چاند دیکھنے کی اہمیت
Al-Risala, March 1992, pp. 47–51
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی شریعت میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ رمضان کے مہینہ کا پہلا چاند (new moon) دیکھ کر روزہ رکھو، اور شوال کے مہینہ کا پہلا چاند دیکھ کر روزہ ختم کردو اور عید کا دن مناؤ۔ حدیث کی تمام کتابوں میں اس کے بارہ میں روایات آئی ہیں اور ان سب میں "رویت" کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فرمايا گیا ہے کہ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو (صوموا لرؤيتہ
صحیح مسلم (کتاب الصوم) کا ایک باب ان الفاظ میں ہے : باب وجوب صوم رمضان لرؤیۃ الھلال والفطر لرؤیۃ الھلال۔ اس باب کے تحت ایک روایت یہ ہے :
عن ابن عمر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ انہ ذکر رمضان وقال لا تصوموا علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ حتی تروا الھلال ولا تفطروا حتی تم روزہ نہ رکھو جب تک تم چاند نہ دیکھ لو اور تم ترون فان اغمٰی علیکم فاقدروا افطار نہ کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو۔ پھر اگر بادل آجائے تو تم تیس دن پورا کر لو۔
ان حدیثوں کے الفاظ بتاتے ہیں کہ آغاز رمضان اور عید دونوں کا انحصار رویت ہلال پر جس چیز کو رویت (چاند دیکھنا) کہا جاتا ہے وہ فلکیاتی اعتبار سے اس کا نام ہے کہ چاند کا ایک حصہ زمین کے مغربی افق کے اوپر آجائے۔ ہر مہینہ کی ۸۹ تاریخ کو لازماً ایسا ہوتا ہے۔ چاند اگر افق سے ۲ ڈگری اوپر ہو تو وہ بہ شکل ہلال دکھائی دے گا۔ اگر اس سے نیچے ہو تو وہ دکھائی نہیں دے گا۔ چاند اس طرح دکھائی دے جائے تو مہینہ ۲۹ دن کا ہوتا ہے اور جب دکھائی نہ دے تو مہینہ ۳۰ دن کا شمار کیا جاتا ہے۔
تاہم یہ عدم یقینیت آنکھ سے دیکھنے کی صورت میں ہے، وہ رصد گاہی مطالعہ کے لیے نہیں ہے۔ آنکھ سے دیکھنے والے شخص کو پیشگی طور پر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آج چاند نظر آئے گا یا نظر نہیں آئے گا لیکن جدید فلکیاتی مشاہدہ اور جدید فلکیاتی حساب کی رو سے پیشگی طور پر یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آج چاند کی پوزیشن کیا ہے۔ اس کے نظر آنے کا امکان بھی حساب (CALCULATIONS) کے ذریعہ معلوم ہو جاتا ہے اور نظر نہ آنے کے امکان کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔
موجودہ زمانہ مشینی زمانہ ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہر معاملہ میں تعینات کو پسند کیا جاتا ہے۔ لیے کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب جدید علم الافلاک کے ذریعہ یہ ممکن ہو گیا ہے کہ پورے سال کے لیے چاند کی پوزیشن پیشگی طور پر معلوم کر لی جائے تو کیوں نہ ایسا کیا جائے کہ شمسی کیلنڈر کی طرح قمری کیلنڈر بنا کر اس کے مطابق روزہ اور عید کے دنوں کا تعین کیا جائے۔ ان کے خیال کے مطابق، ہم کو چاہیے کہ ہم ہلال کے مسئلہ کا فیصلہ انسانی رویت پر منحصر نہ کریں بلکہ اس کو رصد گاہی رویت پر مبنی قرار
اسی طرح ہم سائنسی دور کے مطابق ہو جائیں گے۔
مگر یہ رائے درست نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روزہ کوئی مشینی عمل نہیں۔ وہ ایک نفسیاتی شریعت میں ہر عبادت کے لیے اور اسی طرح روزہ کے لیے یہ مطلوب ہے کہ آدمی جب روزہ رکھے تو اس کے ساتھ وہ اپنی کیفیات کو بھی، اس کے ساتھ شامل کرے۔ اس کا روزہ ایک نفسیاتی واقعہ ہونا چاہیے نہ کہ محض ایک خشک مشینی واقعہ۔
