Al-Risala · April 1992

My goal for 1990 is $25 million.

Al-Risala, April 1992, pp. 38–46

By Maulana Wahiduddin Khan

ہر آدمی حقیقی کے نام پر غیر حقیقی (non-real) کو اپنا نشانہ بنائے ہوئے ہے، اس دنیا میں کوئی نہیں جو واقعی معنوں میں حقیقی (real) کو اپنا نشانہ بنانے پر تیار ہو۔ یہاں کے لوگوں میں یہ ذوق ہے کہ وہ اپنی کار کے پیچھے نمبر پلیٹ کے اوپر کچھ پسندیدہ فقرے لکھ دیتے ہیں۔ اس طرح کی کئی گاڑیاں میں نے دیکھیں۔ چند گاڑیوں پر لکھے ہوئے جملے

Sex is like credit. Some get it. Some don't. Happiness is being a grandparent. Get rich on life, not drugs. غالبأ بڑے لوگ اس قسم کے فقرے اپنی گاڑیوں پر لکھتے ہیں، انسانوں میں انھیں کوئی نہیں ملتا جس سے وہ کامیابی کے ساتھ اپنی بات کہہ سکیں۔ اس لئے وہ وہ اپنی شین پر اسے نقش کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں۔

۷ دسمبر ۱۹۹۰ کی شام کو یہاں سے واپسی ہوئی۔ ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کے ساتھ لاس اینجلس ایئر پورٹ پہنچا۔ اندر داخل ہوا تو ایک منظر میرے لئے بڑا عجیب تھا۔ ایک جاپانی خاتون

ہوا کہ وہ زندہ لاش نہیں ہے بلکہ کسی ہلکی چیز سے بنی ہوئی بہت بڑی گڑیا ہے۔ ماڈرن عورت لڑکا پیدا کرنا نہیں چاہتی۔ مگر وہ اولاد کی فطری طلب کو بھی اپنے اندر سے نکال نہ سکی۔ حقیقی اولاد سے محرومی کی تلافی وہ مصنوعی اولاد کے ذریعہ کر رہی ہے۔

ایئر پورٹ کے اندرونی حصہ میں داخل ہونے سے پہلے، قاعدہ کے مطابق، ہمارا سامان ایک مخصوص قسم کی متحرک بیلٹ پر رکھا گیا۔ اور اس پر چلتا ہوا اندرونی حصہ میں پہنچ گیا۔ طرح تمام لوگوں کے سامان اس کے اوپر رکھ کر گزرے جارہے تھے۔ میں نے دیکھا تو اوپر لگی ہوئی اسکرین میں ہر چیز کی صاف تصویر آرہی تھی۔ یکس مکمل طور پر بند تھا۔ مگر اس کے اندر جو چیز تھی، مشین اس کی تصویر لے کر اسکرین کے اوپر اس کو منعکس کر رہی تھی۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح خدا ہر ایک کی اندرونی حالت کو دیکھ رہا ہے۔ آدمی خواہ بند کمرےمیں کوئی عمل کرے یا اپنے سینے کے اندر کوئی بات سوچے، خدائے عالم الغیب سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں۔ لاس اینجلس سے جاپان ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۶۵ کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ یہاں کے ایئر پورٹ پر تقریباً ہر وقت کوئی جہاز اترتا ہے یا اُڑ رہا ہوتا ہے۔ جدید مواصلاتی ذرائع نے دوری کے مسئلے کو اس طرح ختم کر دیا ہے کہ اب زمین کے ایک حصہ اور اس کے دوسرے حصہ کے درمیان ربط قائم کرنا اتنا ہی آسان ہو گیا ہے جتنا کسی محلہ کے ایک حصہ اور دوسرے حصہ اس مواصلاتی انقلاب سے لوگ زبردست سیاسی اور تجارتی فائدے حاصل کر رہے مثلاً جاپان اور امریکہ کے درمیان ہر روز ۱۲ فلائٹ آتی ہے اور ۱۲ فلائٹ جاتی ہے۔ مگر اس مواصلاتی انقلاب کو اب تک اشاعت حق کے لئے استعمال نہ کیا جا سکا۔ راستہ میں ایئر ہوسٹس اخبار لے کر آئی۔ میں نے دیکھا تو اس کے ہاتھ میں بظاہر بہت سے اخبار تھے۔ میں نے چاہا کہ ان میں سے ایک لے لوں۔ اس نے کہا کہ یہ سب ایک ہی اخبار ہے یہ لاس اینجلس ٹائمس ۷ دسمبر ۱۹۹۰) تھا۔ میں نے گنا تو اس کے کل ۱۸۰ صفحات تھے۔ اخبارات کا عام انداز ہے۔ وہ اخبار سے زیادہ اشتہارات کا مجموعہ ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ

