Repentance is the virtue of weak minds.
Al-Risala, April 1992, p. 59
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر حقیقت یہ ہے کہ اصل بات اس کی بالکل برعکس ہے۔ اور وہ یہ کہ پشیمان نہ ہونا آدمی کے کمزور دماغ اور پست حوصلہ ہونے کی علامت ہے۔
اس دنیا میں سب سے بڑی نیکی اپنی غلطی کا اعتراف ہے۔ اگر آدمی کی فطرت زندہ ہو تو اس کا حال یہ ہوگا کہ کوتاہی کا کوئی واقعہ ہوتے ہی اس کی روح تڑپ اٹھے گی۔ اس کو شدت کے ساتھ ندامت اور پشیمانی کا احساس ہوگا۔ یہ اس کے دل پر اتنا بڑا بوجھ بن جائے گا کہ اس کو اس وقت تک چین نہیں ملے گا جب تک وہ یہ نہ کہہ دے کہ مجھ سے غلطی ہوئی۔
آدمی اپنی غلطی کا اعتراف کیوں نہیں کرتا۔ اس کو اپنے کیے پر پشیمانی کیوں نہیں ہوتی۔ سبب یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ ایسا کر کے میں دوسروں کی نظر میں اور اپنی نظر میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔ اس قسم کا ہر اندیشہ صرف حوصلہ کی کمی کا ثبوت ہے۔ اگر آدمی اپنے اندر اعلیٰ حوصلہ رکھتا ہے تو وہ ایسے مواقع پر پشیمانی اور اعتراف سے کبھی رک نہیں سکتا۔
غلطی کیا ہے۔ غلطی یہ ہے کہ آدمی مسلمہ انسانی اصولوں کے خلاف ورزی کرے۔ وہ اعلیٰ معیار صداقت پر پورا نہ اترے۔ ایسی حالت میں جب ایک شخص غلطی کر کے اس پر شرمندہ نہ ہو۔ غلطی کا اعتراف نہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ذاتی بڑائی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ وہ اپنی ذات کو حقیقت سے زیادہ بلند سمجھتا ہے۔ حقیقت کا مجروح ہونا اسے گوارا ہے مگر خود اپنی ذات کا مجروح ہونا اس کو گوارا نہیں۔
غلطی ماننا غلطی کی اصلاح ہے۔ اور غلطی نہ ماننا غلطی کو باقی رکھنا ہے۔ اب آدمی خود فیصلہ کر سکتا ہے کہ ان میں سے کون سا رویہ اس کے لیے زیادہ درست ہے۔