Al-Risala · March 1992

پابند زندگی کی مشق

Al-Risala, March 1992, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ روزہ ڈھال ہے وسلم، الصيام جنة فاذا كان يوم صوم أحدكم پس جب تم میں سے کسی کا روزہ کا دن ہو تو وہ نہ فحش فلا يرفث يومئذ ولا يصخب فان شاتمہ احد کلامی کرے اور نہ شور کرے ۔ اور اگر کوئی شخص اس او قاتلہ فلیقل انی صائم (اخرجه البخاری کو برا کہے یا اس سے لڑائی کرے تو اس کو چاہئے کہ وہ ومسلم) کہہ دے کہ میں روزہ دار ہوں ، میں روزہ دار ہوں۔

عن ابی عبیدۃ بن الجراح قال سمعت النبی صلی اللہ حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم عليه وسلم يقول: الصوم جنة ما لم يخرقھا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ روزہ ڈھال ہے جب تک (اخرجہ النسائی) آدمی اس کو نہ توڑے۔

روزہ خواہشات پر روک لگانے کی مشق ہے۔ رمضان کے مہینے میں اس کی مشق اس آخری حد پر کرائی جاتی ہے کہ کھانا پینا جیسی ضروری چیزوں کے استعمال سے بھی روک دیا جاتا ہے۔ کھانا پینا انسان کے لئے عین مگر روزہ کے دنوں میں اس پر بھی پابندی لگادی جاتی ہے تاکہ دنیا میں پابند زندگی گزارنے کی اہمیت کا شدید احساس پیدا ہو۔

روزہ کا یہ مقصد اگر آدمی کے ذہن میں تازہ ہو تو وہ اشتعال کے مواقع پر مشتعل ہونے سے بچے گا۔ کیونکہ روزہ اپنے آپ پر کنٹرول کرنے ہی کا تو سبق ہے۔ پھر روزہ رکھتے ہوئے وہ اپنے آپ کو کنٹرول سے باہر کیسے لے جاسکتا ہے۔

اس طرح کا شدید سبق ہر سال کے ایک مہینہ میں عملی طور پر دیا جاتا ہے۔ اگر آدمی صحیح شعور اور جذبہ کے ساتھ روزہ رکھے تو ایک مہینہ کی اس تربیت کا اثر اس کی بارہ مہینہ کی زندگی تک باقی رہے گا۔ کے دوران جب اس نے اپنے آپ کو تھاما تھا۔ جب وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہیں ہوا تھا۔ تو تربیت کے بعد یقیناً اس کے اوپر اس کے اثرات باقی رہیں گے۔ لوگ اس کو بقیہ مہینوں میں بھی "روزہ دار" پائیں گے۔ جس طرح انھوں نے اس کورمضان کے مہینہ میں روزہ دار پایا تھا۔

روزہ بلاشبہ ایک اعلیٰ عبادت ہے اور اس کا بہت ثواب ہے۔ مگر یہ ثواب حقیقت روزہ پر مقرر کیا گیا ہے نہ کہ محض صورت روزہ پر۔

حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نیکیوں کا بدلہ دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک دیتا ہے۔ خاص اللہ کے لئے ہے اور وہی اس کا (بے حساب) بدلہ دے گا۔ دوسری طرف حدیث میں ہے کہ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جن کو اپنے روزہ سے بھوک پیاس کے سوا اور کچھ نہیں ملتا۔ ایک روزہ اور دوسرے روزہ میں اس فرق کی وجہ کیا ہے جب کہ بظاہر ہر آدمی کا روزہ یکساں اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ کی جو ظاہری شکل ہے وہی اصل روزہ نہیں ہے بلکہ وہ اصل روزہ کی ایک علامت ہے۔ ایک شخص وہ ہے جو علامتی روزہ کو اس کی اصل حقیقت کے ساتھ رکھتا ہے، وہ خدا کے یہاں اس کا بہت بڑا اجر پائے گا۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہے جو علامتی روزہ کا اہتمام کرے اور حقیقی روزہ کو چھوڑ دے، ایسے آدمی کے روزہ کی خدا کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ جو چیز علامتی نوعیت رکھتی ہو اس کی قدر و قیمت کا تعین ہمیشہ اس کی حقیقت کے اعتبار سے ہوتا ہے نہ کہ محض اس کی ظاہری صورت کے

روزہ کی ظاہری صورت کھانا پینا چھوڑ دینا ہے۔ یہ "چھوڑنا" اس بات کی علامت ہے کہ بندہ خدا کے حکم کے ماتحت ہے۔ وہ ہر اس چیز کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے جس کو چھوڑنے کا خدا اسے حکم دے۔ حتیٰ کہ اگر وہ حکم دے تو وہ کھانے پینے جیسی ضروری چیزیں بھی اس کی خاطر چھوڑ دے گا۔ اب ظاہر ہے کہ جو شخص ایک مہینہ کے مخصوص اوقات میں کھانا پینا چھوڑ دے۔ مگر خدا کی دوسری منع کی ہوئی چیزوں، مثلاً جھوٹے بول اور جھوٹی کارروائیاں نہ چھوڑے، اس نے گویا علامتی حکم کی تو پیروی کی مگر جو اصلی حکم تھا اس کو نظر انداز کر دیا۔ ایسا آدمی کسی انعام کا مستحق نہیں ہو سکتا۔ روزہ دار دراصل وہ ہے جس کا روزہ اس کی پوری زندگی کا روزہ بن جائے، جو تمام معاملات میں اس کے اوپر خدا کی لگام لگا دے۔ اس کی زبان بد خواہی کا کلمہ بولنا چھوڑ دے۔ اس کا ہاتھ ظالمانہ کارروائی کرنے سے رک جائے۔ اس کے پاؤں بے انصافی کے راستوں میں نہ چلیں۔ حدیث کے الفاظ میں، وہ اس گھوڑے کی مانند ہو جائے جو کھونٹے سے بندھا ہوا ہے۔ اس کی رسی جتنی لمبی ہے بس اسی کے دائرہ میں وہ گھومتا رہتا ہے، وہ اس کے باہر نہیں جا سکتا۔

روزہ حقیقتہً برائی کو چھوڑنے کا نام ہے۔ اسی کا روزہ روزہ ہے جو اس کے لئے زندگی کے تمام معاملات میں برائی کو چھوڑ دینے کے ہم معنی بن جائے۔

Printed page