وہ اتنے زیادہ صفحات پر مشتمل ہوتے ہیں۔

جاپان ایئرلائنز کی فلائٹ میگزین (Winds) کے شمارہ دسمبر ۱۹۹۰ کو دیکھ رہا تھا۔ نیم میگزین کا بیشتر حصہ اشتہارات سے بھرا ہوا تھا۔ ایک صفحہ پر یہ الفاظ درج تھے: If you've got a minute, Minolta's got a copier یہ کاپی کرنے والی مشین کا اشتہار تھا۔ اس میں چھوٹی بڑی مشینوں کی تصویریں تھیں ۔ کاپی فی منٹ، ۳۰ کاپی فی منٹ ، ۴۰ کاپی فی منٹ، ۶۰ کاپی فی منٹ۔ اس کو دیکھ جناب صفی قریشی صاحب کی بات یاد آئی کہ موجودہ سوسائٹی انسٹینٹ فکس

انسٹینٹ کافی کی طرح ہر کام فوری طور پر ہوتا ہے۔ اس سے جدید انسان فوری حل کا عادی ہو گیا ہے۔ یہ آخرت کا پیغام دینے والی تحریک کے لئے ایک نفسیاتی رکاوٹ ہے۔ اپنے مسئلہ کو " آج " حل کرنا چاہتا ہے ، اور آخرت کا نظریہ اس کو " کل " تک موخر کر رہا ہے۔ یہ بڑا جہاز (۷۴۷) تھا۔ مگر چند کو چھوڑ کر اس کے تمام مسافر جاپانی تھے۔ جہاز کے اندر بالکل سکون نظر آیا۔ ہندوستانی مسافر جس جہاز میں ہوں ، اس کے اندر شور لازمی ہے۔ ٹائیلٹ میں جائیے تو ھندا کیا ہوا ملے گا۔ بچے جہاز کے اندر دوڑتے ہوئے نظر آئیں گے۔ مگر موجودہ جہاز میں اس قسم کی کوئی چیز نہ تھی۔ اکثر مسافر پڑھتے یا لکھتے ہوئے دکھائی دئے۔ جاپانیوں کا یہی مزاج جاپانیوں کا اصل سرایہ ہے۔ ان کی ترقی کا اصل راز ان کا یہی تعمیری مزاج ہے۔

لاس اینجلسز سے ٹوکیو تک تقریبا دس گھنٹہ کی مسلسل پرواز ہے۔ یہ پورا سفر بحر الکاہل کے اوپر طے ہوتا ہے۔ بحر الکاہل کی گہرائی اتنی زیادہ ہے کہ اگر اس کے اندر ہمالیہ پہاڑ ڈال دیا جائے تو وہ اس طرح ڈوب جائے کہ اس کا کوئی حصہ دکھائی نہیں اتنے گہرے اور اتنے بڑے سمندر کے اوپر انسان تیز رفتاری کے ساتھ اڑتا ہوا ایک ساحل سے دوسرے ساحل پر پہنچ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا یہ کیسا عجیب کرشمہ ہے۔ " اس وقت ہم ۳۳ ہزار فٹ کی بلندی پر اڑ رہے ہیں "۔ جہاز کے پائلٹ نے اعلان میں نے جہاز کے ایک جاپانی افسر سے پوچھا کہ اتنی زیادہ بلندی پر اڑنے کا سبب کیا کیوں کہ اس وقت آپ سمندر کے اوپر ہیں ، آپ دو ہزار فٹ کی بلندی پر بھی اڑ

