But Japan finds itself unprepared for it.
Al-Risala, April 1992, pp. 46–49
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتصادی ترقی کسی قوم کو زیادہ سے زیادہ جو چیز دے سکتی ہے وہ بینک بیلنس ہے۔ لیکن محض اقتصادی ترقی کے ذریعہ کوئی قوم عالمی رول ادا کرنے کے قابل نہیں بنتی۔ اس کے لئے مزید کوئی طاقت درکار ہے۔ میں نے کہا کہ جاپان کی حیثیت آج اقتصادی سپر پاور (economic superpower) کی ہے۔ اور امریکہ کی حیثیت عسکری سپر پاور (military superpower) کی۔ امریکہ کی فوجی طاقت نے اس کو عالمی حیثیت دے دی جاپان کے لئے اس کا موقع نہیں کہ وہ فوجی میدان میں امریکہ کا حریف بن سکے۔ ایک زیادہ اہم میدان ابھی خالی ہے۔ اور وہ نظریاتی سپر پاور (ideological superpower) بننے کا میدان ہے۔ اس میدان میں عمل کرکے جاپان اپنے آپ کو عالمی لیڈر بنا سکتا ہے۔ مذکورہ جاپانی کے لئے یہ بات نئی تھی۔ اس نے پوچھا کہ جاپان کس طرح نظریاتی سپر پاور بن اس سلسلہ میں میں نے مختصر طور پر اسلام کی اہمیت بتائی۔ 46 البلاغ اپریل ۱۹۹۲
راپچی کی ایک مسلم تنظیم کی دعوت پر دسمبر ۱۹۹۱ میں صدر اسلامی مرکز نے راپچی کا سفر کیا۔
وہاں ان کے مختلف پروگرام ہوئے۔ اس کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی۔
پٹنہ میں باقاعدہ طور پر حلقہ الرساله کا ماہانہ اجتماع شروع ہو گیا ہے۔ یہ اجتماع ہر مہینہ کے دوسرے سینڈ سنڈے، کو ہوا کرے گا۔ مقام اجتماع کا پتہ اور ٹیلیفون نمبر یہ ہے : جنوری ۱۹۹۲ میں صدر اسلامی مرکز نے حیدر آباد اور محبوب نگر کا دورہ کیا۔ اس سلسلہ میں دونوں مقامات پر مختلف پروگرام منعقد کئے گئے ۔ اس کی روداد انشاء اللہ سفر نامہ کے تحت شائع کر دی جائے گی ۔ مشرق وسطی کے بعض عربی اخبارات نے الرسالہ کے مضامین کا عربی میں ترجمہ ریگولر طور پر چھاپنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بعض عربی پرچے خاتون اسلام کے عربی ترجمہ کے ابواب سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں ۔ محمد عبد الجبار بنارسی نے بتایا کہ بھینسا( (ضلع عادل آباد) میں انھوں نے الرسالہ کا حلقہ بنایا ہے اور اس کے لئے ایک کمرہ خاص کر کے اس میں اسلامی دار المطالعہ قائم کیا ہے۔ اس طرح بہت سے لوگ دوسرے مقامات پر اسی انداز میں کام کر رہے ہیں۔ ایک صاحب لکھتے ہیں : میں نے الرسالہ مشن کو تہ دل سے قبول کیا ہے اور ۸۰ ممبران پر اس کی ایجنسی چلا رہا ہوں ۔ مزید ممبر بڑھانے میں مشغول ہوں۔ میں ہر ایک کے گھر جا کر الرسالہ پہنچاتا ہوں۔ گھر گھر جانے میں مجھے ذرا بھی عار محسوس نہیں ہوتا۔ اس کو میں خود تعمیری کے لئے اور دعوتی مشن کا تقاضا سمجھ کر کر رہا ہوں ۔ انشاء اللہ میں الرسالہ کو سبق کی کتاب کی طرح ہر گھر میں پہنچا دوں گا۔ (محمد سلیمان خاں ، کھام گاؤں) مس مہنا زسید (۱۴ سال) مس فرح سید (۱۵ سال) دونوں بہنیں ہیں عرب امارات میں
