بیس سال بعد
Al-Risala, January 1992, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
" کولمبس نے امریکہ کو دریافت کیا " ۔ چھ لفظ کے اس جملہ کو آج ایک شخص چھ سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اپنی زبان سے ادا کر سکتا ہے ۔ مگر اس واقعہ کو ظہور میں لانے کے لیے کولمبس کو۲۰ پرمشقت سال صرف کرنے پڑے ۔
کرسٹوفر کولمبس (Christopher Columbus) ۱۴۵۱ میں اٹلی میں پیدا ہوا۔ اسپین میں اس کی وفات ہوئی ۔ امریکہ کی دریافت حقیقتاً یورپ کے لیے مشرق کا سمندری راستہ دریافت کرنے کی کوشش کا ایک ضمنی حاصل (by-product) تھی ۔ کولمبس نے ۱۴۸۴ میں پرتگال کے شاہ جان دوم (John II) سے درخواست کی کہ وہ اس بحری سفر کے لیے اس کی مدد کرے۔ شاہ پرتگال نے اس کو بے فائدہ سمجھ کر مدد کرنے سے انکار کر دیا۔
اس کے بعد کولمبس نے کیسٹلی (Castile) کی ملکہ ازبیلا (Isabella) سے مدد کی درخواست کی یہاں بھی اس کو مثبت جواب نہیں ملا۔ تاہم کولمبس نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ تک کہ آٹھ سال کے بعد ملکہ نے اس کو کشتیاں اور ضروری سامان مہیا کر دیا۔ کولمبس نے تین کشتیوں کے ساتھ اپنا پہلا سفر ۳ اگست ۱۴۹۲ کو شروع کیا۔ تاہم اس سفر میں وہ امریکہ کے ساحل تک پہونچنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ ہر قسم کی مشکلات اور آزمائشوں کے باوجود کولمبس اپنی کوشش میں لگا رہا۔
آخر کار چوتھے سفر کے بعد ۱۵۰۴ میں وہ "نئی دنیا" کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو گیا (10/691) کولمبس سے پہلے دنیا دو حصوں میں بٹی ہوئی تھی ۔ کولمبس کی دریافت نے نئی اور پرانی، دونوں دنیاؤں کو ملاکر ایک کر دیا۔ یہ بلاشبہ ایک عظیم دریافت تھی۔ مگر یہ دریافت صرف اس وقت ممکن ہوسکی جب کہ کولمبس اور اس کے ساتھی بے حوصلہ ہوئے بغیر ۲۰ سال تک اس جان جو کھم منصوبہ کی تکمیل میں لگے رہے ۔
یہی اس دنیا میں کامیابی کا طریقہ ہے ۔ اس دنیا میں ہر کامیابی "۲۰ سالہ " محنت مانگتی ہے ۔ اس کے بغیر یہاں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کی جا سکتی ۔
اس دنیا میں ہر کامیابی لمبی جدوجہد کے بعد حاصل ہوتی ہے۔ آدمی پہلے کم پر راضی ہوتا ہے، اس کے بعد وہ زیادہ تک پہنچتا ہے۔
نیل آرم ااسٹرانگ پہلے شخص ہیں جنہوں نے چاند کا سفر کیا۔ ۲۱ جولائی ۱۹۶۹ کو انھوں نے ایگل نامی چاند گاڑی سے اتر کر چاند کی سطح پر اپنا قدم رکھا۔ اس وقت زمین اور چاند کے درمیان براہِ راست مواصلاتی ربط و ٹائم تھا۔ چاند پر اترنے کے بعد انھوں نے زمین والوں کو جو پہلا پیغام دیا وہ یہ تھا کہ ایک شخص کے اعتبار سے یہ ایک چھوٹا قدم ہے، مگر انسانیت کے لئے یہ ایک عظیم
That's one small step for man, but one giant leap for mankind. آرم سٹرانگ کا مطلب یہ تھا کہ میرا اس وقت چاند پر اترنا بظاہر صرف ایک شخص کا چاند پر اترنا ہے۔ مگر وہ ایک نئے کائناتی دور کا آغاز ہے۔ ایک شخص کے بحفاظت چاند پر اترنے سے یہ ثابت ہو گیا کہ انسان کے لئے چاند کا سفر ممکن ہے۔ یہ دریافت آئندہ آگے یہاں تک کہ وہ وقت آئے گا جب کہ عام لوگ ایک سیارہ سے دوسرے سیارہ تک اسی طرح سفر کرنے لگیں جس طرح وہ موجودہ زمین کے اوپر کرتے ہیں۔
ہر بڑا کام موجودہ دنیا میں اسی طرح ہوتا ہے۔ ابتداءً ایک فرد یا چند افراد قربانی دے کر ایک دریافت تک پہنچتے ہیں۔ اس طرح وہ انسانی سفر کے لئے ایک نیا راستہ کھولتے یہ ابتدائی کام بلاشبہ انتہائی مشکل ہے۔ وہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے کھسکانے کے ہم معنی مگر جب یہ ابتدائی کام ہو جاتا ہے تو اس کے بعد سارا معاملہ آسان ہو جاتا ہے۔ اب ایک ایسا کشادہ راستہ لوگوں کے سامنے آ جاتا ہے کہ انسانی قافلے بڑی تعداد میں اس پر سفر کر سکیں۔
کسان جب زمین میں ایک بیج ڈالتا ہے تو وہ گویا زراعت کی طرف ایک "چھوٹا قدم" ہوتا ہے تا ہم اس چھوٹے قدم کے ساتھ ہی کسان کے زرعی سفر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یہ سفر جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ وقت آتا ہے کہ اس کے کھیت میں ایک پوری فصل کھڑی ہوئی نظر آئے۔ یہی طریقہ تمام انسانی معاملات کے لئے درست ہے، خواہ وہ زراعت اور باغبانی کا معاملہ ہو یا اور کوئی معاملہ۔