اس نے کہا کہ نیچے ہوا کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے ، اس لئے ایندھن کو جلانے کے لئے پٹرول کی زیادہ مقدار خرچ ہوتی ہے۔ جب کہ اوپر ہوا کا دباؤ کم ہونے کی وجہ سے پٹرول کا خرچ تقريباً نصف کے بقدر گھٹ جاتا ہے۔

جہاز کا بلندی پر جانا جہاز کے لئے مفید ہے مگر وہ انسان کے لئے سخت مضر ہے۔ کے اندر خون کا جو دوران ہے، اس کو متوازن رکھنے کے لئے ہوا کا مناسب دباؤ انتہائی یہ دباؤ زمین کی سطح پر بالکل مناسب مقدار میں موجود رہتا ہے۔ مگر اوپر کی فضا میں ہوا کا دباؤ بہت کم ہو جاتا ہے۔ کم دباؤ کی اس ہوا میں اگر انسان کو کھلا چھوڑ دیا جائے تو جسم میں خون کا رکنا مشکل ہو جائے گا۔ ایسی حالت میں خون کان ، ناک ، آنکھ سے بہنے لگے گا، حتیٰ کہ وہ جلد کو پھاڑ کر نکل پڑے گا۔ اور پھر تھوڑی دیر میں انسان کی موت واقع ہو جائے گی۔ اس مسئلے کے حل کے لئے ہوائی جہاز میں وہ انتظام کیا گیا ہے جس کو کیبن کا دباؤ (cabin pressurization) کہا جاتا ہے۔ یہ طریقہ ۱۹۴۰ سے ہوائی جہازوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے ہوائی جہاز زیادہ بلندی پر نہیں اڑ سکتے تھے۔ آج ہم ہوائی جہاز کے اندر اسی طرح بیٹھتے ہیں جس طرح زمین کی سطح پر کوئی شخص کار کے اندر بیٹھتا ہے۔ مگر یہ آسانی اس خصوصی انتظام کی وجہ سے ممکن ہوئی ہے جس کا اہتمام جدید جہازوں کے اندر موجود

یہی موجودہ دنیا کا عام قانون ہے۔ یہاں کوئی مسئلہ دوسرے مسئلے سے الگ نہیں یہاں ایک مسئلے کے ساتھ دوسرے بہت سے مسائل وابستہ ہوتے ہیں۔ جو شخص کسی مسئلہ کو اس طرح چھیڑے کہ اس نے دوسرے مسائل کی رعایت نہ کی ہو وہ بدترین مجرم ہے۔ کیوں کہ وہ اپنی حد پرنہیں رکا، اپنی نااہلی کے باوجود وہ اپنی حد سے باہر نکل گیا۔

ٹوکیو میں مجھے ٹرانزٹ پیسنجر کے طور پر دو دن ٹھہرنا تھا۔ ایسے مسافروں کا انتظام ایم ای کپوچ کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ ٹوکیو ایئر پورٹ پر اترکر میں نے ہوٹل کے رجسٹریشن کار ڈکی بابت جواب ملا کہ آپ فلاں جگہ چلے جائیے ، وہاں بورڈ پر آپ کا کارڈ لگا ہوا ہو گا۔ متعلقہ جگہ پر پہنچا تو وہاں ٹائپ کیا ہوا رجسٹریشن کارڈ پیشگی طور پر موجود تھا۔ اس طرح کی باقاعدگی

میں نے اب تک کسی اور ائیر پورٹ پر نہیں دیکھی۔

ائیر پورٹ سے ہر آدھ گھنٹہ پر بسیں ہوٹل اور شہر جاتی ہیں۔ میں میجر امولک سنگھ کے ساتھ باہر نکلا تو ایک بس کھڑی ہوئی تھی۔ اس پر لکھا ہوا تھا ہوٹل نریتہ ٹوکیو (Narita Tokyo) ہم اس پر بیٹھ گئے۔ بس چلتی ہوئی ایک ہوٹل پر رکی۔ اندر داخل ہو کر اپنا کارڈ دکھایا تو ہمیں بتایا گیا کہ آپ کا رجسٹریشن ہوٹل نکونریتیا (Nikko Narita) میں ہے۔ اب دوسری بس سے دوبارہ ائیر پورٹ واپس آنا پڑا۔ ائیر پورٹ سے ایک اور بس ملی۔ اس نے ہمیں ہمارے ہوٹل میں پہنچایا۔

