ایک تبصرہ
Al-Risala, April 1992, pp. 24–26
By Maulana Wahiduddin Khan
انڈیا ٹوڈے (۱۵ مئی ۱۹۹۱) میں ایک مباحثہ (debate) چھپا ہے، جو دہلی کے تعلیم یافتہ اصحاب کے درمیان ہوا۔ اس کا موضوع ہندوستان میں سیکولرزم (secularism in India) یہ مباحثہ آٹھ گھنٹہ تک جاری رہا۔ اس سلسلہ میں اجودھیا کی بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا مسلّمہ بھی زیر بحث آیا۔
ٹائمس آف انڈیا کے سابق ایڈیٹر مسٹر گری لال جین نے اس موقع پر بولتے ہوئے جو باتیں کہیں، ان میں سے ایک بات یہ تھی کہ مسلمان خود اپنی بے وقوفی کی سزا بھگت رہے ہیں۔ وہ غیر معمولی قسم کے بے وقوف لوگ ہیں۔ وہ ایک ایسے عمارتٹی ڈھانچہ کے لیے لڑ رہے ہیں جس کی مسجد کی حیثیت ختم ہو چکی ہے۔ مسلمان اگر ہوشیار ہوتے تو وہ بہت پہلے ایک عمارتٹی ڈھانچہ کے اس وہم کو چھوڑ دیتے اور اس طرح بی جے پی کے نیچے کی زمین اس سے چھین لیتے :
The Muslims are victims of their own stupidity. They are extraordinary stupid people. I don't mind this going on record. To fight for a structure which has ceased to be a mosque! If the Muslims were clever they would have given away this ghost of a structure long ago and taken the earth from under the BJP (p. 137). مسٹر گری لال جین کے نزدیک مسلمان ایک غیر موجود مسجد کے لیے لڑ رہے ہیں۔ مگر زیادہ صحیح اور مطابق واقعات یہ ہے کہ مسلمان ایک موجود مسجد پر غاصبانہ قبضہ کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ ایک ثابت شدہ تاریخی مسجد پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں جس پر کچھ سالوں سے ان کا قبضہ باقی نہیں رہا ہے۔
ایک چیز کسی آدمی کی ملکیت ہو اور دوسرا شخص اس پر قبضہ کرلے تو اپنی ملکیت کو واپس لینے کے لیے لڑنا مسئلہ طور پر ایک شریفانہ حق ہے جو تمام دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے۔ اور یقینا مسٹر گری لال جین بھی اس کو تسلیم کرتے ہوں گے۔
مثلاً اگر کوئی شخص مسٹر جین کے گھر پر قبضہ کر کے بیٹھ جائے تو وہ ضرور اس کے لیے لڑیں گے۔ اس وقت اگر کوئی شخص مسٹر جین سے کہے کہ تم بہت بے وقوف ہو۔ تم ایک ایسی چیز کے لیے لڑ رہے ہے
ہو جو تمہاری چیز کی حیثیت سے باقی نہیں رہی، تو مسٹر جین اس کو جواب دیں گے کہ تم خود سب سے بڑے بے وقوت ہو۔ میری چیز پر کوئی شخص غاصبانہ قبضہ کرنے تو میں کیوں نہ غاصبانہ قبضہ کو ختم کرنے کے لیے اس سے لڑوں۔ وہ کیس گے کہ میں کسی غیر موجود مکان کے لیے نہیں لڑ رہا ہوں، بلکہ ایک موجود مکان پر غاصبانہ قبضہ کے خلاف لڑ رہا ہوں۔
اگر مسٹرگری، لال جین کی دلیل کو مان لیا جائے تو پچاس سال پہلے ہندوستان کی آزادی کے لیے جو جدوجہد کی گئی وہ پوری کی پوری بے وقوفی قرار پائے گی۔ مسٹر جین کے مذکورہ اصول کو ماننے کے بعد آخر اس کے حق میں کون سی دلیل باقی رہے گی۔ اس کے بعد ملک کے اوپر سے بدیشی قبضہ کو ہٹانے کے لیے قربانیاں دینا کس منطق سے معقول ثابت کیا جائے گا۔
دنیا کے تمام قانونی نظاموں میں استقرار حق (declaration of title) کے لیے قانون بنائے گئے ہیں۔ مگر مذکورہ نظریہ کو ماننے کے بعد اس قسم کے قوانین سرے سے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ کے بعد کسی شخص کے لیے اپنی مغصوبہ ملکیت پر دوبارہ اپنا قبضہ بحال کرنے کا کوئی قانونی جواز باقی نہیں رہتا۔ البتہ مسٹرگری لال جین یا کوئی بھی سمجھ دار آدمی ایسا نہیں کرے گا کہ اس کے گھر پر کوئی شخص غاصبانہ قبضہ کر لے تو وہ جوش میں آکر غاصب کو قتل کر ڈالے۔ ایسا کرنا غصب کے کہیں پر قتل کے کیس کا اضافہ کرنا ہے۔ اس سے اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ البتہ اصل مسئلہ میں مزید پیچیدہ تر مسائل کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
