Al-Risala · May 1992

کامل مذہب

Al-Risala, May 1992, pp. 8–9

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کو ایک عقیدہ یا نظام فکر کی ضرورت ہے جو اس کے اندرونی تقاضے کا جواب ہو۔ کی زندگی کی تشریح کرے ۔ جس سے وہ اپنی عملی زندگی میں رہنمائی لے سکے۔

عام مذاہب انسان کے لیے ایسا نظام فکر فراہم کرنے میں ناکام ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مذاہب تحریف کی بنا پر اپنی واقعی حیثیت کو کھو چکے ہیں ۔ ان کے اور انسانی فطرت کے درمیان مطابقت باقی نہیں رہی ہے ۔ وہ زندگی کے معاملات میں صحیح رہنمائی کرنے سے قاصر ہیں۔ اسی بنا پر آج کی تعلیم یافتہ دنیا نے ان مذاہب کو رد کر دیا ہے۔

سائنس کے ظہور کے بعد جدید انسان نے یہ سمجھا کہ سائنس اس کو وہ فکری بنیاد دے سکتی ہے جس پر وہ کھڑا ہو سکے ۔ مگر یہاں ایک اور مسئلہ اس کے لیے رکاوٹ بن گیا۔ سائنس میں بھی انسان اپنے لیے مطلوبہ فکری بنیاد نہ پاسکا۔

سائنس نے انسان کو عالم فطرت کی دریافت میں مدد دی۔ یہ عالم فطرت جو اس نے دریافت کیا وہ بے حد با معنی تھا۔ اس میں نظم تھا، اس میں ڈیزائن تھی۔ اس میں منصوبہ بندی تھی مگر دوبارہ سائنس کی ایک کمی سائنس اور انسان کے درمیان حائل ہوگئی۔ انسان یہاں بھی اپنے مطلوب نظام فکر کو حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

سائنس کی کمی یہ تھی کہ اس نے صرف ”کیا ہے“ کے بارے میں بتایا۔ ”کیوں ہے“ کے بارہ میں وہ انسان کو کچھ نہ بتا سکی۔ گویا سائنس انسان کو ایک اچھی مشین تو دیتی ہے مگر وہ یہ نہیں بتاتی کہ اس اعلیٰ مشین کا صانع (Maker) کون ہے۔ اس مسئلہ کا حل مذہب کے پاس تھا۔ مگر جدید انسان مذہب کو پہلے ہی رد کر چکا تھا۔

انسان ایک توجیہہ پسند حیوان (explanation-seeking animal) ہے۔ واقعہ کی توجیہہ چاہتا ہے ۔ سائنس آدمی کی اس طلب کو پورا نہیں کرتی۔ وہ واقعہ کی نشان دہی کرتی ہے مگر وہ واقعہ کی توجیہہ نہیں بتاتی۔ وہ انسان کو ایک ایسی کائنات سے متعارف کرتی ہے جس میں ڈیزائن اور پلان ہے۔ مگر وہ انسان کو اس کے ڈیزائنر اور اس کے پلانر کے بارہ میں کوئی خبر نہیں دیتی۔

اس کے بعد قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان مطمئن ہونے کے بجائے حیرانی میں پڑ جاتا ہے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک ایسی ڈیزائن کیسے یہاں موجود ہے جس کا کوئی ڈیزائنر نہیں۔ پلان کیسے یہاں پایا جاتا ہے جس کا کوئی پلانر نہیں۔

سائنس کی دریافت کردہ دنیا کی یہی کمی ہے جس کی بنا پر البرٹ آئن سٹائن سے لے کر ہاکنگ (Stephen Hawking) تک تمام سوچنے والے دماغ یہ محسوس کرتے رہے ہیں کہ کائنات میں بہت سے ایسے پہلو ہیں جن کو سمجھنا انتہائی حد تک دشوار ہے :

There are aspects in the universe which are extremely difficult to understand اس فکری مشکل کو شروڈنگر نے اپنے الفاظ میں اس طرح بیان کیا ہے کہ فطرت کے بارہ میں سب سے زیادہ نا قابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے :

The most incomprehensible thing about nature is that it is comprehensible سائنس کے بعد دوسری چیز مذہب ہے۔ مگر قوموں کے پاس جو مذہب ہے وہ (اسلام کے سوا) سب کا سب محرف ہے۔ اس لیے وہ انسانی فطرت کو اپیل نہیں کرتا۔ سائنس اس بنا پر انسان کو فکری بنیاد نہ دے سکی کہ وہ نامکمل تھی۔ اور اس کا مذہب اس بنا پر اس کو فکری بنیاد دینے میں ناکام ہے کہ وہ محرف ہے۔ یہاں انسانیت کی امید صرف ایک ہے ، اور وہ اسلام ہے۔ آج اسلام ہی ایسا نظامِ فکر ہے جو انسان کی تمام ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ وہ ایسا مذہب ہے جس میں کوئی تحریف نہیں ، وہ ایسا علم ہے جو سچی سائنس کے تمام پہلوؤں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ اسلام کا ٹکراؤ نہ انسانی فطرت سے ہے اور نہ حقیقی علم سے۔

آج کا انسان محرف مذہب اور نامکمل سائنس کی دو طرفہ مشکل کے درمیان جی رہا ہے۔ حالات میں انسان کی مشکل کا جواب صرف ایک ہے ، اور وہ اسلام ہے۔ اگر اسلام کو وقت کی زبان اور وقت کے اسلوب میں پیش کر دیا جائے تو آج کا انسان دوڑ کر اس کو لے لے گا ، کیوں کہ اس کی روح آج سب سے زیادہ اسی کی تلاش میں ہے۔

Printed page