Al-Risala · April 1992

final opportunity for Iraq

Al-Risala, April 1992, pp. 37–38

By Maulana Wahiduddin Khan

خبر میں بتایا گیا تھا کہ سوویت یونین کے پریذیڈنٹ میخائیل گورباچیف نے الٹی میٹم کی زبان میں بولتے ہوئے کہا کہ عراق جنوری ۱۹۹۱ تک کویت سے اپنی فوجیں واپس بلالے ورنہ جنگی کارروائی کا سامنا کرے۔ انگریزی رپورٹ کے مطابق، انھوں نے کہا کہ عراق کی قسمت اس کی قیادت کے ہاتھ میں ہے، اور وقت اب اس کے لئے ختم ہو رہا ہے:

The fate of Iraq is in the hands of its leadership. Time is running out. میں نے اس کو پڑھا تو میں نے سوچا کہ اگر معاملہ کو وسیع تر معنوں میں لیا جائے تو یہ وارننگ نہ صرف صدام حسین کے لئے ہے بلکہ گورباچیف، جارج بش اور تمام دوسرے لوگوں کے لئے بھی ہے۔ ہر ایک کے لئے وقت ختم ہو رہا ہے۔ ہر ایک اس لمحہ کی طرف بڑھ رہا ہے جب کہ خدا کا صور پھونک دیا جائے اور ہر آدمی کو وہاں کھڑا کر دیا جائے جہاں اس کے لئے صرف اپنے کئے کا انجام پانے کا موقع ہو، سرکشی کرنے کا موقع کسی کے لئے باقی نہ رہے۔ یہاں کے اخبارات کا طریقہ ہندوستانی اخبارات سے مختلف ہے۔ یہاں کا اخبار سیکڑوں صفحات کا ایک بنڈل ہوتا ہے۔ مگر وہ ایک کتاب کی صورت میں نہیں ہوتا۔ اس کے الگ الگ بہت سے سیکشن ہوتے ہیں۔ مثلاً ورلڈ نیوز، ٹریول اسپورٹس، میٹر و، وغیرہ۔ ۲۵ نومبر کو میں روز نامہ آرج کا ونٹی رجسٹر کا سکشن ہوم فائنڈر دیکھ رہا تھا۔ اس کے صفحہ ۳ پر ایک ہنستی ہوئی تصویر تھی۔ اس کے نیچے لکھا ہوا تھا " و جے سونی"۔ مسٹر سونی دہیرہ دون میں ۱۹۴۴ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے سول انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری لی۔

ٹیلیفون 5598451 جائداد (real estate) کی خرید و فروخت کا کام کرتے ہیں ۔ انھوں نے کیلی فورنیا میں اس کام میں نمبر ۳ کی حیثیت حاصل کرلی ہے۔ وہ اپنی کامیابی کا کریڈٹ سب سے زیادہ ڈیل کارنیگی کے دی ہے جس کی درج ذیل کتاب انھوں نے بار بار پڑھی ہے: How to Win Friends and Influence People. انھوں نے کہا کہ میں اپنے گاہک کی بات کو نہایت غور سے سنتا ہوں اور اس کی ہر بات کا فقرہ نوٹ کرتا جاتا ہوں۔ میرے بستر پر مستقل طور پر ایک نوٹ بک موجود ہوتی ہے۔ تاکہ رات کو وقت اگر ٹیلی فون پر کوئی پیغام ملے تو اسی وقت میں اس کو لکھ کر محفوظ کر لوں۔ انھوں نے کہا کہ ۱۹۹۰ء کے لئے میرا نشانہ ۲۵ ملین ڈالر ہے:

Printed page