Al-Risala · March 1992

روزہ اور عید

Al-Risala, March 1992, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں۔ ایک خوشی افطار کے وقت، اور ایک خوشی اس وقت جب کہ وہ اپنے رب سے ملے گا (للصائم فرحتان فرحة عند فطره و فرحة عند لقاء ربه، متفق علیہ)

روزہ میں آدمی صبح سے شام تک بھوک اور پیاس کو برداشت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوتا ہے اور وہ روزہ توڑ کر کھانا کھاتا ہے اور پانی پیتا ہے۔ اس وقت آدمی کی وہ حالت ہو جاتی ہے جس کے بارہ میں حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: ذہب الظمأ وابتلت العروق و ثبت الاجر انشاء الله تعالى (پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہوگئیں اور اجر ثابت ہوگیا، انشاء اللہ)

روزہ اور افطار دونوں دو مختلف تجربے ہیں۔ اس اعتبار سے وہ دنیا کی اور آخرت کی تمثیل ہیں۔ میں آدمی پابندیوں اور ذمہ داریوں میں بندھا ہوا ہے۔ آخرت میں وہ خوشیوں اور لذتوں سے محفوظ ہونے کے لئے آزاد کر دیا جائے گا۔ اس طرح روزہ کا وقت گویا دنیا کی علامت ہے، اور افطار کا وقت آخرت رمضان کا مہینہ دنیا کی زندگی کو بتا رہا ہے، اور عید، جو زیادہ بڑے افطار کا دن ہے۔ آخرت کی زندگی کا تعارف کراتی ہے۔

آدمی کو چاہئے کہ رمضان کے دنوں میں جب وہ روزہ رکھے تو روزہ اس کے لئے دنیوی زندگی کی پہچان بن جائے۔ روزہ کی حالت میں اس کی نفسیات یہ ہو کہ جس طرح میں نے کھانے اور پینے سے اپنے آپ کو روکا ہے، اسی طرح مجھے خدا کی منع کی ہوئی تمام چیزوں سے رکے رہنا ہے۔ اس دنیا میں مجھے عمر بھر ایک روزہ دار زندگی گزارنا ہے۔

اس کے بعد جب شام ہو اور وہ روزہ ختم کرکے افطار کرے تو اس کا احساس یہ ہو کہ گویا وہ عالم آخرت میں پہنچ گیا ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے اس کی مہمانی کی جا رہی ہے۔ آنسوؤں کی بارش میں وہ پکار اٹھے میں نے تیری خاطر روزہ رکھا، اب تو میرے لئے افطار کی زندگی لکھ دے۔ میں نے تیرے لئے رمضان کو پورا کیا، اب تو میرے اوپر ابدی عید کی لامحدود نعمتوں کے دروازے کھول دے۔ مومن کے لئے روزہ، دنیا کی زندگی کا تجربہ ہے اور افطار، آخرت کی زندگی کا تجربہ۔

رمضان کا مہینہ ختم ہونے کے فوراً بعد عید کا دن آتا ہے۔ یہ ترتیب بہت با معنی ہے۔ یہ گویا مومن کی زندگی کے دومرحلوں کا علامتی تعارف ہے۔

روزہ ہماری دنیا کی زندگی کی علامت ہے اور عید ہماری آخرت کی زندگی کی علامت۔ روزہ گویا امتحان ہے اور عید اس کا انجام۔ روزہ پابندیوں کا مرحلہ ہے اور عید آزادی کا مرحلہ۔ روزہ مشقت اور محنت کا دور ہے اور عید آرام اور خوشی کا دور۔

روزہ میں صبح سے شام تک اور شام سے صبح تک کی ساری زندگی طرح طرح کی پابندیوں میں گزرتی ہے۔ یہ کرو اور وہ نہ کرو، اس وقت کھاؤ اور اُس وقت نہ کھاؤ، کب سوؤ اور کب بستر سے اٹھ جاؤ۔ غرض پورا ایک مہینہ اس طرح گزارا جاتا ہے گویا کہ آدمی کی پوری زندگی دوسرے کے قبضہ میں ہے۔ آدمی کو اپنی مرضی پر نہیں بلکہ دوسرے کی مرضی پر چلنا ہے۔ اس طرح روزہ آدمی کو یہ سبق دیتا ہے کہ وہ دنیا میں اس طرح رہے کہ وہ اپنے آپ کو پوری طرح خدا کی نگرانی میں دئے ہوئے ہو، وہ ہر معاملہ میں خدا کے حکموں کی پابندی کر رہا ہو۔

اس طرح کے ایک پر مشقت مہینہ کے بعد عید کا دن آتا ہے۔ عید کے دن اچانک تمام حکام بدل جاتے ہیں۔ پہلے روزہ رکھنا فرض تھا، اب روزہ رکھنا حرام ہے۔ ضرورتوں تک پر پابندی لگی ہوئی تھی، اب کہہ دیا گیا کہ آزادی سے گھومو پھرو اور خوشیاں حتیٰ کہ غریبوں کے لئے صاحب حیثیت لوگوں پر صدقہ فطر مقرر کیا گیا تاکہ وہ بھی آج کے دن کی خوشیوں سے محروم نہ رہیں۔ یہ گویا آخرت کی زندگی کی ایک تصویر ہے۔ یہ اس دن کو یاد دلانا ہے جب کہ خدا کے سچے بندوں پر سے ہر قسم کی پابندیاں اٹھالی جائیں گی۔ آرام اور ابدی خوشی کی جنتوں میں داخل کر دئے جائیں گے، خواہ آج وہ ظاہر بینوں کو کمزور اور بے قیمت کیوں نہ نظر آتے ہوں۔

حقیقت یہ ہے کہ روزہ اور عید ہماری زندگی کے دو مرحلوں کی یاد دلانے کے لئے ہیں۔ روزہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کے مرحلہ میں ہمیں کس طرح رہنا ہے۔ اور عید ہم کو بتاتی ہے کہ آخرت کے آنے والے مرحلہ میں ہماری زندگی کیسی زندگی ہوگی۔ ایک دنیا کی زندگی کی ابتدائی علامت ہے اور دوسری آخرت کی زندگی کی ابتدائی علامت۔

Printed page