Man and the Universe.
Al-Risala, May 1992, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
البتہ کائنات اور انسان میں ایک فرق ہے۔ کائنات پوری طرح مسخر ہے۔ وہ مجبور ہے کہ وہی کرے جس کا حکم اللہ نے اس کو دے رکھا ہے۔ وہ اللہ کے حکم سے بال برابر بھی تجاوز نہیں کر سکتی مگر انسان ایک با اختیار مخلوق ہے۔ انسان کو وہی اطاعت اختیارانہ طور پر کرنا ہے جس کو بقیہ کائنات مجبوراً نہ طور پر کر رہی ہے۔
کائنات اپنی ساری وسعتوں کے باوجود ایک وحدت ہے۔ پوری کائنات ایک نظام وحدت کے تحت عمل کرتی ہے۔ اس طرح کائنات اس بات کا مظاہرہ کر رہی ہے کہ وہ ایک خدا کو ماننے والی یہی چیز انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی آزاد مرضی سے ایک خدا کو مان لے، وہ اپنی فکر کو پوری طرح توحید کی فکر میں ڈھال لے۔
شہد کی مکھی سے لے کر شمسی نظام تک کائنات کا ہر جز ر نہایت با معنی انداز میں اپنا عمل کر رہا ہے۔ جیسے کہ وہ کسی بر تر طاقت سے اپنے لیے احکام وصول کر رہا ہو۔ اسی کا نام وحی ہے۔ انسان کی طرف بھی اللہ نے پیغمبروں کے ذریعہ وحی کی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس وحی کو اپنا رہنما بنائے، وہ اپنی زندگی کے تمام اعمال اسی وحی کی روشنی میں انجام دے۔
پوری کائنات حالت سجدہ میں ہے۔ اس کا ایک مظاہرہ درخت اور تمام بلندیاں اپنے سایہ
کی صورت میں کرتی ہیں ۔ ہر بلند چیز اپنا سایہ زمین پر ڈال کر گویا اپنے خالق کے آگے سجدہ کر رہی ہے۔ یہی سجدہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ کے آگے سجدہ میں گر جائے ، وہ اللہ کی عبادت گزاری کو اپنی روح کی غذا بنالے ۔
کائنات میں بے شمار چیزیں ہیں ۔ اور ہر ایک حرکت کی حالت میں ہے ۔ مگر ان کے درمیان کبھی کسی قسم کا ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ اس کا ہر جزء اس کے دوسرے اجزاء سے کامل ہم آہنگ رہ کر اپنا عمل کرتا ہے۔ یہی طریقہ انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی انفرادیت کو اجتماعیت کے ساتھ ہر انسان دوسرے انسانوں سے موافقت کرتے ہوئے اپنا مقصد حیات حاصل کرے ۔ کائنات نفع بخشی کے اصول پر چل رہی ہے ۔ کائنات کا ہر جزء اپنا عمل اس طرح کرتا ہے کہ وہ دوسرے تمام اجزار کے لیے مفید بن سکے۔ یہی اصول انسان کو بھی اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ آدمی کو اس پختہ سوچ کے ساتھ دنیا میں رہنا ہے کہ اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچے۔ اس کی سرگرمیاں دوسرے کے لیے ہمیشہ نفع بخش ثابت ہوں ۔
کائنات پوری کی پوری قابل پیشین گوئی کردار رکھتی ہے۔ کائنات کے ہر جزء کے بارہ میں پیشگی طور پر یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ آئندہ وہ کس طرح اپنا عمل کرے گا۔ یہی چیز انسان سے بھی مطلوب انسان کو بھی قابل پیشین گوئی کردار کا حامل ہونا چاہیے ۔ انسان کو اتنا زیادہ با اصول ہونا چاہیے کہ پیشگی طور پر یہ اندازہ کیا جاسکے کہ کن حالات میں وہ کس قسم کا ردعمل ظاہر کرے گا۔ کائنات کی ہر چیز اپنی حد کے اندر رہ کر عمل کرتی ہے ۔ ہر ستارہ اپنے ذاتی مدار میں حرکت کرتا ہے ، کوئی ستارہ کبھی دوسرے کے مدار میں داخل نہیں ہوتا ۔ یہی طریقہ انسان کو بھی اختیار کرنا ہے۔ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حد کے اندر رہے ۔ وہ کبھی دوسرے کے دائرہ میں داخل نہ ہو۔ کو اس احساس کے ساتھ دنیا میں رہنا ہے کہ اس کی حد وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے دوسرے کی حد شروع ہوتی ہے ۔
انسان کے بارہ میں اللہ کی مرضی کیا ہے ، اس کو اللہ نے وحی کے ذریعہ اپنے پیغمبروں کے پاس اسلام اس وحی کا آخری اور مستند ایڈیشن ہے۔ اسلام اللہ کی مرضی کا لفظی بیان ہے اور کائنات اللہ کی مرضی کا عملی مظاہرہ۔