روزہ اور کردار
Al-Risala, March 1992, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
مَنْ لَّمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّوْرِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ جس روزہ دار نے جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا لِلَّهِ حَاجَةً فِيْ أَنْ يَّدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ چھوڑا تو اللہ کو اس کی حاجت نہیں کہ وہ اپنا (رواه البخاري) کھانا اور اپنا پینا چھوڑ دے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آدمی کی عبادت کی قیمت اس وقت ہے جب کہ اسی کے ساتھ وہ جھوٹ بولنا اور جھوٹ پر عمل کرنا نہ چھوڑے ہوئے ہو۔ جو شخص اس طرح عبادت کرے کہ عبادت گزاری کے ساتھ وہ جھوٹ بولتا ہو اور جھوٹ پر عمل کرتا ہو تو اس کی عبادت گزاری اللہ کے یہاں قابل قبول نہیں ٹھہرے گی۔ اللہ کو بے جھوٹ کا عمل مطلوب ہے نہ کہ وہ عمل جس کے ساتھ جھوٹ شامل ہو۔ اس حدیث میں دو لفظ آئے ہیں۔ ایک ہے جھوٹ بولنا۔ دوسرے جھوٹ پر عمل کرنا۔ بولنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی گفتگو میں اس کی پابندی نہ کرتا ہو کہ وہ ہمیشہ مطابق واقعہ بات کہے۔ اور جو بات واقعہ کے مطابق نہ ہو اس کو اپنی زبان سے نہ نکالے۔ تاہم صرف وہی شخص جھوٹا نہیں ہے جو جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہو، جو پہلے سے طے کیے ہوئے ذہن کے مطابق جھوٹی بات کہے ۔ کے مطابق وہ شخص بھی جھوٹا ہے جو خود ارادہ کر کے جھوٹ نہ بولے، مگر وہ ایسی بات کہے جو عملاً ایک جھوٹی بات ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سنی ہوئی بات کو بلا تحقیق دہرانا بھی جھوٹ ہے :
كفى بالمرء كذبا ان يحدث بكل آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اس کو بیان کرنے لگے۔
جھوٹ پر عمل کرنا یہ ہے کہ آدمی جھوٹ کو اپنے عمل کی بنیاد بنائے۔ وہ جھوٹا نعرہ کھڑا کر کے قوم کے اوپر لیڈری حاصل کرے ۔ وہ ایک بے بنیاد قصہ گھڑ کر اس کے ذریعہ کسی بندہ خدا کو بدنام وہ جھوٹی دستاویز تیار کر کے کسی کی جائداد کو اپنی جائداد بنائے ۔ وہ فرضی تقریریں کر کے عوام کے درمیان مقبولیت حاصل کرے ۔ وہ موجودہ دنیا میں جھوٹ کی بنیاد پر کھڑا ہونے کی کوشش کرے نہ کہ سچ کی بنیاد پر۔
روزہ کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ اس کا ثواب عام اعمال سے زیادہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ میں قربانی کا پہلو شامل ہے ۔ روزہ مطلوب اعمال کو قربانی کی سطح پر انجام دینا ہے ۔ رمضان میں ایک مہینے کا روزہ رکھنا اسلام کی ایک خصوصی عبادت ہے اور حدیث میں مختلف طریقوں سے اس کے خصوصی ثواب کو بتایا گیا ہے۔ ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
عن أبى هريرة ، قال قال رسول الله صلى الله حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عليه وسلم : كل عمل بن آدم یضاعف فرمایا۔ انسان کے ہر عمل کی نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک الحسنة بعشر مثالها إلى سبعمائة ضعف، بڑھائی جاتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا کہ روزہ کا معاملہ قال الله تعالى الا الصوم فانه لي وانا جدا ہے۔ روزہ میرے لیے ہے، اور میں ہی اس کا بدلہ أجزي به ۔ يدعُ شهوته و طعامه دوں گا۔ بندہ اپنی خواہش کو اور اپنے کھانے کو میرے من اجلی - للصائم فرحتان - فرحة لیے چھوڑتا ہے۔ روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں، ایک عند فطره وفرحة عند لقاء ربہ خوشی روزہ افطار کے وقت، اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملنے کے وقت۔
روزہ کا یہ غیر معمولی فائدہ اس لیے ہے کہ روزہ کی مشقت آدمی کی نفسیات کے اندر غیر معمولی کیفیت پیدا کرتی اس کی زبان سے غیر معمولی انداز کی دعائیں نکلنے لگتی ہیں۔
روزہ میں جب بھوک پیاس تڑپاتی ہے تو آدمی کو اپنی بے چارگی یاد آتی ہے۔ وہ مزید اضافہ کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کرنے لگتا ہے ۔ وہ کہہ اٹھتا ہے کہ خدایا، میں نے تیرے ایک حکم کی تعمیل کی، مگر میں تیرے بہت سے حکموں کی تعمیل نہ کر سکا۔ میں نے ایک دن کا روزہ رکھا مگر میں دوسرے بہت سے مواقع پر " روزہ " نہ رکھ سکا۔ اپنی رحمت خاص سے مجھے بخش دے۔
جب بندہ کی زبان سے اس قسم کی دعائیں نکلتی ہیں تو خدا کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہوتی ہے۔ بعد " دس گنا " اور " سات سو گنا" " کی حد کو توڑ کر اس کے ثواب کو بے حساب گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ عبادت کا عمل دنیا میں کیا جاتا ہے اور اس کا اجر آخرت میں ملتا ہے، مگر روزہ استثنائی طور پر ایک ایسی عبادت ہے جس کے اجر کا تبصرہ ہی دنیا میں کر دیا جاتا ہے۔ افطار کو بار روزہ کے اجر کا ابتدائی تبصرہ ہے اور آخرت