دین محفوظ کی طاقت
Al-Risala, May 1992, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
ہم ۱۹ سے پہلے کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ جب کہ ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ پادری صاحب دہرہ دون میں تقریر کر رہے تھے۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کا ایک مجمع ان کی تقریر سن رہا تھا۔ وہ اپنی تقریر میں یہ ثابت کر رہے تھے کہ عیسیٰ مسیح خدا کے بیٹے ہیں اور انسانوں کی نجات صرف اس میں ہے کہ وہ آپ کی ابنیت اور کفارہ کے عقیدہ پر ایمان لائیں۔
مجمع میں ایک نوجوان مولوی بھی موجود تھے۔ وہ جلد ہی مدرسہ سے پڑھ کر نکلے تھے۔ تقریر سن کر انہیں جوش آگیا۔ انھوں نے کھڑے ہو کر کہا کہ آپ بالکل غلط کہہ رہے ہیں۔ خدا کا بیٹا کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ مولوی ابھی نو عمر تھے جب کہ پادری کافی تجربہ کار ہو چکا تھا۔ اس نے مولوی صاحب کو اپنے دلائل میں اس طرح الجھایا کہ بظاہر وہ لاجواب ہونے لگے۔
مجمع میں ایک جاہل مسلمان بیٹھا ہوا تھا جو معمولی تجارت کر کے اپنا کام چلاتا تھا۔ اس کو یہ منظر دیکھ کر غیرت آئی۔ وہ اٹھ کر مولوی صاحب کے پاس آیا اور کہا کہ آپ بیٹھ جایئے ۔ یہ پادری جاہل ہے۔ میں بھی جاہل ہوں۔ جاہل کا مقابلہ جاہل ہی کر سکتا ہے، یہاں عالم کا کوئی کام نہیں۔ اس مسلمان نے پادری صاحب سے کہا۔ اب بتائیے کہ آپ کیا کہتے ہیں۔ پادری نے پُر اعتماد لہجہ میں دہرایا کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح خدا کے بیٹے ہیں۔
مسلمان نے بات کو مزید پختہ کرنے کے لیے کہا کہ آپ کا یہ کہنا ہے کہ حضرت عیسیٰ اللہ کے بیٹے ہیں اور اللہ میاں ان کے باپ ہیں، پادری نے کہا ہاں۔ اب مسلمان نے پوچھا، اچھا یہ بتائیے کہ اللہ میاں کی عمر کتنی ہوگی۔ پادری نے کہا کہ بے وقوف، یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے۔ اللہ میاں ازل سے ابد ان کی عمر کیسے متعین کی جاسکتی ہے۔ عمر تو اس کی ہوتی ہے جو محدود ہو، خدا تو لا محدود ہے۔ مسلمان نے دوبارہ سوال کیا کہ ٹھیک ہے۔ آپ یہ بتائیے کہ اتنی لمبی زندگی میں اللہ میاں کے یہاں کتنی اولاد ہوئی۔ پادری نے کہا صرف ایک، عیسیٰ مسیح، وہ اللہ کے اکلوتے بیٹے ہیں۔ مسلمان نے کہا۔ لاحول ولا قوۃ، مجھے دیکھو۔ میری عمر ۵۲ سال کی ہے۔ اور میں ۱۲ بچے پیدا کر چکا ہوں۔ کی عمراربوں اور کھربوں سال سے بھی زیادہ ہے اور اب تک ان کے یہاں صرف ایک اولاد ہوئی۔
جب میرے جیسے آدمی کے یہاں ۱۲ اولاد ہو گئی تو اللہ میاں کے ایک ہی کیوں۔ عوام نے یہ سن کر فوراً تالی بجادی۔ پاوری صاحب نے کچھ جواب دینا چاہا مگر تالیوں کی گونج میں ان کی آواز دب گئی۔ لوگوں نے پادری سے کہا کہ بس اب بات ختم ہو گئی۔ تمہارے پاس مسلمان کی بات کا کوئی جواب نہیں۔ اگلے دن اشتہار چھپ گیا کہ دوہرہ دون میں مناظرہ ہوا۔ اس مناظرہ میں مسلمانوں کی جیت ہوئی اور پادری صاحب بری طرح ہار گئے۔
اسلام ایک محفوظ اور غیر محرف مذہب ہے، اور مسیحیت ایک غیر محفوظ اور محرف مذہب۔ فرق کا یہ کرشمہ تھا کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ پادری کے مقابلہ میں ایک جاہل مسلمان کو فتح حاصل ہوئی۔ کوئی مذہب جب محفوظ حالت میں ہو تو وہ عین فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔ انسان کی فطرت ہی اس کو سمجھنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ یہ خصوصیت اس کو انتہائی حد تک طاقت در بنا دیتی ہے۔ طاقت آج صرف اسلام کو حاصل ہے۔ کیوں کہ آج اسلام ہی واحد مذہب ہے جو تحریف اور ملاوٹ سے پاک ہے۔ وہ اپنی اصل صورت میں محفوظ ہے۔ جب کہ دوسرے تمام مذاہب تحریف کے نتیجہ میں اپنی فطری سادگی کو کھو چکے ہیں۔ دوسرے مذاہب کی نمائندگی صرف ان کے علماء ہی کر سکتے ہیں۔ اسلام کی نمائندگی ایک عام مسلمان بھی بخوبی طور پر کر سکتا ہے۔
اسلام کی اس خصوصیت کی بنا پر یہ ممکن ہوگیا ہے کہ ایک عام مسلمان بھی اس کا مبلغ بن جائے۔ ایک عام مسلمان بھی بڑے بڑے لوگوں سے مقابلہ کر کے اسلام کی حقانیت ثابت کر سکے ۔ اسلام کی اس صفت نے اسلامی دعوت کی تسخیری قوت کو آخری حد تک بڑھا دیا ہے۔ اسلام کو ناقابل شکست حد تک فاتح مذہب بنا دیا ہے۔
دوسرے مذاہب میں کسی کو اس مذہب کا مبلغ بنانا ہو تو اس کو خصوصی تربیت دینا ضروری ان مذاہب کی تعلیمات اتنی پیچیدہ اور عقل عام سے اتنی ہٹی ہوئی ہیں کہ عام آدمی کے لیے ان کا مبلغ بننا ممکن نہیں۔ عام آدمی صرف ان کا مقلدانہ پرستار بن سکتا ہے وہ ان کا داعی اور مبلغ نہیں بن سکتا۔ مگر اسلام عین عقل عام کے مطابق ہے۔ اس لیے ہر آدمی خود اپنی فطری عقل کے ذریعہ اسلام کا داعی بن سکتا ہے۔ اسلام کا داعی اور مبلغ بننا اتنا ہی آسان ہے جتنا خود اپنی فطرت کی آواز کو لفظوں میں بیان کرنا۔