روزہ اور قرآن
Al-Risala, March 1992, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں روزہ کا حکم دیتے ہوئے خصوصیت کے ساتھ نزولِ قرآن کا ذکر کیا گیا ہے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ روزہ اور قرآن میں خاصی مناسبت ہے۔ قرآن کے الفاظ یہ ہیں: شهر رمضان الذى انزل فيه رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اتارا گیا۔ القرآن هدى للناس وبینات من لوگوں کے لیے اور کھلی نشانیاں راستہ کی اور حق و الهدى والفرقان فمن شهد منكم باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا۔ پس تم میں سے الشهر فليصمه (البقره ۱۸۵) جو شخص اس مہینہ کو پائے وہ اس کے روزے رکھے۔ قرآن کا نزول ۶۱۰ء میں شروع ہوا۔ یہ قمری کیلنڈر کے اعتبار سے رمضان کا مہینہ تھا۔ وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس وقت اتری جب کہ آپ حرا نامی غار میں تھے۔ غارِ حرا میں قرآن کا اترنا شروع ہوا اور ۲۳ سال کی مدت میں تدریجی نزول کے بعد وہ مدینہ میں اپنی تکمیل کو پہنچا۔ قرآن جیسے ہدایت نامہ کا نزول انسان کے اوپر اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام ہے۔ کیوں کہ وہ انسان کو سب سے بڑی کامیابی کا راستہ دکھاتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ انسان کس طرح اپنی موجودہ زندگی کو بامعنی بنائے تا کہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں وہ معنویت سے بھری ہوئی اس دنیا میں داخلہ پا سکے جس کا نام جنت ہے۔ جنت انسان کی منزل ہے، اور روزہ گویا اس جنت تک پہنچنے کا راستہ۔ رمضان کا مہینہ اسی نعمت کی سالانہ یادگار منانے کا مہینہ ہے۔ قرآن کے نزول کی یہ یادگار جشن کی صورت میں نہیں منائی جاتی بلکہ تقویٰ اور شکرگزاری کے ماحول میں منائی جاتی ہے۔ اس مہینے میں روزہ رکھنا نعمت خداوندی کا سنجیدہ اعتراف ہے۔ وہ عمل کی زبان میں یہ کہنا ہے کہ ________ خدایا، میں نے سنا اور میں نے اس کو تسلیم کیا۔
اسی کے ساتھ رمضان کا مہینہ قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے کا مہینہ ہے۔ اس مہینہ میں خصوصیت سے قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے۔ راتوں میں تراویح کی صورت میں قرآن کو ادب واحترام کے ساتھ سنا جاتا یہ مہینہ اس مقصد کے لیے خاص ہے کہ اس میں اللہ کی سب سے بڑی نعمت کا سب سے زیادہ تذکرہ کیا جائے
نزولِ قرآن کے مہینہ میں قرآن کو پڑھتے ہوئے آدمی کو وہ لمحہ یاد آتا ہے جب کہ آسمان اور زمین کے درمیان نورانی اتصال قائم ہو۱۔ اس کو یاد کر کے وہ پکار اٹھتا ہے کہ خدایا، تو میرے سینہ کو بھی اپنی تجلیات سے روشن کر دے۔ قرآن میں وہ ان سعید روحوں کی بابت پڑھتا ہے جنہوں نے مختلف وقتوں میں ربانی زندگی گزاری۔ وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا، تو مجھ کو بھی اپنے ان پسندیدہ بندوں میں شامل قرآن میں وہ جنت اور جہنم کا تذکرہ پڑھتا ہے۔ اس وقت اس کی روح سے یہ صدا بلند ہوتی ہے کہ خدایا، مجھے جہنم سے بچالے اور مجھ کو جنت میں داخل کر دے۔
اس طرح قرآن اس کے لیے ایک ایسی کتاب بن جاتا ہے جس میں وہ جئے۔ جس سے وہ اپنے لیے رزق حاصل کرے۔ جس کے نورانی سمندر میں غسل کر کے وہ پوری طرح پاک ہو جائے۔ قرآن بندے کے اوپر اللہ کا انعام ہے، اور روزہ بندے کی طرف سے اس انعام کا عملی روزہ کے ذریعہ بندہ اپنے آپ کو شکر گزاری کے قابل بناتا ہے۔ وہ ایک غیر معمولی خدائی حکم کی تعمیل کر کے خدا کی برتری کے احساس کو اپنے اوپر طاری کرتا ہے۔ روزہ کے کورس سے گزر کر وہ اپنے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ قرآن کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق وہ دنیا میں متقیانہ زندگی گزار سکے۔
روزہ ایک مخصوص عمل ہے۔ اس سے آدمی کے دل میں نرمی اور شکستگی آتی ہے۔ روزہ آدمی کے اندر یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ وہ اپنے اندر لطیف نفسیات کو جگائے۔ وہ ان کیفیتوں کو احساس کی سطح پر پا سکے جو اللہ کو اپنے بندوں سے اس دنیا میں مطلوب ہیں۔ روزہ کا پر مشقت تجربہ آدمی کو مادی سطح سے اٹھا کر روحانی سطح کی طرف لے جاتا ہے۔ ایک قسم کی تربیت ہے جس سے آدمی کے اندر یہ استعداد پیدا ہوتی ہے کہ وہ تڑپ کی سطح پر خدا کا عبادت گزار بنے۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ اللہ کی شکر گزاری میں اس کا سینہ تڑپے۔ اور اللہ کی پکڑ کے خوف سے اس کے اندر کپکپی پیدا ہو۔