کی رات۔ سال میں ایک خاص رات ہے جس میں اللہ تعالی کے سالانہ فیصلے کیے جاتے ہیں۔ یہ رات رمضان کے آخری عشرہ میں آتی ہے۔ اس رات کی اتنی اہمیت ہے کہ اس کو ہزار مہینوں سے بہتر بتایا گیا ہے۔
غالباً اس رات کو بہت زیادہ فرشتے اترتے ہیں۔ یہاں تک کہ زمین پر فرشتوں کی کثرت ہو جاتی ہے۔ اسی بنا پر اس رات کو زمین پر مخصوص روحانی ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔ جن لوگوں کے اندر روحانی تاثر پذیری کا مادہ ہو، وہ اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اس تاثر کی بنا پر ان کے قول و عمل میں غیر معمولی ربانی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس اضافہ شدہ کیفیت کی بنا پر اس رات میں ان کے عمل کی قدر و قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔
حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں لیلۃ القدر کو پاؤں تو میں کس طرح دعا کروں۔ آپ نے فرمایا کہ اس طرح کہو : اَللّٰھُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي (اے اللہ! تو معاف کرنے والا ہے اور معافی کو پسند کرتا ہے، تو مجھے معاف فرما)
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالی سے مانگنے کی سب سے بڑی چیز کیا ہے۔ اللہ سے مانگنے کی سب سے بڑی چیز معافی ہے۔ معافی وہ چیز ہے جو آدمی کے لیے سب سے بڑی سعادت کا دروازہ وہ آدمی کو ابدی جنت میں پہنچانے والی ہے۔ پھر سب سے بہتر وقت میں سب سے بہتر مانگنے کی چیز معافی کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے۔
رمضان کے مہینہ کا ایک عبادتی عمل وہ ہے جس کو اعتکاف کہا جاتا ہے۔ یعنی مہینہ کے آخر میں دس دن یا اس سے کم یا زیادہ مدت کے لیے مسجد میں بیٹھنا۔ یہ اعتکاف رمضان کے عام اعمال سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ رمضان کے عام اعمال ہی کی زیادہ مرتکز صورت ہے۔ رمضان کے دن اور رات میں ایک روزہ دار جو کچھ کرتا ہے ، اسی کو مزید یکسوئی اور اہتمام کے ساتھ کرنے کے لیے وہ اپنے ماحول سے الگ ہو کر چند دنوں کے لیے مسجد میں بیٹھ جاتا ہے۔
روزوں میں مزید زندگی پیدا ہوتی ہے۔ جب وہ اعتکاف سے نکلتا ہے تو وہ ایک نئی ربانی شخصیت لے کر نکلتا ہے، ایسی شخصیت جس کے اثرات مہینوں تک بھی ختم نہ ہوں، جو مسجد کے باہر کی دنیا میں بھی اسی طرح برائیوں سے الگ رہے جس طرح وہ اعتکاف کے دوران اپنے ماحول سے الگ ہو گیا تھا۔ وہ اپنی پوری زندگی میں برائیوں سے علیحدہ رہنے والا انسان بن جائے۔
روزہ کا مہینہ ختم ہونے کے بعد اگلا دن عید کا ہوتا ہے۔ عید کے دن مسلمان دو رکعت خصوصی نماز ادا کرتے ہیں۔ نئے کپڑے پہنتے ہیں۔ آزادانہ طور پر کھاتے پیتے ہیں۔ دوستوں اور رشتہ داروں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ روزہ کے دن اگر پابندی کے دن تھے ۔ تو عید کا دن مسلمان کے لیے آزادی کا دن ہوتا ہے۔
یہ علامتی طور پر دو حالتوں کا تجربہ ہے ۔ ایک، دنیا کی حالت۔ اور دوسری، آخرت کی حالت۔ دنیا مومن کے لیے پابندی کا دور ہے اور آخرت مومن کے لیے آزادی کا دور ہے۔ رمضان کے مہینہ میں اس کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ موجودہ دنیا میں اس کو کس طرح زندگی گزارنا ہے۔ عید کے دن جزئی طور پر اس کو یہ تجربہ کرایا جاتا ہے کہ اگلی دنیا میں اس کو کس قسم کی زندگی حاصل ہوگی۔ عمل کے دور کی علامت ہے اور عید انعام کے دور کی علامت۔