سفر نامه امریکہ - ۵
Al-Risala, April 1992, pp. 5–37
By Maulana Wahiduddin Khan
صغیر اسلم صاحب اور ان کے بچے امریکہ کے شہری بن چمکے ہیں۔ ان کی اہلیہ نے ابھی شہریت نہیں ۲۸ نومبر کی صبح کو وہ لوگ شہریت کی رروائی مکمل کرنے کے لئے لاس اینجلس کے متعلقہ آفس میں جارہے تھے۔ میں نے سوچا کہ میں بھی اس " تاریخی منظر " کو دیکھوں۔ چنانچہ میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہواگیا۔
امریکی شہریت دینے کی تقریب (ceremony) سال میں دو بار کی جاتی ہے۔ سنٹر پہنچا تو وہاں ہزاروں انسانوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ تمام امیدوار صبح سویرے اپنے گھروں سے نکل کر یہاں پہنچے تھے۔ کیوں کہ وہ جانتے تھے کہ اگر انھوں نے اس موقع کو کھو دیا تو دوسرا موقع چھ مہینے کے بعد آئے گا۔
خاص راستوں سے گزارتے ہوئے تمام لوگ ایک بہت بڑے ہال میں لے جائے گئے جہاں کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔ ایک طرف شہریت کے امیدوار اور دوسری طرف وزٹرز بٹھا دیے گئے۔ اسٹیج سے اس تقریب (ceremony) کی اہمیت بتائی جارہی تھی۔ کے بعد ایک سفید فام جج آکر صدارت کی کرسی پر بیٹھ گیا۔ سب سے پہلے امیدوار لوگوں نے امریکہ کا ایک چھوٹا سا کاغذی جھنڈا اپنے ہاتھ سے اٹھا کر لہرایا۔ جج نے آپ کی زندگی کے اس تاریخی دن (This historic day of your life) کے الفاظ سے آغاز کرتے ہوئے کچھ ضروری اس کے بعد اس نے حلف کے انگریزی الفاظ کہے اور ہر ایک نے اس کو بلند آواز سے دہرایا۔ اس کی تکمیل کے بعد جج نے اعلان کیا کہ اب یونائیٹڈ اسٹیٹس آف امریکہ کے شہری ہیں۔ آخر میں سب لوگوں کو کھڑا کر کے نیشنل اینتھم بجایا گیا۔ معلوم ہو کہ تین دنوں کے اندر صرف لاس اینجلس کے سات ہزار آدمیوں کو امریکہ کا شہری بنایا گیا ہے۔ اب ہم لوگ ہال سے باہر کر دیئے گئے۔ کچھ دیر کے بعد نئے امریکی شہری ایک ایک کر کے باہر آنے لگے۔ ہر ایک کے ہاتھ میں سفید کا کاغذ کا ایک بڑا لفافہ تھا۔ اس میں شہریت کا سرٹیفکیٹ اور دوسرے کاغذات رکھے ہوئے تھے۔ لوگوں کے چہروں پر خوشی چک رہی تھی۔ کوئی لفافہ کو سنبھال رہا تھا، کوئی اپنے ساتھی کو سرٹیفکیٹ نکال کر دکھا رہا تھا۔ کچھ لوگوں کو میں نے دیکھا کہ وہ ایک ہاتھ میں امریکی جھنڈااور دوسرے ہاتھ میں شہریت کا سرٹیفکیٹ لئے ہوئے فوٹو کھنچوا رہے تھے۔ 34 الحانی اپریل ۱۹۹۲
میں ایک طرف کھڑا ہوا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ اس میں مختلف ملکوں اور مختلف قوموں کے مرد اور عورت شامل تھے۔ اچانک ایک شخص نے میری طرف براہ کر کہا: السلام علیکم۔ محمد جاوید الہ آبادی تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں اور انھوں نے بھی آج یہاں آکر امریکہ کی شہریت لی ہے۔ میری مسلمان صورت دیکھ کر وہ مجھ سے مخاطب ہوئے تھے۔ انھوں نے سامنے کی بینچ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : اس سٹی زن شپ میں کیا دھر اہے ، اصلی سٹی زن شپ تو مرنے کے بعد والی ہے۔
ان کا یہ جملہ سن کر مجھ پر عجیب تاثر ہوا ۔ میں نے سوچا کہ امریکہ کی شہریت لینے کے لئے لوگ کہاں کہاں سے بھاگے چلے آرہے ہیں۔ مگر جنت کا شہری بننے سے کسی کو دل چسپی نہیں۔ کا شہری بنانے کی کھڑکیاں امید واروں کی قطار سے خالی ہیں۔
یہاں میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ کا اقتصادی نظام تو عربوں کی دولت پر چل رہا ہے۔ عربوں کی جو دولت یہاں کے بینکوں میں جمع ہے اور یہاں کی مختلف کمپنیوں میں عربوں کا جو سر مایہ لگا ہوا ہے ، اس کو اگر وہ نکال لیں تو امریکہ دیوالیہ ہو جائے گا۔
