اسلام کی برکت
Al-Risala, May 1992, pp. 14–15
By Maulana Wahiduddin Khan
منگولیا کے پہاڑی علاقہ میں بسنے والے قبائل کے سردار کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا۔ بعد کو چنگیز خاں ( ۱۲۲۷- ۱۱۶۲) کے نام سے شہرت پائی۔ وہ نہایت لائق اور حوصلہ مند آدمی تھا۔ وحشی قبائل کو متحد کر کے ایک فوج بنائی۔ اس کا کہنا تھا کہ اس کے لیے مقدر کیا گیا ہے کہ وہ سارے عالم کو
اولاً چنگیز خاں اور اس کے بعد اس کے بیٹے اور پوتے عالمی فتح کے اس منصوبہ کے لیے نکل پڑے۔ یہ لوگ جو تاریخ میں تاتاری یا منگول (Mongols) کہے جاتے ہیں، انھوں نے مشرقی یورپ سے لے کر چین اور ہندوستان تک آباد دنیا کے بڑے حصہ میں تباہی برپا کر دی۔ ۱۲۲۰ میں وہ ترکستان میں داخل ہوئے۔ ایک وسیع علاقہ میں انھوں نے عمارتیں ڈھا دیں، شہروں کو قتل کر ڈالا۔ کے نظام کو تہ و بالا کر دیا (18/793) ۱۲۵۸ میں انھوں نے بغداد کے عالیشان شہر کو کھنڈر بنا ڈالا (2/586) وغیرہ ، وغیرہ ۔
ان وحشی قبائل کی یہ تباہ کاری مشرقی یورپ تک پہنچ گئی تھی ۔ انھوں نے ۱۲۴۱-۴۲ میں پولینڈ پر حملہ کیا۔ انھوں نے روتھینیا (Red Ruthenia) کو اپنا مرکز بنا لیا تھا۔ یہاں سے وہ پولینڈ پر غارت گرانہ حملہ کرتے تھے۔ ان مسلسل حملوں نے پولینڈ کو تباہ و برباد کر دیا تھا : ... from this base their repeated raids devastated Poland (14/639). ان منگولوں (تاتاریوں) کی تباہ کاری کی تفصیل بہت لمبی ہے۔ اس کو تاریخ کی کتابوں میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہاں ہم اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کیا چیز تھی جس نے وحشت و بربریت کے اس طوفان سے دنیا کو نجات دی۔ یہ صرف اسلام کی تسخیری طاقت تھی۔ ۱۲۵۸ میں جب وہ مسلم دنیا میں فاتح بن کر داخل ہوئے تو اسلام نے ان کے قلب و روح کو مسخر کرنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ تقریباً نصف صدی کے اندر مسلم قوموں کو بھی ان کے ظلم سے نجات مل گئی اور اسی کے ساتھ بقیہ دنیا کو بھی ــــ آج دوبارہ دنیا کے انسان اس انتظار میں ہیں کہ اسلام وقت کے "تاتاریوں" کی روح کو مسخر کرے اور انسانی سماج دوبارہ امن اور انصاف کا گہواره بن جائے۔
اسلام آدمی کی زندگی کو با معنی زندگی بناتا ہے۔ اسلام کے اندر ہر آدمی کے لیے افادیت اسلام ہر آدمی کی تلاش کا صحیح ترین جواب ہے۔
ڈاکٹر جارودی (Roger Garaudy) فرانس میں ۱۹۱۳ء میں پیدا ہوئے ۔ وہ عیسائی خاندان سے تعلق رکھتے تھے ، ۱۹۳۳ء کے مشہور اقتصادی بحران نے ان کے ذہن پر اثر ڈالا ۔ وہ فرانس کی کمیونسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے ، تاہم ان کو ذہنی اطمینان نہ مروجہ مسیحیت میں ملا اور نہ کمیونزم میں۔ بعد کو انھوں نے اسلام کا مطالعہ کیا اور ۱۹۸۲ء میں اسلام قبول کر لیا۔ ڈاکٹر جارودی کو ۱۹۸۶ء میں شاہ فیصل فاؤنڈیشن کے تحت خدمت اسلام کا نصف ایوارڈ دیا گیا۔ اس موقع پر ریاض میں ایک تقریب ہوئی جس میں ڈاکٹر جارودی نے اپنے حالات کے بارہ میں مفصل تقریر کی۔ یہ تقریر انھوں نے فرانسیسی زبان میں کی تھی ۔ اس کا مکمل عربی ترجمہ سعودی اخبار الرياض (۲ رجب ۱۴۰۶ھ، ۱۲ مارچ ۱۹۸۶ء) میں شائع ہوا۔
ڈاکٹر جارودی کا ذہن جب کمیونزم سے ہٹا اور وہ مذہب کی جانب مائل ہوئے تو ابتدا ان کا میلان مسیحیت کی طرف ہوا۔ اس کے بعد انھوں نے باقاعدہ طور پر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام میں انھوں نے اپنے پورے ذہنی اطمینان کو پالیا۔ الحاد سے اسلام کی طرف اپنے اس سفر کو بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا تا کہ کر کے گارڈ (Kierkegaard) کے الفاظ میں ، اپنی زندگی کو با معنی بنا سکوں (حتی اعطی لحیاتی معنی) زندگی میں معنویت کی تلاش ایک فطری جذبہ ہے ۔ وہ ہر آدمی کے اندر لازمی طور پر اور پیدائشی طور پر پایا جاتا ہے۔ اپنی اس اندرونی تلاش کا جواب پانے کے لیے وہ ہر طرف دوڑتا ہے ۔ مگر دوسری تمام چیزوں میں اس کا جواب یا تو سرے سے موجود نہیں ہے یا اگر ہے تو جزئی طور پر ہے۔ اس لیے دوسری چیزوں میں انسان کو یہ تسکین نہیں ملتی کہ اس نے اپنی تلاش کا صحیح اور کامل جواب پا لیا ہے۔
اس تلاش کا صحیح اور مکمل جواب صرف خدا کے محفوظ دین ــــــــــــ اسلام میں موجود ہے۔ اسلام کی یہ امتیازی صفت اس کی دعوتی کامیابی کی سب سے بڑی