وقت کی اہمیت
Al-Risala, January 1992, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
لارڈ چیسٹر فیلڈ (Lord Chesterfield) ۱۶۹۴ میں لندن میں پیدا ہوا، اور ۱۷۷۳ء میں وہیں اس کی وفات ہوئی۔ اس نے اپنے لڑکے فلپ اسٹین ہوپ کے نام بہت سے خطوط لکھے تھے۔ ان خطوط میں زندگی کی کامیابی کا آرٹ بتایا گیا تھا۔ یہ خطوط اس کے بعد چھاپ دیے گئے ہیں۔ ایک خط میں لارڈ چیسٹر فیلڈ نے لکھا میں نے تم سے کہا ہے کہ تم منٹوں کی حفاظت کرو، کیوں کہ گھنٹے اپنے آپ اپنی حفاظت کر لیں گے :
I recommended you to take care of the min- utes, for the hours will take care of themselves. اگر آپ اپنے منٹ کو ضائع نہ کریں تو گھنٹہ اپنے آپ ضائع ہونے سے بچ جائے گا، کیوں کہ منٹ منٹ کے ملنے ہی سے گھنٹہ بنتا ہے۔ جس آدمی نے جزو کا خیال رکھا، اس نے گویا کل کا بھی خیال کیوں کہ جب بہت سا جزو اکٹھا ہوتا ہے تو وہی کل بن جاتا ہے۔
بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ زیادہ کی فکر میں کم کو بھولے رہتے ہیں ۔ وہ اپنے ذہن کو بہت کی طرف اتنا زیادہ لگاتے ہیں کہ تھوڑے کی طرف سے ان کی نگاہیں ہٹ جاتی ہیں۔ مگر آخری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انھیں کچھ بھی نہیں ملتا۔
اپنے ملے ہوئے وقت کا ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیجئے ۔ لمحوں کو استعمال کر کے آپ مہینوں اور سالوں کے مالک بن سکتے ہیں ۔ اگر آپ نے لمحوں کو کھویا تو اس کے بعد آپ مہینوں اور سالوں کو بھی یقینی طور پر کھو دیں گے ۔
اگر آپ روزانہ اپنے ایک گھنٹہ کا صرف پانچ منٹ کھوتے ہوں تو رات دن کے درمیان آپ نے روزانہ ۲ گھنٹہ کھودیا۔ مہینہ میں ۶۰ گھنٹہ اور سال میں ۷۲۰ گھنٹہ آپ کے ضائع ہو گئے۔ طرح ہر آدمی اپنے ملے ہوئے وقت کا بہت سا حصہ بیکار ضائع کر دیتا ہے ۔ ۸۰ سال کی عمر پانے والا آدمی اپنی عمر کے ۴۰ سال بھی پوری طرح استعمال نہیں کر پاتا۔
وقت آپ کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ وقت کو ضائع ہونے سے بچائیے ۔
ہر بڑی کامیابی چھوٹی چھوٹی کامیابی کے مجموعہ کا نام ہے۔ چھوٹی کامیابی پر راضی ہو جائیے۔ اس کے بعد آپ بڑی کامیابی بھی ضرور حاصل کر لیں گے۔
مولوی لطف اللہ ایک معمولی ٹیوٹر تھے۔ وہ ۱۸۰۲ء میں مالوہ کے قدیم شہر دھار نگر میں پیدا ہوئے ۔ انھوں نے کسی انگریزی درس گاہ میں ایک دن بھی نہیں پڑھا مگر ان کی خود نوشت انگریزی سوانح عمری ۱۸۵۷ میں لندن سے چھپی۔ لندن کے پبلشر اسمته ایلڈرا اینڈ کمپنی نے اس کا نام یہ رکھا :
Autobiography of Lutfullah: A Mohammedan Gentleman اس کتاب کے ساتھ ایک انگریز مسٹرائٹ وک کا دیباچہ شامل ہے۔ انھوں نے دیباچہ میں مصنف کی صحیح انگریزی کی تعریف کی ہے۔ انھوں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا ہے کہ ایک ہندستانی نے دیسی زبان میں اتنی ضخیم کتاب کس طرح لکھی ۔
مولوی لطف اللہ نے یہ صلاحیت کیسے پیدا کی کہ وہ انگریزی میں ایک ایسی کتاب لکھیں جو لندن سے چھپے اور انگریز ادیب اس کی زبان کی تعریف کرے ، اس کار از اردو کے اس مشہور مقولہ میں چھپا ہوا ہے : «تھوڑا تھوڑا بہت ہو جاتا ہے ۔
مولوی لطف اللہ نے انگریزی زبان صرف اپنی محنت سے سیکھی۔ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز ملازموں کو ہندستانی ، فارسی اور مرہٹی زبانیں سکھاتے تھے۔ ان کے انگریز شاگردوں کی تعداد سو سے اوپر تھی۔ انگریزوں سے تعلق کے نتیجہ میں ان کے اندر انگریزی زبان سیکھنے کا شوق انھوں نے ذاتی مطالعہ سے انگریزی زبان پڑھنا شروع کیا۔ اور آٹھ سال کی لگا تار محنت کے نتیجہ میں اس پر پوری طرح قدرت حاصل کرلی۔ انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس آٹھ سال کی مدت میں " کوئی ایک رات ایسی نہیں گزری جب کہ سونے سے پہلے میں نے انگریزی کے دس لفظ یاد نہ کیے ہوں اور ڈاکٹر گل کرسٹ کی قواعد کی کتابوں کے چند صفحے توجہ سے پڑھ کر ذہن میں محفوظ نہ کیے ہوں " " دس لفظ » بظاہر بہت کم معلوم ہوتے ہیں۔ مگر دس لفظ روزانہ کی رفتار کو جب آٹھ سال تک پھیلا دیا جائے تو وہ ایک شخص کو غیر زبان کا ایسا ادیب بنا دیتے ہیں کہ اہل زبان بھی اس کی زبان دانی کا اعتراف کریں ۔