Al-Risala · April 1992

تعمیرشور

Al-Risala, April 1992, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسری جنگِ عظیم تک امریکہ ساری دنیا میں موٹر کار کا سب سے بڑا تاجر تھا۔ ہر آدمی کے ذہن پر رولس رائٹس کار کی عظمت چھائی ہوئی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جرمنی کی ووکس ویگن کا زمانہ آیا۔ تک ۴۰ ملکوں میں ۱۶ ملین سے زیادہ ووکس ویگن گاڑیاں فروخت ہو چکی تھیں۔ مگر اب جاپانی کاروں کا آج ٹویوٹا (نہ کہ جنرل موٹرز) کاروں کی دنیا کا بادشاہ ہے۔ امریکہ کی سڑکوں پر آج جو کاریں دوڑتی ہیں ان میں ۲۵ فی صد کاریں جاپان کی بنی ہوئی ہوتی ہیں۔

آج دنیا بھر میں استعمال ہونے والا الیکٹرانک سامان ۸۰ فی صد جاپان کا بنا ہوا ہوتا ہے۔ اپالو دوم جب چاند پر گیا تو اس کے اندر رکھنے کے لیے ایک ت چھوٹے ٹیپ ریکارڈر (کیسٹ ریکارڈر) کی ضرورت تھی۔ اتنا چھوٹا اور بہ بالکل صحیح کام کرنے والا ریکارڈر صرف جاپان فراہم کر سکتا تھا۔ اپالو دوم کے ساتھ جاپانی ساخت کا ریکارڈر رکھ کر اسے چاند پر روانہ کیا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم تک جاپان کا یہ حال تھا کہ (Made in Japan) کا لفظ جس سامان پر لکھا ہوا ہو اس کے متعلق پیشگی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ یہ سستا اور ناقابلِ اعتماد ہو گا۔ جاپانی سامان کی تصویر اتنی گھٹیا تھی کہ مغربی ملکوں کے تاجر جاپانی ساخت کا سامان اپنی دکان پر رکھنا اپنی ہتک سمجھتے تھے۔ ۴۰ سال کے اندر جاپان نے کس طرح ایسی انقلابی ترقی حاصل کر لی۔ ایک امریکی عالم ولیم اوچی (William O'uchi) کے الفاظ میں اس کا راز اپنے کارکنوں کے اندر داعیہ پیدا کرنا (Motivation of the employees) ہے۔

جاپانیوں نے اپنے یہاں ابتدائی تعلیم کا انتہائی اعلیٰ معیار قائم کیا۔ انھوں نے ابتدائی معلموں کو اعلیٰ تنخواہ اور پروفیسروں والا اعزاز دینا شروع کیا اور اس طرح اعلیٰ ترین صلاحیت کے اساتذہ کو اپنی نئی نسل کی تعلیم و تربیت پر لگا دیا۔ انھوں نے اپنے افراد میں نہایت گہرائی کے ساتھ یہ شعور پیدا کیا کہ صنعت میں اصل چیز معیار (Quality) ہے۔ جدید جاپان میں ہر جگہ کوالٹی کنٹرول سرکل قائم ہیں۔ ایک لاکھ کوالٹی کنٹرول رجسٹرڈ سرکل ہو چکے تھے۔ اس کے علاوہ کہا جاتا ہے کہ ایک ملین غیر رجسٹرڈ کوالٹی سرکل بھی جاپان میں موجود ہیں۔

Printed page