Al-Risala · May 1992

اسلام کی طاقت

Al-Risala, May 1992, pp. 6–7

By Maulana Wahiduddin Khan

مشہور امریکی میگزین نیوزویک (۳ فروری ۱۹۹۲) کی کور اسٹوری وسط ایشیا کے بارے میں اس کی سرخی اس نے ان الفاظ میں قائم کی ہے ______ وسط ایشیا کا وسیع علاقہ سوویت اقتدار سے آزادی کے بعد اپنے اسلامی تشخص کی تلاش میں :

Central Asia: freed from Soviet rule, a vast region searches for an Islamic identity. روس کی سرحدی ریاستیں، ازبکسن، قزاقستان، کرغیزستان، ترکمانستان، تا تاجکستان ، سو سال پہلے مسلم ریاستیں تھیں۔ ۱۹۱۷ میں روس میں کمیونسٹ انقلاب آیا تو اس نے جلد ہی توسیع کی پالیسی اختیار کی ۔ وسط ایشیا کی ان تمام ریاستوں کو اپنے قبضہ میں لے کر جبری طور پر ان کے اوپر کمیونسٹ نظام نافذ کر دیا گیا۔ اس پورے علاقہ پر ۷۰ سال سوویت یونین کا قبضہ رہا۔ یہاں تک کہ حالات میں تبدیلی ہوئی اور ۱۹۹۱ کے آخر میں یہ تمام ریاستیں آزاد ہوگئیں۔

ان ریاستوں کے بارہ میں مسلسل ایسی خبریں آ رہی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ۷۰ سال تک اشتراک کی قید میں رہنے کے باوجود وہاں کے مسلمانوں نے اسلام سے اپنا تعلق باقی رکھا اور جیسے ہی آزادی ملی ان کی اسلامیت اچانک نمایاں ہوگئی جو اشتراکی جبر کی بنا پر لوگوں کے دلوں میں اور ان کے گھروں میں چھپی ہوئی تھی ۔

مذکورہ نیوزویک کی ٹیم نے علاقہ کا براہ راست جائزہ لینے کے بعد بتایا ہے کہ سعودی علماء کثیر تعداد میں قرآن کے نسخے لے کر اس علاقہ میں آگئے ہیں تاکہ " پر افٹ محمد کے پیغام " کو لوگوں کے درمیان کمیونسٹوں نے اپنے اقتدار کے زمانہ میں یہاں کا رسم الخط جبری طور پر بدل کر روسی رسم الخط کر دیا تھا۔ اب نئے حکمراں دوبارہ اس کو عربی رسم الخط میں تبدیل کر رہے ہیں۔ اشتراکی دور حکومت میں یہ ناممکن تھا کہ باہر کا کوئی ادارہ اس علاقہ میں دینی مدد پہنچا سکے۔ آج مختلف اسلامک ممالک آزادانہ طور پر یہ کام کر رہے ہیں۔ سعودی عرب نے تخمیناً ایک بلین ڈالر وسط ایشیا میں پہنچایا ہے تاکہ وہاں کے دینی کاموں کو فروغ حاصل ہو۔ وہ مزید سات بلین ڈالر

تاشقند کے ریلیجس بورڈ کو دے رہا ہے تاکہ امام اسماعیل البخاری کے مزار کے ساتھ ایک بڑا اسلامک سنٹر قائم کیا جاسکے۔

سعودیہ کا اسلامک بینک ایک منصوبہ کو تین لاکھ ڈالر (300,000 $) کی مدد دے رہا ہے تاکہ دوشنبے (Dushanbe) میں ایک بڑا دینی مدرسہ قائم کیا جاسکے۔ اس طرح دوسرے مسلم ممالک بھی اسی علاقہ میں اسلام کے فروغ کے لیے مختلف طریقہ سے اپنا تعاون دے رہے ہیں۔

نیوز ویک نے مزید لکھا ہے کہ دو سال پہلے تاجکستان میں صرف ۱۸ مسجدیں تھیں۔ ذمہ داروں کے بیان کے مطابق، یہاں ۲۵۰۰ سے زیادہ مسجدیں ہیں :

اشتراکی نظام کے تحت آنے سے پہلے یہاں جو مسلمان تھے، ان میں سے بیشتر اس مدت میں وفات اب اس علاقہ میں جو مسلم نسلیں ہیں وہ زیادہ تر وہی لوگ ہیں جو اشتراکی نظام کے دور میں پیدا ہوئے جنہوں نے اشتراکی ماحول میں پرورش پائی اور اشتراکی اداروں میں تعلیم و تربیت حاصل کی۔ اس کے باوجود ان کے درمیان اسلام باقی رہا اور آزادی پاتے ہی از سر نو دوبارہ زندہ ہوگیا۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ کوئی حکومت خواہ وہ کتنی ہی زیادہ طاقت ور ہو، وہ اس پر قادر نہیں ہو سکتی کہ مسلمانوں کے اندر سے ان کے اسلامی تشخص کو مٹا دے۔ قرآن کے مطابق، خدا کا دین اب خشیت انسانی کے دور سے نکل کر خشیت ربانی کے دور میں داخل ہو چکا ہے (المائدہ ۳) اب اسلام اتنا مستحکم ہو چکا ہے کہ کوئی بھی طاقت اس کو نقصان پہنچانے پر قادر نہیں۔ اب اندیشہ تمام تر خدا کی طرف سے ہے نہ کہ انسان کی طرف سے۔

خدا کی طرف سے اسلام کو کامل اور مستحکم دین قرار دیا جانا اس بات کی ضمانت ہے کہ کوئی بھی طاقت اسلام کو مستقل نوعیت کا نقصان نہ پہنچا سکے۔ دوسروں کی طرف سے اسلام اور اہل اسلام کو وقتی قسم کا ضرر پہنچ سکتا ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی حالت دیر تک باقی رہنے والی نہیں۔ جب بھی ایسا ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حالات میں ایسی تبدیلی لائی جائے گی کہ مخالفین اسلام کے تمام منصوبے ڈھ جائیں۔ اسلام کا سورج وقتی بدلی سے نکل کر دوبارہ آفاق میں چمکنے لگے۔

Printed page