برتر طاقت
Al-Risala, May 1992, pp. 12–13
By Maulana Wahiduddin Khan
قاہرہ کے عربی جریدہ آخر ساعة مصر (۲۱ رجب ۱۴۱۱ھ) نے لکھا ہے کہ اگست ۱۹۹۰ء میں جب عراق نے کویت پر حملہ کیا تو اس کے بعد قاہرہ میں ڈاکٹر احمد الرائف کے مکان پر نشستیں ہونے اس میں عرب علماء اور مفکرین کا منتخب طبقہ شرکت کرتا تھا۔
ایک روز مصری اہل علم کی ایک تعداد بیٹھی ہوئی تھی۔ گفتگو کا موضوع صدام حسین کی ضد اور جارحیت تھی اور یہ کہ اس کے نتیجہ میں امت مسلمہ کتنے بڑے سیاسی اور اقتصادی اور تہذیبی مسائل میں مبتلا ہو گئی ہے۔ ہر ایک اس خلیجی بحران پر اظہار افسوس کر رہا تھا اور اپنے اپنے نقطہ نظر سے اس پر اظہار خیال کر رہا تھا۔
انہیں میں سے ایک ڈاکٹر زغلول النجار تھے۔ وہ ریاض کی جامعة الامام محمد بن سعود میں استاد وہ انگریزی اچھی جانتے ہیں۔ امریکی فوجیں جب حفر الباطن (سعودی عرب) میں ٹھہری ہوئی تھیں، اس وقت سعودی حکومت نے ڈاکٹر زغلول النجار کو حفر الباطن بھیجا تھا تاکہ وہ ان کے سامنے اسلام پر لکچر دیں۔ اس کی فرمائش خود امریکی فوجیوں نے کی تھی۔
ڈاکٹر نجار نے کہا کہ موجودہ بحران بلاشبہ ایک سخت نامبارک واقعہ ہے۔ مگر میں آپ کو اس تاریک صورت حال میں ایک مبارک خبر سنانا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ امریکی ایئر فورس کے چیف نے مجھ کو مدعو کیا تھا اور فرمائش کی تھی کہ میں مشرق اوسط کی تہذیب و ثقافت اور اس کے عقائد کے موضوع پر امریکی فوجوں کے سامنے لیکچر دوں تاکہ وہ اس علاقہ کے لوگوں کے مذہب و تہذیب سے واقف ہو سکیں۔
اس موضوع میں اسلام اپنے آپ شامل تھا۔ چنانچہ میں نے اپنے لیکچر میں ان کے سامنے اسلام کی تعلیمات کا تعارف کرایا اور ان کو اسلامی قدروں سے واقف کرایا۔ امریکی ایئر فورس کے جنرل نے نہایت احترام کے ساتھ میرا استقبال کیا اور فوجیوں نے بہت توجہ کے ساتھ میری باتوں کو سنا۔ جب میں نے اپنا لیکچر ختم کیا تو ایک عجیب واقعہ ہوا۔ ایک امریکی پائلٹ اپنے ہزاروں ساتھیوں کے درمیان سے اٹھا اور اسی وقت اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا۔ اس نے اپنے متعلق اظہار خیال
کرتے ہوئے بتایا کہ کئی سال سے ایسا تھا کہ مجھے اپنے اندر کسی چیز کی کمی کا احساس ہوتا تھا اور میں برابر اس کھوئی ہوئی چیز کی تلاش میں تھا۔ اس درمیان میں نے تقریباً پانچ سو کتابیں پڑھ ڈالیں۔ ایک سو سے زیادہ چرچ میں گیا۔ مگر مجھے اپنی مطلوبہ چیز نہیں ملی۔ آج آپ نے اسلام کے بارے میں جو معلومات دی ہیں ان کو سن کر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہی وہ چیز ہے جس کی مجھے عرصہ سے تلاش تھی۔ اس کے بعد مذکورہ امریکی پائلٹ نے ڈاکٹر زغلول النجار سے کہا کہ میں اسلام قبول کرنا چاہتا ہوں۔ آپ بتائیے کہ میں اس کا اظہار کس طرح کروں۔ انھوں نے کہا کہ اس کا طریقہ بالکل سادہ ہے۔ شہادت اپنی زبان سے ادا کیجئے۔ آپ کہئے : اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمدا پائلٹ نے فوراً کلمہ پڑھا اور لکچر ہال میں سب کے سامنے کئی بار اس کو دہرایا۔ ڈاکٹر زغلول النجار نے بتایا کہ اس کے بعد حفر الباطن کے امریکی فوجیوں کے درمیان اسلام کا چرچا لوگ اسلام قبول کرنے لگے۔ یہاں تک کہ ایک فوجی کرنل نے انہیں بتایا کہ یہاں اسلام قبول کرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔
خلیجی بحران کے زمانہ میں امریکہ ایک سپر پاور کی حیثیت سے عرب دنیا میں آیا۔ اس نے مسلم قوموں کے اوپر اپنی مادی برتری قائم کرلی۔ مگر عین اسی وقت ایک میدان ایسا تھا جہاں اہل اسلام کو امریکہ کے اوپر ناقابل تسخیر برتری حاصل تھی۔ یہ عقیدہ اور نظریۂ حیات کا میدان تھا۔ امریکی فوجی مادی اعتبار سے غالب ہونے کے باوجود مجبور تھے کہ وہ فکری اور روحانی اعتبار سے اسلام کے آگے
اسلام اپنی ذات میں ایک طاقت ہے۔ وہ ہر فوجی اور مادی طاقت کے اوپر غالب آتا ہے۔ اسلام کے پاس بظاہر فوجی اور مادی طاقت نہ ہو تب بھی وہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ کیوں کہ وہ خود ان لوگوں کو مسخر کرلیتا ہے جو فوجی اور مادی طاقت کے مالک بنے ہوئے ہوں۔ مذہب ہر آدمی کی ضرورت ہے۔ مذہب ہر آدمی کی فطرت کی پکار ہے۔ آدمی خود اپنی اندرونی طلب کے تحت مجبور ہے کہ وہ مذہب کی تلاش کرے۔ مگر مہ اسلام کے سوا جتنے مذاہب ہیں ان میں تحریف ہوچکی ہے۔ اس بنا پر انھوں نے فطرت سے اپنی مطابقت کھودی ہے۔ اسلام ہر قسم کی تحریف سے اس لیے آج اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جو آدمی کی فطری طلب کا حقیقی جواب بن سکتا ہے۔