عید الفطر
Al-Risala, March 1992, pp. 43–44
By Maulana Wahiduddin Khan
عید کا دن روزہ کے مہینہ کے فورا بعد آتا ہے ایک مہینہ کی روزہ دارانہ زندگی گزارنے کے بعد مسلمان آزادی کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں۔ اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے دو رکعت نماز اجتماعی طور پر پڑھتے آپس میں ملتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں۔ صدقہ وخیرات کے ذریعہ غریب لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ یہ سب چیزیں عید کی اسپرٹ کو بتاتی ہیں۔ عید کی اسپرٹ اللہ کو یاد کرنا ہے۔ اپنی خوشیوں کے ساتھ لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہونا ہے۔ اپنے مقصد کو حاصل کرتے ہوئے دوسروں کے حقوق ادا اس بات کے لیے عمل کرنا ہے کہ خدا کی دنیا ساری انسانیت کے لیے خوشیوں کی دنیا بن جائے۔ روزہ کا مہینہ گویا تیاری اور احتساب کا مہینہ تھا۔ اس کے بعد عید کا دن گویا نئے عزم اور نئے شعور کے ساتھ زندگی کے آغاز کا دن ہے۔ عید کا دن دوبارہ نئے حوصلوں کے ساتھ مستقبل کی طرف اپنا سفر شروع کرنے کا دن ہے۔ روزہ اگر ٹھہراؤ تھا تو عید ٹھہراؤ کے بعد آگے کی طرف اقدام۔ روزہ ایک اعتبار سے سمٹنے کا لمحہ تھا۔ اور عید از سر نو پھیلنے اور آگے بڑھنے کا لمحہ۔ آدمی دنیا سے اور دنیا کی چیزوں سے ایک محدود مدت کے لیے کٹ گیا تھا۔ حتیٰ کہ اس نے اپنی فطری ضرورتوں تک پر پابندی لگادی تھی۔ یہ دراصل تیاری کا وقفہ تھا۔
اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ باہر دیکھنے کے بجائے اپنے اندر کی طرف دھیان دے۔ وہ اپنے آپ میں وہ ضروری اوصاف پیدا کرے جو زندگی کی جدوجہد کے دوران اس کے لیے ضروری ہیں اور جن کے بغیر وہ کاروبار حیات میں مفید طور پر اپنا حصہ ادا نہیں کرسکتا۔ مثلاً صبر و برداشت، اپنی واجبی حد کے اندر رہنا، منفی نفسیات سے اپنے آپ کو بچانا۔ اس قسم کا ایک پرمشقت تربیتی مہینہ گزار کر وہ دوبارہ زندگی کے میدان میں واپس آیا ہے اور عید کے تہوار کی صورت میں وہ اپنی زندگی کے اس نئے دور کا افتتاح کررہا ہے۔
اس طرح عید کا دن مسلمانوں کے لیے آغاز حیات کا دن ہے ۔ روزہ نے آدمی کے اندر جو اصلی صفات پیدا کی ہیں ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اب وہ سماج کا زیادہ بہتر ممبر بن جاتا ہے۔ اب وہ اپنے لیے بھی پہلے سے بہتر انسان ہوتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی پہلے سے بہتر انسان۔
روزہ میں آدمی نے بھوک پیاس برداشت کی تھی ، اب باہر آ کر وہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی ناخوشگواریوں کو برداشت کرتا ہے۔ روزہ میں اس نے اپنے سونے اور جاگنے کے معمولات کو بدلا تھا، اب وہ وسیع تر انسانی مفاد کے لیے اپنی خواہشوں کو قربان کرتا ہے۔ روزہ میں اس نے عام دنوں سے زیادہ خرچ کیا تھا، اب باہر آ کر وہ اپنے واقعی حق سے زیادہ لوگوں کو دینے کی کوشش کرتا ہے۔ روزہ میں وہ بندوں سے کٹ کر خدا کی طرف متوجہ ہوا تھا، اب باہر آ کر وہ سطحی چیزوں میں الجھنے کے بجائے بلند مقصد کے لیے متحرک ہوتا ہے۔ روزہ میں وہ اپنی خواہش کو روکنے پر راضی ہوا تھا، اب باہر کی دنیا میں وہ یہ کرتا ہے کہ وہ اپنے حقوق سے زیادہ اپنی ذمہ داریوں پر نظر رکھنے والا بن جاتا ہے۔
روزہ سال کے ایک مہینہ کا معاملہ تھا تو عید سال کے گیارہ مہینہ کی علامت ہے۔ صبر، عبادت، تلاوت قرآن اور ذکر الہی کے مشاغل تھے ، اب عید سے جدوجہد حیات کا مرحلہ شروع روزہ اگر انفرادی سطح پر زندگی کا تجربہ تھا تو عید اجتماعی سطح پر زندگی میں شریک ہونا ہے۔ روزہ اگر اپنے آپ کو خدا کے نور سے منور کرنے کا وقفہ تھا تو عید گویا ساری دنیا میں اس روشنی کو پھیلانے کا اقدام ہے۔ روزہ اگر رات کی تنہائیوں کا عمل تھا تو عید، دن کے ہنگاموں کی طرف صحت مند پیش قدمی ہے۔
روزہ جس طرح محض بھوک پیاس نہیں، اسی طرح عید محض کھیل تماشے کا نام نہیں۔ کے ظاہر کے پیچھے گہری معنویت چھپی ہوئی ہے۔ روزہ وقتی طور پر عالم مادی سے کٹنا اور عید دوبارہ عالم مادی میں واپس آجانا ہے۔ روزہ اللہ سے قربت حاصل کرنے کی کوشش ہے، اور عید اس نئے زیادہ بہتر سال کا آغاز ہے جو روزہ کے بعد روزہ داروں کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ عید دراصل نئی زندگی شروع کرنے کا دن ہے۔ عید کا پیغام ہے کہ مسلمان نئی ایمانی قوت اور نئے امکانات کی روشنی میں از سر نو زندگی کی جدو جہد میں داخل ہوں۔ ان کا سینہ خدا کے نور سے روشن ان کی مسجدیں خدا کے ذکر سے آباد ہوں ۔ ان کے گھر تواضع کے گھر بن جائیں۔ سارے مسلمان متحد ہو کر وہ جدوجہد شروع کریں جس کے نتیجہ میں انہیں دنیا میں خدا کی نصرت ملے اور آخرت میں خدا کی جنت۔