Al-Risala · March 1992

برکتاورں کا مہینہ

Al-Risala, March 1992, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

رمضان کا مہینہ ہر قسم کی خیر وبرکت کا مہینہ ہے۔ اس کے ذریعہ سے روزہ دار کو جسمانی صحت، روحانی پاکی، معاشی فراوانی اور دوسری برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ خدا پرست لوگوں کے لیے رمضان کے مہینہ کا آنا ایسا ہی ہے جیسے بہار کی فصل کا آنا۔

رمضان کا مہینہ اسلامی شریعت میں روزہ کا مہینہ ہے۔ رمضان کا آغاز شعبان کی آخری تاریخ کو چاند دیکھنے سے ہوتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا پہلا چاند پر دیکھا تو فرمایا: (اللهم أهله علينا بالامن والايمان والسلامة والاسلام (اے اللہ، تو اس آنے والے مہینہ کو ہمارے لیے امن اور ایمان اور سلامتی اور اسلام کا مہینہ بنا دے)

اس سے معلوم ہوا کہ رمضان کے مہینہ کا خاص مقصد آدمی کے اندر ایمان و اسلام اور سلامتی کے احساس کو جگانا ہے۔ اس مہینہ میں روزہ کے تربیتی کورس سے گزار کر آدمی کے اندر روحانی اور انسانی کیفیات کو ابھارا جاتا ہے۔ تاکہ وہ اس قابل ہو جائے کہ آئندہ سال بھر اس طرح رہے کہ ایک طرف اللہ سے اس کا ایمانی تعلق مضبوط ہو، اور دوسری طرف وہ لوگوں کے درمیان امن و سلامتی والا انسان بن کر رہ سکے۔ وہ خدا کا اچھا بندہ بھی بنے اور سماج کا اچھا فرد بھی۔ اس کے بعد روزہ دار فجر سے پہلے سحری کھاتا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ سحری کھاؤ، کیوں کہ سحری میں برکت ہے (تسحر وا فان فى السحو ربركة) فجر سے پہلے اٹھ کر اگلے دن کے روزہ کی نیت کرنا اور آخری کھانے کے طور پر سحری کھانا بہت بامعنی ہے۔ یہ گویا اپنے اندر روزہ کی آمادگی پیدا کرنا ہے۔ اصطلاح میں کہا جاسکتا ہے کہ یہ ذہن کی پروگرامنگ ہے۔ اس طرح آدمی ذہنی طور پر تیار ہو جاتا ہے کہ وہ صبح سے شام تک روزہ کے عمل کا تحمل کر سکے۔ عام دنوں میں اگر صبح سے شام تک کھانا اور پانی نہ ملے تو آدمی سخت تکلیف محسوس کرتا ہے۔ مگر رمضان میں وہ پورے مہینے تک اس کو بآسانی گوارا کر لیتا ہے۔ اس کی وجہ یہی ذہن کی پروگرامنگ ہے۔

حدیث میں آیا ہے کہ روزہ برائیوں کے خلاف ڈھال ہے۔ تمام برائیوں کا سبب نفسانی جذبات مثلاً کوئی شخص اشتعال دلانے والے الفاظ بول دے تو آدمی غصہ میں بھڑک کر اس سے

لڑنے لگتا ہے۔ روزہ اس کے خلاف چیک ہے۔ روزہ میں فاقہ کا عمل نفسانی جذبات کو مضمحل کرتا ہے۔ وہ مختلف عبادتی اعمال کے ذریعہ آدمی کے اندر روحانیت کو ابھارتا ہے۔ اس طرح آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ رد عمل کی نفسیات سے بچے اور غصہ کی بات پر بھی غصہ میں نہ آئے۔ رمضان کا غذائی روزہ اس کو بقیہ دنوں کے لیے اخلاقی روزہ دار بنا دیتا ہے۔

دن بھر نماز، صدقہ ، دعا ، تلاوت قرآن اور یادِ الہی میں گزار کر روزہ دار شام کو افطار کرتا ہے۔ یہ افطار گویا روزہ کے عمل پر خدا کا نقد انعام ہے۔ دن بھر کے فاقہ کے بعد کھانا اور پانی کو پا کر روزہ دار جو خوشی ہوتی ہے وہ اس زیادہ بڑی خوشی کی علامت ہے جو آخرت میں خدا کے ابدی انعام کو پا کر روزہ دار کو ہوگی۔ رمضان دار العمل کی علامت ہے اور افطار دار الجزاء کی علامت۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ روزہ میں آدمی جو عمل کرتا ہے اس کا ثواب اس کو عام دنوں سے زیادہ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ میں آدمی کی روحانی کیفیت بہت بڑھ جاتی ہے۔ آدمی روزہ میں جو عمل کرتا ہے وہ زیادہ کیفیت لیے ہوئے ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس کے عمل کا ثواب بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ علیہ وسلم نہایت فیاض تھے۔ مگر رمضان کے مہینہ میں آپ کی فیاضی بہت بڑھ جاتی تھی۔ اس سے روزہ کی اسپرٹ کا اندازہ ہوتا ہے۔ روزہ میں آدمی کو مشقت کا تجربہ کرایا جاتا ہے، تاکہ وہ مشقت میں پڑے ہوئے لوگوں کی مشقتوں کو جانے اور ان کی مدد کے لیے کھڑا ہو جائے ۔ دوسروں کی مدد کرنا ایک اسلامی فریضہ ہے۔ روزہ اس فریضہ کے لیے ابھارنے کا کام کرتا وہ دوسروں کی مدد کی روح آدمی کے اندر جگا دیتا ہے۔

روزہ میں اپنے آپ پر احتیاج کی حالت طاری کرنے سے دوسرے محتاجوں کی ضرورت کا احساس جاگتا ہے۔ آدمی اس مہینہ میں زیادہ بڑھے ہوئے جذبہ کے تحت مزید صدقہ و خیرات کرنے لگتا ہے ۔ اس طرح روزہ کا مہینہ پورے سماج کے لیے معاشی برکت کا مہینہ بن جاتا ہے۔ روزہ دار سماج سے رزق کی تنگی اٹھالی جاتی ہے۔

روزہ کی برکتیں پہلے رمضان کے مہینہ میں آتی ہیں۔ اس کے بعد برکتوں کا اثر سال کے بقیہ مہینوں میں بھی جاری رہتا ہے۔ رمضان کا مہینہ اگر براہِ راست طور پر روزہ کے فوائد و برکات کا مہینہ ہے تو سال کے بقیہ مہینے بالواسطہ طور پر روزہ کے فوائد و برکات کے مہینے ۔

Printed page