یہ غلطی ہوٹل کے نام میں مشابہت کی وجہ سے پیش آئی۔ اسی طرح زندگی میں ایسا ہوتا ہے کہ آدمی محض لفظی مشابہت کی وجہ سے ایک بے حقیقت چیز کو حقیقت سمجھ لیتا ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ پوری تحقیق کر کے چیزوں کو اختیار کرے۔ یا کم از کم اس کے اندر یہ حوصلہ ہو کہ جب اس کی غلطی اس پر واضح ہو جائے تو وہ فوراً صحیح چیز کی طرف پلٹ آئے۔

نکو ہوٹل میں میرا قیام کمرہ نمبر ۲۴۵ میں تھا۔ ٹوکیو ایک بے حد مشینی شہر ہے۔ یہاں کی پوری زندگی ایک بہت بڑی مشین نظر آتی ہے۔ میرے پاس ایک مہینہ کا ویزا تھا۔ یہاں کا اسلامک سنٹر مجھے مزید ٹھہرانا چاہتا تھا اور ٹوکیو میں میرا پروگرام رکھنا چاہتا تھا۔ مگر ٹوکیو کی مشینی زندگی سے مجھے بہت جلد وحشت ہوگئی۔ میں یہاں زیادہ ٹھہرنے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ نہ کر سکا۔ " اسلامک سنٹر جاپان " ٹوکیو میں واقع ہے (6169-460-03 .Tel) وہ ۱۹۶۵ میں قائم اس کی باقاعدہ عمارت ۱۹۸۲ میں تعمیر ہوئی۔ اس نے جاپانی زبان میں ۲۵ کتا بیں چھاپی اس کا ایک سه ماهی جرنل بھی جاپانی زبان میں نکلتا ہے جس کا نام السلام ہے۔ اس کا سرکولیشن تین ہزار ہے۔ اس کے تحت بچوں کا اسکول قائم ہے۔ سمینار وغیرہ منعقد کئے جاتے ہیں۔ اور دوسری دینی ضرورتیں پورا کرنے کا مرکز بھی ہے۔ جاپان میں کسی بھی قسم کا مذہبی امتیاز نہیں ہے ۔ چنانچہ برابر کچھ نہ کچھ افراد اسلام قبول کرنے رہتے ہیں۔ مگر دوسرے ملکوں کی طرح ، یہ سب اس نے آب ہوتے ہیں۔ سنٹر کے تعارف نامہ میں اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس میں ہم ارادہ کا رنگ نہیں دینے۔ اسلام میں خود کشش ہے اور وہ

خود اپنی طاقت سے پھیلتا ہے :

We do not claim any credit. Islam itself has the attracting power. ۱۹۰۹ میں پہلے جاپانی مسلمان نے حج کیا تھا۔ پہلی مسجد کوبے میں ۱۹۳۵ میں بناائی گئی۔ میں پہلی جاپانی مسلم تنظیم بنی جس کا نام جاپان مسلم ایسوسی ایشن تھا۔ جاپان کی ۱۲۰ ملین آبادی میں مسلمانوں کی تعداد صرف ہزاروں میں ہے۔ تاہم مستقبل میں اسلام کی ترقی کی کافی امید نظر آتی ہے۔

ہوٹل کے کمرہ میں نے عہد نامہ (New Testament) کا ایک عمدہ نسخہ موجود تھا۔ یہ دو کالموں انداز میں چھپا تھا۔ بائیں کالم میں انگریزی انجیل اور دائیں کالم میں اس کا جاپانی ترجمہ چھپا ہو یہ "جاپان بائبل سوسائٹی" کی طرف سے تیار کیا گیا تھا۔ اس کے شروع میں یوحنا ۳ : ۱۶ کی ایک آیت کے کئی ترجمے دئے گئے تھے اور لکھا ہوا تھا کہ یہ آیت ۱۲۰۰ سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ کی جا چکی ہے۔ وہ آیت عربی کے ترجمہ کے مطابق یہ تھی : لانہ ھکذا احب الله العالم حتی بذل ابنه الوحید لكي لا يهلك كل من يؤمن به بل تكون له الحياة الابدية۔

