ایک اور پہلو
Al-Risala, April 1992, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
۳۰ برس کی کوششوں کے باوجود ہمارے ملک میں قومی ایکتا نہیں آئی ۔ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ قومی ایکتا لانے کا جو طریقہ اپنایا گیا وہ درست نہ تھا۔
اس مدت میں ملک کے لیڈروں اور دانشوروں پر یہ خیال چھایا رہا ہے کہ " ایکتا" لانے کے لئے " "انیکتا کوختم کرنا پڑے گا۔ اسی ذہن کے تحت اس پر زور دیا جا رہا ہے کہ ملک میں سول میرج کا قانون نافذ کیا جائے۔ تمام لوگوں کو ایک کھر میں ڈھال دیا جائے ۔ جو لوگ زیادہ انتہا پسند ہیں وہ پرجوش طور پر کہتے ہیں کہ تمام لوگ رام کو اپنا پروج مانیں۔ تمام لوگ اپنے کو ہندو کہیں۔ اس کو یہ حضرت تہنید (Indianisation) کہتے ہیں۔ مگر اس قسم کی یکسانیت عملاً نا ممکن ہے۔ اس لئے وہ اب تک وقوع میں بھی نہ آسکی۔
کناڈا قومی ایکتا کے لئے ایک مثالی ملک کی حیثیت رکھتا ہے۔ حالاں کہ کناڈا میں اسی طرح مختلف مذہب اور تہذیب کے لوگ رہتے ہیں جس طرح ہندوستان میں ۔ کناڈا میں یہ قومی ایکتا جس طرح حاصل کی گئی ہے، اس کو وہ لوگ کئی پھریت (multiculturalism) کہتے ہیں۔ اپنے مختلف فرقوں میں ایکتا لانے کے لئے یکساں کلچر (uniculturalism) کی تحریک نہیں چلائی۔ بلکہ وسیع تر قومی ڈھانچے کے اندر ہر ایک کی جدا گانہ اکائی کو مان لیا۔ اسی اصول پر چل کر کناڈا ترقی 20 الصاف اپریل 1997
کر رہا ہے۔ ہندوستان کی ترقی بھی اسی طرح ہوسکتی ہے کہ وہ اس آزمودہ طریقہ کو اپنے یہاں اختیار
۱۳ نومبر ۱۹۹۱ء کو شولاپور (مہاراشٹر) میں قومی ایکتا کے موضوع پر ایک اجتماع تھا۔ مختلف لوگوں نے تقریریں کیں۔ شولاپور کی ایک معروف شخصیت اور سابق ایم ایل اے شری تلسی داس جادھو نے بھی تقریر کی۔ انھوں نے اپنی تقریر میں اس نقطۂ نظر کی حمایت کی کہ اصل چیز موافقت اور رواداری کا مزاج ہے۔ اگر یہ مزاج ہو تو بڑے بڑے اختلاف کے باوجود باہمی میل ملاپ قائم ہو سکتا ہے۔
انھوں نے اپنے گھر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ میرے باپ نان ویجیٹیرین تھے اور میری ماں ویجیٹیرین تھی۔ اس کے باوجود دونوں میں کوئی اختلاف نہ تھا۔ میں نے اپنے گھر میں دیکھا ہے کہ میری ماں روزانہ صبح اٹھ کر نہاتیں اور میرے باپ کے لئے میٹ بنا کر اس کو کھانے کی میز پر رکھ دیتیں۔ اس کے بعد وہ دوبارہ نہاتیں اور اپنے لئے دال سبزی والا کھانا بناتیں۔ اسی طرح وہ آخر عمر تک کرتی رہیں۔ کھانے پینے کے معاملہ میں دونوں کے درمیان اتنا بڑا اختلاف تھا۔ دونوں زندگی بھر عزت اور محبت کے ساتھ مل کر رہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خاندانی ایکتا ہو یا قومی ایکتا، ہر ایک کا تعلق ذہنی رویہ (mental attitude) سے ہے نہ کہ ظاہری یکسانیت سے۔ انسانوں کے درمیان مختلف قسم کے فرق حتیٰ کہ ایک گھر کے اندر چند آدمی ہیں تو ان میں بھی طرح طرح کا اختلاف ہوگا۔ حل اختلاف کو مٹانا نہیں ہے۔ بلکہ اختلاف کو گوارا کرنا ہے۔ اختلاف کو مٹانے کی کوشش اختلاف کو بڑھاتی ہے۔ جبکہ اختلاف کو گوارا کرنے کی پالیسی اختلاف کو عملاً ختم کر دیتی ہے۔ علماء کا اجتماع طے کیا گیا ہے کہ ملک کے علماء کا ایک اجتماع کیا جائے جو اصلاح کے کاری اور اس سے متفق ہوں۔ بقیہ تفصیلات کا اعلان انشاء اللہ آئندہ کیا جائے گا۔ کے خواہش مند حضرات اپنے نام اور پتہ سے آگاہ فرمائیں۔
مدیر السلام مل 31 الہلال اپریل 1992