وہاں وہ شارجہ انڈین اسکول میں پڑھتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری ایک ٹیچر مسز رینوکا ہیں۔ وہ اکثر اسلام اور مسلمانوں پر تنقید کرتی رہتی تھیں۔ مہناز سید نے ان کو انگریزی الرسالہ کے کچھ شمارے پڑھنے کے لئے دئے۔ ان کا ذہن بدل گیا اور اب وہ اسلام کی خوبیوں کا اعتراف کرتی ہیں۔ اسی طرح دوسری ٹیچر مسز بی آسنگھ بھی اسلام پر تنقید کرتی ان کو بھی انگریزی الرسالہ پڑھایا۔ ان کا ذہن بھی بدل گیا۔
ایک صاحب لکھتے ہیں: میں آپ کے متعلق رسالوں میں بہت کچھ غلط پڑھتا تھا اور اس کی وجہ سے مجھے آپ سے سخت بیزاری تھی۔ لیکن خدا کا یہ ہمیشہ دستور رہا ہے کہ حق بات ظاہر کر دیتا ہے۔ اتفاقاً میں نے آپ کا الرسالہ پڑھا۔ کچھ ہی پڑھا تھا کہ میرا ذہن بدل میں نے سوچا کہ لوگ کتنا زیادہ غلط لکھتے ہیں۔ الرسالہ پڑھنے کے بعد ایسا لگا کہ اب مجھے اس کے علاوہ کوئی اور رسالہ یا پرچہ پڑھنے کا دل ہی نہیں کرتا ہے (محمد ابوبکر - لکھنؤ) ایک صاحب لکھتے ہیں: الرسالہ اپنے گوناگوں اوصاف کی وجہ سے سنجیدہ تعلیم یافتہ طبقہ میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ میرا ذاتی تاثر ہے کہ الرسالہ سے ہر شخص اپنے ذوق اور فکر کے مطابق خدا حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم آخرت کا تصور اور دعوت الی اللہ کا پہلو اس میں نمایاں رہتا ہے (عبد الصمد امینی ، ہزاری باغ)
ایک صاحب لکھتے ہیں: کافی عرصہ سے الرسالہ پڑھ رہا ہوں اور بڑی حد تک اس سے متفق ایک ایسا دور بھی تھا جب میں عام نوجوانوں کی طرح جوش کے تحت ملی مسائل کے بارہ میں سوچا کرتا تھا۔ لیکن جب سے الرسالہ ہاتھ لگا ہے میں جوش کے ساتھ ہوش سے بھی کام لینے لگا ہوں (حبیب احمد ایم اے ، نرمل)
ایک صاحب لکھتے ہیں : ۴۴ سال کی عمر میں بہت سی کتابیں پڑھی تھیں۔ مگر جب سے الرسالہ ہاتھ آیا یوں لگا کہ گزرے ہوئے وقت میں جو کتابیں پڑھی تھیں، کوئی عبرت آموز نہ بن سکی۔ سوائے الرسالہ کے کسی کتاب کو پڑھ کر محسوس نہیں ہوا کہ اس کتاب کو ابھی ختم نہیں ہو نا چاہئے تھا (شکیل عبد الرحمن ، مسقط)
ایک نئی کتاب تیار ہو رہی ہے۔ وہ ڈھائی سو صفحات پر مشتمل ہوگی اور اس کا نام "عظمت
اسلام ہو گا۔ اس کے پانچ ابواب حسب ذیل ہوں گے ۔ عظمت رب، عظمت رسول ، عظمت قرآن، عظمت اسلام، عظمت صحابہ ۔ اس کتاب کا ہر باب ان شاء اللہ پہلے الرسالہ میں خصوصی نمبر کے طور پر چھپے گا اور اس کے بعد اس کو مجموعہ کی صورت میں عظمت اسلام کے نام سے شائع کیا جائے گا۔
ایک صاحب لکھتے ہیں : کافی دنوں سے الرسالہ نہیں پڑھا ہے میں نے۔ کچھ پرانے رسالے آج ہاتھ میں آگئے ۔ ان کو پڑھ کر تڑپ گیا ہوں۔ بس یہی دل میں آتا ہے کہ ہمیں کچھ بھی نہیں کرنا ہے، سب کچھ مولانا لکھ تو رہے ہیں۔ اس سے زیادہ بھلا ہم کیا کر سکتے ہیں۔ میرا یقین ہے کہ الرسالہ کا سرکولیشن بہت زیادہ بڑھایا جا سکتا ہے۔ جو لوگ الرسالہ پڑھتے ہیں وہ پہلے کی بہ نسبت کافی سدھرے ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا ادارہ مسلمانوں کی کایا پلٹ کر سکتا ہے۔ (شاکر وارث، مراد آباد)