دعوت الى الله
Al-Risala, April 1992, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمان ختم نبوت کے بعد مقام نبوت پر ہیں۔ مسلمانوں کو پیغمبر کی نیابت میں وہی کام انجام دینا ہے جو پیغمبر نے اپنی زندگی میں براہ راست انجام دیا تھا (ليكون الرسول شهيداً عليكم وتكونوا شهداء على الناس)
یہ کام شہادت علی الناس اور دعوت الی اللہ ہے۔ اس سے مراد نہ حکومت اسلامی کا قیام ہے اور نہ حضارت اسلامی کا احیاء۔ اس کا مقصد تمام تر انذار و تبشیر ہے۔ اس کا نشانہ یہ ہے کہ خدا کے بندوں تک خدا کا پیغام اس حد تک پہنچ جائے کہ کسی کے لئے قیامت کے دن کوئی عذر باقی نہ رہے (رسلا مبشرين ومنذرين لئلا يكون للناس على الله حجة
اسلام میں حکومت اور اقتدار کی حیثیت شیئ آخر کی ہے۔ وہ امر مقصود نہیں ہے بلکہ وہ ایک امر موعود ہے (وعَدَ الله الذين آمنوا وعملوا الصالحات ليستخلفنهم في الارض) اہل ایمان کو اجر آخرت کے محرک کے تحت دعوت الی اللہ کا کام کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اس عمل کے دوران ایسے حالات پیدا کر دے گا جو اہل ایمان کو دنیوی غلبہ تک پہنچانے والے ہوں۔
اللہ کی نصرت کے تمام وعدے عمل دعوت کی انجام دہی پر موقوف ہیں۔ اسی میں ملت اسلامیہ کی فوز و فلاح ہے۔ اسی میں عصمت من الناس کا راز چھپا ہوا ہے۔ حتی کہ امت محمدی کا امت محمدی ہو نا عند اللہ اسی وقت متحقق ہوتا ہے جبکہ وہ دعوت الی اللہ کے اس کام کو انجام دے (المائده ۶۷) اس کام کی صحیح ادائگی کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں اور دیگر اقوام کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کیا جائے۔ یہ رشتہ قائم کرنے کی ایک بھاری قیمت دینی لازمی ہے۔ وہ یہ کہ مسلمان مدعو قوموں کی زیادتیوں اور ایذا پر ایک طرفہ صبر کریں۔ اس کے بغیر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ قائم نہیں ہوسکتا (ولنصبرن علی ما آذيتمونا) مسلمانوں کے جو قومی مسائل ہیں ان کے لئے کچھ لوگ علیحدہ پلیٹ فارم بنا سکتے ہیں مگر اس طرح الہلال اپریل ۱۹۶۲
کے امور کو دعوت کا عنوان دینا دعوت کے نفی کرنا ہے۔ ان مسائل کا حقیقی حل یہ نہیں ہے کہ ان کو دعوت کی فہرست میں شامل کر دیا جائے۔ اس کے بجائے ہم کو یہ یقین و اعتماد پیدا کرنا ہوگا کہ اگر ہم دعوت کا کام انجام دے دیں تو اس کے بعد ہمارے مسائل بھی لازمی طور پر حل ہو جائیں گے۔ مسلم ملکوں میں قانونِ اسلامی کے نفاذ یا غیر اسلامی حکمرانوں کے اخراج کے نام پر اسلامی جماعتوں اور قائم شدہ حکومت کے درمیان جو نزاع جاری ہے اس کو مکمل طور پر ختم کرنا ضروری ہے۔ جنگ کے نتیجہ میں اسلامی تحریک غیر ضروری طور پر مسلم حکمرانوں کی حریف بن گئی ہے اور مسلم حکومتوں کا وہ تعاون اسلامی دعوت کے عمل کے لئے نہیں مل رہا ہے جو معتدل حالات میں ملنا یقینی تھا۔ مسلم ملکوں کے لئے صحیح اسلامی طریق کار یہ ہے کہ مسلم حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے لکن مواقع کو دعوتی مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