بابری مسجد کے کیس میں اصل غلطی خود کیس کو لے کر اٹھنا نہیں ہے۔ بلکہ کیس کو غلط طور پر لیڈری کا آشوب بنانا ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کے نااہل لیڈروں نے اس کے حل کے نام پر غلط طریقہ اختیار یہی غلط طریق کار ہے جس نے بابری مسجد کے مسئلہ کو موجودہ سنگین صورت حال تک پہنچا دیا۔ اس غلط طریق کار کے نامطلوب نتائج میں سے ایک نا مطلوب نتیجہ یہ ہے کہ ہندوؤں کے فرقہ پرست عناصر کو غیر معمولی طور پر ابھرنے کا موقع مل گیا۔
بابری مسجد کے مسئلہ کو ایک جائز اور حقیقی مسئلہ مانتے ہوئے میں کہوں گا کہ بابری مسجد نہیں بلکہ یہ بابری مسجد کے نام پر اٹھنے والے مسلمانوں کے لیڈر ہیں جنہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو زمین دی مسلمانوں کے نام نہاد لیڈر اگر ہوشیار ہوتے تو صحیح طریق کار اختیار کرکے یقیناً وہ
بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس ملک میں بے زمین کرسکتے تھے۔
بابری مسجد کا اشو ایک حقیقی اشو ہے۔ مگر ۱۹۸۶ میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے نام سے جو تنظیم بنی اور اس نے اس اشو کو جس طرح عوامی اور احتجاجی انداز سے اٹھایا، وہ بلا شبہ احمقانہ بھی تھا اور مہلک بھی۔ نادان مسلم لیڈروں کا یہی طریقہ کار ہے جس نے بابری مسجد کے مسئلہ کو غیر ضروری طور پر اتنا پیچیدہ بنا دیا۔ بابری مسجد تحریک اپنی موجودہ صورت میں بلاشبہ ایک قسم کی اینٹی بابری مسجد تحریک تھی۔ اس "اینٹی تحریک" میں مسلمانوں کے تمام رہنما شریک ہیں، کوئی براہ راست اور کوئی بالواسطہ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں مسائل پیدا بھی ہوتے ہیں اور مسائل حل بھی کیے جاتے ہیں۔ اصل مسئلہ مسئلہ کا پیدا ہونا نہیں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مسئلہ کو حل کرنے کا کام نااہل اور نکمے افراد کے حوالے ہو جائے۔ بدقسمتی سے یہی دوسری صورت بابری مسجد کے مسئلہ کے ساتھ پیش آئی ہے۔ غلط لیڈروں کے اسی غلط طریقہ کار کا نتیجہ ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی جو ۱۹۸۱ کے الیکشن میں ہندوستانی پارلیمنٹ میں صرف دو سیٹیں حاصل کر سکی تھی وہ ۱۹۸۹ کے الیکشن میں پارلیمنٹ کی ۸۶ سیٹوں پر قابض اور ۱۹۹۱ کے الیکشن میں اس نے مزید اضافہ کے ساتھ پارلیمنٹ میں ۱۲۰ سیٹیں حاصل کرلی ہیں۔ نیز ملک کی سب سے بڑی ریاست یوپی میں وہ اس پوزیشن میں ہو گئی کہ وہاں اپنی وزارت بنا سکے۔ وہی ریاست ہے جس کے ایک قصبہ میں بابری مسجد واقع ہے۔
حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ داعیوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: يسروا ولا تعسروا ، بشروا ولا تنفروا (تم آسانی پیدا کرو، تم مشکل نہ پیدا کرو تم لوگوں کو بشارت دو، تم انہیں متنفر نہ کرو)
اس سے معلوم ہوا کہ ایک صحیح مقصد ہو تب بھی اس کے لیے کام کرنے کے دو طریقے ہیں۔ کہ اس کو یسر اور بشارت کے انداز میں لوگوں کے سامنے لایا جائے۔ دوسرے یہ کہ اس کو عسر اور نفرت کے انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ بابری مسجد کی تحریک چلانے والے نااہل رہنماؤں نے یہ کیا کہ اس تحریک کو انھوں نے عسر اور نفرت کے انداز میں چلایا، وہ اس کو یسر اور بشارت والے انداز میں نہ چلا سکے، حالانکہ اس کا امکان پوری طرح موجود تھا۔ اس غلط اور غیر اسلامی طریقہ کار کا نتیجہ یہ ہے کہ اصل مسئلہ تو حل نہیں ہوا، البتہ کچھ مزید سنگین مسائل فت مسلم کے لیے پیدا ہو گئے۔ 25 الحفی 1992ء