میں نے سوچا کہ یہ بھی کتنا الم ناک واقعہ ہے کہ ہلاکت سے بچنے کا جھوٹا نسخہ ساری دنیا میں تقسیم کیا جا رہا ہے۔ مگر ہلاکت سے بچنے کا جو سچا نسخہ ہے اس کو اہل عالم تک پہنچانے کی تڑپ کسی کے اندر نہیں۔

ہوٹل میں ایک نہایت نفیس قسم کی رنگین چھپی ہوئی کتاب تھی۔ اس کا نام تھا جاپان آرا (Japan Now) اس میں جاپانی زندگی کے مختلف مناظر بے حد عمدہ چھپائی کے ساتھ موجود ہر چیز نہایت پرکشش دکھائی دے رہی تھی۔ یہ "جاپانی جنت" کا تعارف تھا۔ مگر جب میں ٹوکیو کی سڑکوں پر نکلا تو یہ جاپانی جنت کہیں موجود نہ تھی۔ بے شمار مسائل نے عملاً اس جنت کو بے معنی بن

اس میں شک نہیں کہ خدا کی بنائی ہوئی یہ زمین بے حد حسین ہے۔ اس میں وہ تمام امکانات رکھ دئے گئے ہیں جن کے ذریعہ یہاں ایک خوبصورت دنیا بنائی جاسکے۔ مگر جدید سائنس

طریقوں کو استعمال کر کے جب آدمی نے یہ خوبصورت دنیا بنا لی تو معلوم ہوا کہ اس خوبصورت دنیا میں داخلہ اس کے لئے حرام ہے۔ لوگوں کے پاس خوبصورت مکانات ہیں۔ مگر ان مکانات کے اندر خوبصورت زندگی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ دنیا صرف جنت کا تعارف ہے ، مگر وہ بذات خود جنت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر ہر قسم کے سامانوں کی موجودگی کے باوجود یہاں آدمی خوشیوں سے بھری ہوئی زندگی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوتا۔

جاپان نسبتاً ایک چھوٹا ملک ہے۔ رقبہ کے اعتبار سے ہندوستان اس سے لوگن (زیادہ بڑا مگر ہندوستان آج مقروض ملک ہے، جب کہ جاپان ساری دنیا کو قرض دے رہا ہے۔ وجہ جاپان کی صنعتی ترقی ہے۔ عالمی تجارت (Global trade) میں جاپان کا حصہ تقریباً ۲۵ فی صد ہے۔ جب کہ ہندوستان کا حصہ عالمی تجارت میں ایک فیصد سے بھی کم (0.4 Per cent)

بھارتیہ جنتا پارٹی ، وشو ہندو پریشد جیسی جماعتیں بھارتیت کا نعرہ لگا رہی ہیں۔ ان کے لئے کرنے کا کام یہ تھا کہ وہ ملک کو سائنس اور صنعت کے میدان میں اوپر اٹھائیں، مگر وہ مذہبی جھگڑے بڑھانے ہی کو سب سے بڑا کارنامہ سمجھے ہوئے ہیں۔ ٹوکیو ابتداءً سولھویں صدی میں آباد کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ محض مچھلی پکڑنے کا گاؤں (Fishing village) تھا۔ اور اس کا نام (Yedo) تھا۔ ۱۸۶۸ء میں اس کو ٹوکیو کے نام سے موسوم کیا گیا جس کا مطلب مشرقی راجدھانی ہے۔ ۱۹۳۰ میں اس کی آبادی ۵۰ لاکھ کے قریب تھی۔

ٹوکیو بار بار زلزلہ سے دوچار ہوا ہے۔ ان میں ۱۹۲۳ کا زلزلہ سب سے زیادہ شدید تھا جس میں شہر کا بیشتر حصہ تباہ ہو گیا۔ اس کے بعد ٹوکیو کی نئی تعمیر کا سوال سامنے آیا۔ تعمیرات نے نئے انداز میں شہر کی منصوبہ بندی کی تاکہ زلزلہ کی صورت میں اس کو کم سے کم نقصان مثلاً چوڑی سڑکیں، بڑے بڑے پارک اور اسی طرح مکانات کو لوہے اور سیمنٹ کے ذریعہ اس طرح بنانا تاکہ وہ زلزلہ کے مقابلہ میں ٹھہر سکیں:

New buildings, designed to withstand earthquakes had frames of concrete and steel.