دوسری طرف میری ملاقات ایک ہندو انجینئر سڑمن سے ہوئی۔ ان کا خیال تھا کہ امریکہ کو تو ہندو ماہرین چلا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکی سائنس دانوں کی بہت بڑی تعداد در اصل ہندوستانی ہے۔ اور یہی امریکہ کی بڑائی کا راز ہے۔ وہ ہر ملک کے بہترین افراد کو اپنی طرف کھینچ کر لاتا ہے اور ان کو اپنے اندر شامل کر لیتا ہے :
A large number of American scientists are in fact Indian. And that is part of America's greatness. It attracts, absorbs and assimilates the best from every land. یہ مشابہت بھی کیسی عجیب ہے کہ ہندو یا مسلمان کوئی بھی خود " اپنے ملک " کو ترقی نہ دے سکا، البتہ دونوں اس بات پر فخر کر رہے ہیں کہ وہی ہیں جنھوں نے " دوسرے ملک " کو اعلی ترقی کے درجہ تک پہنچایا ہے۔ مزید یہ کہ یہ ملک دونوں کے نزدیک قابل مذمت سامراجی ملک ہے۔ 35 | الرسائل اپریل ۱۹۹۲
امریکہ میں قیام کے دوران میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی۔ وہ یہاں کی ایک مسجد میں امام ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ مذکورہ مسجد سے تعلق رکھنے والے مسلمان ان کے خلاف ہو گئے ہیں اور ان کو مسجد کی امامت سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ ان کے بیان کے مطابق، اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے ایک بار جمعہ کی تقریر میں صدام حسین کی مذمت کی تھی، اور خلیج کے معاملہ میں سعودی موقف کی حمایت کی تھی۔
یہ کوئی انفرادی بات نہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ خلیج کے موجودہ بحران میں مسلم دنیا کی اکثریت صدام حسین کی حامی ہے۔ علماء کی اکثریت نے اگرچہ صدام حسین کو غلط ٹھہرایا ہے، مگر مسلم عوام کی اکثریت اس معاملہ میں پرو صدام نقطہ نظر رکھتی ہے۔
صدام حسین کا کویت پر حملہ واضح طور پر جارحیت ہے۔ صدام حسین نے کویت میں داخلہ کے بعد مدینہ طور پر مسلمانوں پر سنگین مظالم کئے ہیں۔ ان سب کے باوجود کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کی بیشتر تعداد صدام حسین کی مذمت نہیں کرتی، بلکہ ان کو ہیرو کا مقام دئے ہوئے ہے۔ اس وجہ مسلمانوں کی شکست خوردہ نفسیات ہے۔ مسلمان ایک سو سال سے اس حساس میں مبتلا ہیں کہ مغربی قوموں نے ان کے وقار کو مجروح کیا۔ ان کے اقتدار کا خاتمہ کیا۔ ان کی تہذیب کو مٹا ڈالا۔ اس شکست خوردگی کی بنا پر جب بھی وہ دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص ان کے "دشمنوں" کو چیلنج کر رہا ہے تو اس سے انھیں ایک قسم کی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ آدمی ان کی نظر میں ہیرو بن جاتا ہے۔ یہی نفسیات ہے جس کی بنا پر موجودہ صدی کے آغاز میں کمال اتا ترک مسلمانوں کے ہیرو بن گئے۔ اس کے بعد جمال عبدالناصر، معمر قذافی، زیات اللہ خمینی، ٹھیک اسی بنا پر ان کے ہیرو بنتے رہے ہیں۔ اور اب اسی بنا پر انھوں نے صدام حسین کو اپنا ہیرو بنا رکھا ہے، کیوں کہ کم از کم الفاظ کی حد تک، وہ "دشمن اکبر" امریکہ سے چیلنج کی زبان میں بات کر رہا ہے۔
یہ خوش خیالیوں کی دنیا میں کسی کو ہیرو بن کر اپنی مفروضہ فتح پر خوشی منانا ہے۔ یہی مفروضہ فتح کسی کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ اس دنیا میں حقائق کی قیمت ہے نہ کہ مفروضات کی۔ ۲ اگست ۱۹۹۰ کو عراق نے کویت پر فوجی قبضہ کر لیا تھا۔ نومبر کے خاتمہ پر اس کے قبضہ
کو چار مہینے پورے ہو جائیں گے۔ اس مدت میں امریکہ کی قیادت میں مختلف ملکوں نے عراق سے مطالبہ جاری کر رکھا تھا کہ وہ بلاشرط کویت کو خالی کر دے۔ سوویت یونین اس معاملہ میں امریکہ کے ساتھ تھا، مگر شرائط اور تحفظات کے ساتھ۔ روزنامہ آرج کا ونٹی رجسٹر ۲۷ نومبر ۱۹۹۰ میں صفحہ اول پر یہ سرخی پڑھی کہ سوویت یونین اب تحفظات کو ختم کر کے امریکہ کا حامی ہو گیا ہے۔ کی سرخی ہے ــــ عراق کے لئے ایک آخری موقع :