Al-Risala · April 1992

قومی یک جہتی کا مسئلہ

Al-Risala, April 1992, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

قومی یک جہتی کی اہمیت سب سے پہلے ہندوستان کے سابق وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے انھوں نے اس موضوع پر پہلی باقاعدہ کانفرنس بلائی۔ اس کا اجلاس نئی دہلی میں ۲۸ ستمبر تا یکم اکتوبر ۱۹۶۱ کو ہوا۔ اس کانفرنس کے فیصلے کے مطابق، اس خاص مقصد کے لئے ایک مستقل تنظیم نیشنل انٹیگریشن کونسل قومی یک جہتی کونسل، کے نام سے قائم کی گئی۔ اس کونسل کا پہلا کام یہ تھا کہ وہ تمام متعلقہ مسائل کا جائزہ لے کر ضروری سفارشیں حکومت کے سامنے پیش کرے۔ اس کے مطابق، اس کا اجلاس ۲-۳ جون ۱۹۶۲ کو ہوا۔ اس اجلاس نے طے کیا کہ لسانی تعصب، علاقائی علیحدگی پسندی اور فرقہ واریت، یہ تین چیزیں قومی یک جہتی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس لئے ان رکاوٹوں کو دور کرنے پر توجہ صرف کی جائے۔ ۱۹۶۲ کے اس اجتماع کے بعد کئی سال تک نیشنل انٹیگریشن کونسل کی کوئی مزید سرگرمی آخر کار مسز اندراگاندھی نے اپنے اقتدار کے زمانہ میں اس کو زندہ کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ ۲۰-۲۱ جون ۱۹۶۸ کو سرینگر میں اس کا اجلاس بلایا گیا۔ سرینگر کی ٹھنڈی فضا میں نیشنل انٹیگریشن کونسل کا یہ اجلاس ختم ہوا تو لوگوں نے اس سے کافی امیدیں وابستہ کیں۔ ناردرن انڈیا پتری کا ۲۳ جون ۱۹۶۸ نے اس کی رپورٹ دیتے ہوئے اس پریسونی قائم کی کہ فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لئے دور رس اقدامات:

Printed page