نظریاتی سپر پاور
Al-Risala, May 1992, pp. 10–11
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں بڑی طاقتوں کا بہت چرچا ہے۔ بڑی طاقت ہونا سب سے بڑی چیز سمجھا جاتا مگر بڑی طاقت کے نام سے لوگ صرف دو قسم کی طاقت کو جانتے ہیں۔ سپر پاور (economic superpower) جو آج جاپان کو حاصل ہے ۔ دوسرے فوجی سپر پاور (military superpower) جو خلیج کی جنگ (۱۹۹۱) کے بعد امریکہ کو حاصل ہو گئی ہے ۔ مگر خدا کی دنیا میں ایک اور امکان موجود ہے جو ان دونوں سے بھی زیادہ بڑی حیثیت رکھتا ہے۔ اور وہ ہے نظریاتی سپر پاور (ideological superpower) بننا۔ یعنی آدمی کے پاس ایک ایسا نظریہ ہو جو دلوں کو اپیل کرے، جو ذہن کو اس کے تمام سوالات کا جواب دیتا ہو۔ جو فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہو۔ جس انسان یا گروہ کے پاس اس قسم کا نظریہ ہو، وہ کسی مادی زور کے بغیر صرف اپنی نظریاتی قوت کے ذریعہ قوموں کو مسخر کر سکتا ہے، وہ ظاہری طاقت کے بغیر سب سے بڑی طاقت بن سکتا ہے۔
خدا کا دین یہی سب سے بڑی طاقت ہے ۔ خدا کا دین تمام فکری مسائل کو حل کرتا ہے۔ کی اندرونی طلب کا صحیح ترین جواب ہے۔ وہ انسان کو اس کے مقصد حیات سے آشنا کراتا ہے۔ جو انسان خدا کے دین کو پالے، وہ محسوس کرتا ہے کہ اس نے سب کچھ پالیا۔ اب اس کو کچھ اور پانے کی ضرورت نہیں ۔
خدا کے تمام پیغمبر یہی دین لے کر آئے ۔ مگر پچھلے پیغمبروں کی تعلیمات اپنی اصل صورت میں باقی نہ انسانی آمیزشوں نے ان کو محرف دین بنا دیا۔ اب زمین کے اوپر صرف ایک دین ہے جس کو خدا کا الدین ہونے کی حیثیت حاصل ہے، اور وہ پیغمبر آخر الزماں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا آپ کا دین قرآن وسنت کی صورت میں آج بھی پوری طرح محفوظ ہے ۔
اس اعتبار سے نظریاتی سپر پاور بننے کا موقع اب صرف پیغمبر اسلام کے دین کے لیے کسی اور مذہب کے لیے نہیں ۔ اہل اسلام کے حق میں یہ ایک ایسا ایڈوانٹیج ہے جو کسی بھی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو حاصل نہیں ۔
تاریخ کا تجربہ نظریہ کی فوقیت کو ثابت کرتا ہے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ نظریہ نہ صرف ایک طاقت ہے بلکہ وہ سب سے بڑی طاقت ہے ۔
امریکہ کے ایک ادارہ نے اپنے جائزہ (ٹائمز آف انڈیا اکتوبر (۱۹۸۹) میں پایا ہے کہ ان کے سوال نامہ کا جواب دینے والے امریکیوں میں ۶۳ فی صد ایسے لوگ تھے جن کا خیال تھا کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب سوویت یونین کا فوجی خطرہ نہیں ہے بلکہ سب سے بڑا چیلنج وہ اقتصادی خطرہ ہے جو جاپان جیسے ملکوں کی طرف سے پیش آرہا ہے :
A recent survey by the American Insight Group of Cambridge (Mass)
found that 63 per cent of their respondents felt that the biggest foreign policy challenge is no longer a military threat from the Soviet Union, an economic threat from countries like Japan. مگر دولت اور طاقت کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع کر لینے کے باوجود جاپان عالمی سطح پر وہ اہمیت حاصل نہ کر سکا جو بظاہر اسے حاصل کرنا چاہیے ۔ اس کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان کے پاس اقتصادی طاقت ہے مگر جاپان کے پاس نظریہ نہیں ۔ یہی بات ہے جو امریکی بینکر مسٹر مرفی (W. Taggart Murphey) نے اس طرح کہی کہ جاپان ایک ایسی سوسائٹی ہے جس کی حیثیت طاقت بغیر مقصد (Power without purpose) کی ہے ۔ جاپان کے پاس دنیا کو دینے کے لیے کوئی چیز نہیں، سوا اپنے بارہ میں انوکھے پن کے ایک تصور کے :
Japan has nothign to offer the world - only the idea of its uniqueness. سیاسی طاقت یا فوجی طاقت بظاہر بہت بڑی چیز معلوم ہوتی ہے ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نظریہ کی طاقت اس سے بھی زیادہ بڑی ہے ۔ مادی طاقت نظریہ کے بغیر بے حقیقت ہے ۔ جب کہ نظریہ کا معاملہ یہ ہے کہ وہ مادی طاقت کے بغیر بھی ناقابل تسخیر طاقت کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جس گروہ کے پاس ایک نظریہ ہو ۔ جو انسانوں کو ایک اعلیٰ مقصد کا تصور دے سکتا ہو ۔ وہ سب سے بڑی چیز کا مالک وہ خود اپنی بنیاد پر کھڑا ہو سکتا ہے ، وہ ہر چیلنج کا مقابلہ کر کے آگے بڑھ سکتا ہے ۔ چیزوں پر قیادت کرتا ہے ، دوسری چیزیں نظریہ کے اوپر قائد نہیں بن سکتیں ۔