اس طرح جاپان کے اندرونی حالات نے اس کو یہ سبق دیا کہ امگر اس کو زندہ رہنا ہے تو اس کو حالات کے مطابق اپنے آپ کو تیار کرنا ہوگا۔ ورنہ وہ تباہ ہو جائے گا۔ دوسری عالمی جنگ (۱۹۱۸- ۱۹۴۲) میں فضائی بمباریوں کے نتیجہ میں پر شہر ٹوکیو کا بیشتر حصہ تباہ اب دوبارہ ٹوکیو کی تعمیر کے منصوبہ کے تحت کی گئی۔ جاپان نے اپنے نا موافق حالات کے خلاف فریاد اور احتجاج کا انداز اختیار نہیں کیا۔ بلکہ غردون کر کے قدیمہ اپنی تعمیر نو کی تدبیر تلاش یہ جاپانی کردار کا مخصوص پہلو ہے۔ اور اسی نے جاپان کی ترقی میں اہم حصہ ادا کیا ہے ایک جا پانی مثل جاپانیوں کے مزاج کو بہت خوبی کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ اس کا ترجمہ انگریزی میں اس طرح کیا گیا ہے کہ آدمی فتح سے بہت کم سیکھتا ہے گر شکست سے وہ بہت زیادہ سیکھ لیتا ہے: Man learns little from victory, but much from defeat. اس سفر میں میرا جانا اور آنا دونوں جاپان کے راستہ سے ہوا۔ مختلف مراحل پر جن لوگوں سے گفتگو ہوئی ان کو تاریخ وار درج کرنے کے بجائے یکجائی طور پر یہاں درج کیا جاتا ہے۔

ایک سیاح سے ملاقات ہوئی۔ وہ پہلی بار جاپان کی سیاحت کے لئے آئے تھے اور اب واپس وطن جارہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ جاپان کے بارے میں اپنا کوئی تجربہ انھوں نے کہا کہ آپ ایک ٹیکسی سے سفر کر رہے ہوں اور ٹیکسی ڈرائیور آپ کے بتائے ہوئےپتہ پر پہنچ نہ پا رہا ہو تو وہ ٹیکسی سے اتر کر پبلک بوتھ پر جائے گا اور اپنے پیسہ سے ٹیلیفون کر کے صحیح جگہ کو معلوم کرلے گا اور آپ کو عین دروازے پر لے جاکر اتارے گا ایسا صرف جاپان میں ہوتا ہے:

A cab-driver failing to locate the address you want to reach, rings up from a public booth on his own account to get the exact location and drops you at the very doorstep. This happens only in Japan. اس قسم کے واقعات کا تعلق قومی مزاج سے ہے۔ قوم کی تعمیر کے سلسلہ میں سب

سے زیادہ اہمیت مزاج سازی کی ہے۔ ہمارے یہاں کام کے نام پر بے شمار ہنگامےجاری ہیں، مگر اسی بنیادی کام کا کوئی وجود نہیں۔ جاپان کی اقتصادی ترقی کو باہر کی دنیا میں رشک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ جاپان کا باشعور طبقہ اس پر زیادہ خوش نہیں۔ میں نے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ جاپانی سے جاپان کی تجارتی ترقی کی تعریف کی۔ اس نے فورا کہا، مگر جاپان بین اقوام سطح پر وہ مقام حاصل نہ کر سکا جس کا وہ مستحق تھا :

But Japan did not succeed to secure the important place it deserves in the comity of nations. اس کے نزدیک اس کا سبب یہ تھا کہ جاپان کے پاس خارجہ پالیسی کا فقدان (lack of foreign policy) ہے ۔ میں نے کہا کہ کامیاب خارجہ پالیسی کے لئے کوئی بنیاد درکار ہوتی ہے، اور وہ بنیاد جاپان کے پاس موجود نہیں۔ جاپان نے اپنی پچاس سالہ کوشش سے غیر معمولی اقتصادی ترقی حاصل کر لی۔ اب مسئلہ انٹرنیشنل رول ادا کرنے مگر یہاں جاپان اپنے آپ کو غیر مستعد پارہا ہے :

Printed page