جب شعبان کی ۲۹ تاریخ آتی ہے تو شام کو مسلمان باہر نکل کر افق کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔ روزہ داروں کے ساتھ آسمانی ربط قائم ہونا ہے۔ اوپر کی طرف وہ اپنی نگاہیں اٹھا کر گویا یہ جاننا چاہتے ہیں کیا ان کے بارہ میں خدا کا یہ حکم آگیا ہے کہ آج سے ایک مہینہ تک وہ روزہ داری کی زندگی گزاریں۔ یہ روزہ داروں کے لیے ایک لطیف نفسیاتی لمحہ ہوتا ہے جورویت ہلال کے لیے کیلنڈر کو بنیاد بنانے کی صورت میں کبھی پیدا نہیں ہو سکتا۔
رویت ہلال کا یہ پہلو ان روایتوں کے ذریعہ بخوبی طور پر سمجھ میں آجاتا ہے جو نیا چاند دیکھنے کے بارہ میں ہیں اور جن میں بتایا گیا ہے کہ نیا چاند دیکھنے کے بعد کس قسم کے الفاظ سے اس کا استقبال کرنا چاہیے۔ اس سلسلہ میں کچھ دعائیں یہ ہیں :
اَللّٰهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْاَمْنِ وَالْاِيْمَانِ اے اللہ! تو اس کو ہمارے اوپر امن اور ایمان وَالسُّلَامَةِ وَالْاِسْلَامِ رَبِّيْ وَرَبُّكَ اللَّهُ اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ نکال۔ اللہ ہی میرا رب ہے اور اللہ ہی تیرا رب ہے۔
آمَنْتُ بِاللَّهِ الَّذِيْ خَلَقَكَ میں اللہ پر ایمان لایا جس نے تجھ کو پیدا کیا ہے۔ اَللّٰهُ اَکْبَرُ، هِلَالُ خَيْرٍ وَرُشْدٍ اللہ اکبر، بھلائی کا چاند اور ہدایت کا چاند۔ ان دعاؤں میں جو ربانی احساسات جھلک رہے ہیں وہ کیلنڈر کی ”خبر“ کو جان کر کبھی پیدا نہیں یہ قیمتی احساسات تو اسی انسان کے اندر پیدا ہوں گے جو چاند کے دن متحرک ہو اور پھر اپنی آنکھوں سے آسمان پر نئے چاند کو دیکھنے کا تجربہ کرے۔ اس عملی تجربہ کے بعد ہی کسی کے سینے سے مذکورہ دعائیں ابل سکتی ہیں نہ کہ محض کیلنڈر کی خبر سے۔
ان دعاؤں کے الفاظ پر غور کیجئے ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک صاحب ایمان نے جب نئے چاند
کو دیکھا تو وہ بے اختیار اس اللہ کی طرف متوجہ ہو گیا جو چاند کو بنانے والا اور چلانے والا وہ کہہ اٹھا کہ خدایا، تو اس آنے والے مہینہ کو ہر قسم کی برکتوں کے حصول کا مہینہ بنا دے۔ چاند کو دیکھ کر یہ اعتراف کا کلمہ اس کی زبان سے نکل پڑا کہ جو میرا خالق ہے وہی چاند کا خالق بھی ہے دونوں ایک خدا کے بندے ہیں اور دونوں کو ایک ہی خدا کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اپنا فریضہ ادا کرنا ہے۔
چاند کی صورت میں اس کو آسمان میں خدا کی قدرت کا ایک کھلا ہوا نشان نظر آجاتا ہے۔ ایمان کو تازہ کرتے ہوئے از سرِ نو یہ کہہ پڑتا ہے کہ میں اس خدا پر ایمان لاتا ہوں جس نے تجھ کو بنایا اور فضا میں تیری گردش کا نظام قائم کیا۔
اس فلکیاتی مشاہدہ میں اس کو خدا کی عظمت و کبریائی عیاناً دکھائی دینے لگتی ہے۔ وہ عبدیت کے احساسات سے سرشار ہو کر پکار اٹھتا ہے کہ اس نے چاند کے ذریعہ شروع ہونے والا مہینہ میرے لیے خیر کا مہینہ بن جائے ۔ وہ ساری انسانیت کے لیے ہدایت کے دروازے کھولنے والا ثابت ہو۔ آمد رمضان کے تعین کے لیے کیلنڈر کے بجائے رویتِ ہلال کو بنیاد بنانا گویا تاریخ میں نفسیات کو شامل کرنا ہے۔ یہ خبر میں مشاہدہ کا اضافہ کرنا ہے۔ یہ ایک حسابی واقعہ کو کیفیاتی واقعہ بنا دینا ہے۔ اس معاملہ کو مشاہداتی وسیلہ (visual aids) کی مثال سے سمجھا جاسکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ٹی وی کی ایجاد نے ایک نیا طریقہ پیدا کیا ہے۔ ایک ٹیچر طالب علموں سے اپنی بات بتاتے ہوئے متحرک تصویروں کے ذریعہ اسکرین پر اس کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اس کو سمعی بصری تعلیم (audio-visual education) کہا جاتا ہے۔ صنعت کار اپنے سامان کا اشتہار ٹی وی پر دیتے ہیں جس کو سمعی بصری اشتہار (audio-visual advertisement) کہتے ہیں۔ اسی طرح رویتِ ہلال کے معاملہ میں آنکھ سے دیکھنے کا طریقہ استعمال کرنا گویا نئے چاند کی خبر کے ساتھ اس میں مشاہداتی تاثیر (visual effect) کا عنصر شامل کرنا ہے۔ یہ ایک خاموش کا غذی اطلاع کو با تصویر آسمانی اعلان بنا دینا ہے۔ کیلنڈر صرف رمضان کی آمد کی خبر دیتا ہے، جب کہ رویتِ ہلال کا طریقہ رمضان کی آمد کو مشاہداتی واقعہ کے روپ میں دکھاتا ہے۔ دونوں میں وہی فرق ہے جو اقوام متحدہ کے ایک اجلاس کو اخبار میں پڑھنے اور اس کو ٹیلی وژن اسکرین پر دیکھنے میں ہوتا ہے۔
175/- تعبیر کی طرف 175/- تبلیغی تحریک 45/- تجدید دین . 40/- عقلیات اسلام مذہب اور سائنس 30/- قرآن کا مطلوب انسان 6/- دین کیا ہے 6/- اسلام دین فطرت 50/- تعمیر ملت 40/- تاریخ کا سبق 40/- فسادات کا مسئلہ 25/- انسان اپنے آپ کو پہچان 20/- تعارفِ اسلام 175/- برا القرآن جلد اول 175/- برا القرآن جلد دوم مذہب اور جدید چیلنج روش مستقبل 20/- مسلم کلام 20/- صداقتِ اسلام 20/- طہار اور دورِ جدید 30/- ہندوستانی مسلمان 20/- سیرتِ رسول 8/- الاسلام یقدی 6/- سقوطِ المارکسیۃ 6/- حقيقة الحج 6/- A.1 حقیقتِ ایمان 5/- A.2 حقیقتِ نماز 5/- راہ میں بند نہیں 40/- رباط مستقیم ایمانی طاقت 45/- مقرین اسلام اتحاد ملت 40/- ریشم اور اسلام سبق آموز واقعات 30/- غلام اور عصر حاضر زلزلہ قیامت 40/- ربانیہ حقیقت کی تلاش 45/- روان ملت پیغمبر اسلام 30/- حقیقت حج آخری سفر 25/- غلامی تعلیمات اسلامی دعوت 25/- غلام اور جدید کا خالق خدا اور انسان 35/- حدیث رسول حل یہاں ہے 80/- ڈائری جلد اول سچا راستہ 80/- ڈائری جلد دوم دینی تعلیم 80/- سفرنامہ (ملکی اسفار) حیات طیبہ 80/- سفرنامہ (غیر ملکی اسفار) باغ جنت 35/- نیت کا سفر نار جہنم 20/- یادداشت نامه خلیج ڈائری 25/- راہ عمل رہنماۓ حیات 50/- تدبیر کی غلطی شخصیت اسلام 20/- دین کی سیاسی تعبیر تعدد ازدواج 20/- توانی حکمت 25/- حقیقت زکوه 4-A 6/- 25/- حقیقت حج 5-A 6/- فائل الرسالة اردو (مجلد) 25/- سنت رسول 6-A 6/- 1976-77 سال 90/- 25/- میدان عمل 7-A 6/- 1978 80/- 25/- پیغمبرانه رهنمائی 8-A 8/- 1979 80/- 25/- اسلامی دعوت 9-A 6/- 1981 80/- کے جدید امکانات 5/- 1983 80/- 25/- اسلامی اخلاق 10-A 6/- 1984 80/- 25/- اتحاد امت 11-A 6/- 1986 80/- 25/- تعمیر امت 12-A 6/- 1987 80/- 25/- نصیحت لقمان 13-A 10/- 1989 80/- 5/- 1991 80/- 6/- فائل الرسالة انگریزی (مجلد) ویڈیو کیسٹ 6/- 1985 80/- 1- پیغمبر انقلاب 6-A 6/- 1987 80/- 2- اسلام داعی امن 6-A 6/- 1989 80/- 3- اسلام دور جدید کا خالق 3-V 10/- 1991 80/- امت مسلمہ کے لیے نئے چیلنج 4-V 6/- فائل الرسالة هندی (مجلد) 5- اسلام اور سماجی انصاف 6-V 6/- 1990-91 85/- 6- اسلام اور دورِ حاضر 3-V ہندسوں کا یہ کھیل