21 الہلال، مئی ۱۹۹۲
Al-Risala, May 1992, pp. 22–23
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈاکٹر رادھا کرشنن (۱۸۸۸-۱۹۷۵) ہندوستان کے مشہور مصنف اور فلسفی تھے۔ ان کی ایک کتاب وہ ہے جس کا نام مذہب اور کلچر (Religion and Culture) ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے دکھایا ہے کہ مذہب انسان کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ مذہب کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ اس سلسلہ میں وہ کہتے ہیں کہ سوال مذہب یا بے مذہب کا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کس قسم کا مذہب:
There is no question of religion or no religion, but what kind of religion. ڈاکٹر رادھا کرشنن نے جس قسم کے مذہب کی وکالت کی ہے ، وہ مذہب وہ ہے جو وحدت ادیان پر عقیدہ رکھتا ہو۔ یعنی یہ تصور کہ ایک ہی آفاقی حقیقت ہے جو ہر مذہب میں ظاہری فرق کے ساتھ پائی
یہ نظریہ دراصل جز پر کل کو قیاس کر کے وضع کیا گیا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ دو مختلف سچائیوں میں جزئی فرق ہو سکتے ہیں، تاہم اس جزئی فرق کے باوجود دونوں سچائیاں ایک مانی جائیں گی۔ فرق کلی نوعیت کا ہو، مثلاً ایک مذہب کہے کہ خدا ہے ، اور دوسرا مذہب کہے کہ مستقل بالذات حیثیت سے خدا کا کوئی وجود نہیں، اس طرح کے فرق جہاں پائے جائیں وہاں کوئی ایک ہی مذہب سچا ہوگا کہ دونوں
مذہب کی ایک قسم وہ ہے جو ذاتی تجربات کو مذہب کی بنیاد بتاتی ہے۔ اس قسم کا مذہب سراسر ناقابل قبول ہے۔ کیوں کہ اصل سوال استناد کا ہے۔ ذاتی تجربہ کی بنیاد پر جو مذہب بنے ، اس کو مستند نہیں کہا جا سکتا، اس لیے وہ قابل قبول بھی نہیں ہو سکتا۔
وہ کون سا مذہب ہے جس کو اختیار کیا جائے ۔ خالص علمی اعتبار سے اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مذہب جو ثابت شدہ ہو۔ یعنی وہ مذہب جو تاریخ کے معیار پر مستند ثابت ہو ۔ وہ مذہب جس کا پیغمبر تاریخی پیغمبر ہو۔ جس کی دی ہوئی کتاب اپنی اصل صورت میں محفوظ ہو۔ جو تاریخ کی کسوٹی پر پوری طرح معتبر قرار پاتا ہو۔
اسلام فطرت انسانی کے عین مطابق ہے۔ اسلام اور فطرت دونوں ایک دوسرے کے اسلام کو جاننے کے بعد آدمی اس طرح اس کو قبول کرتا ہے گویا وہ اس کے اپنے دل کی بات ہو۔ مس سینڈرا سٹرلنگ (Sandra Sterling) ایک امریکی خاتون ہیں۔ انھوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اب ان کا نیا نام عالیہ سٹرلنگ (Alia Sterling) ہے۔ وہ امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن میں رہتی ہیں۔
انھوں نے اپنے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ ایک روز مجھے گھر کی الماری میں کچھ کتابیں ملیں۔ یہ کتابیں میری ماں نے اس وقت خریدی تھیں جب کہ وہ میری دادی کے ساتھ قاہرہ میں رہتی تھیں۔ میری دادی قاہرہ کے امریکی سفارت خانے میں ایک عہدہ دار تھیں۔ ان کتابوں میں ایک قرآن کا انگریزی ترجمہ بھی تھا۔ میں نے اس ترجمہ کو پڑھنا شروع کیا۔ اس کے مطالعہ سے میری دل چسپی بڑھی۔ کے بعد میں نے واشنگٹن سے اسلام کی تاریخ اور پیغمبر کی سیرت پر مزید کتابیں حاصل کیں اور ان کا اس طرح اسلام کی طرف میرا سفر شروع ہوا۔ اسلام نے مجھے ان تمام سوالوں کا جواب دیدیا جو میرے ذہن میں موجود تھا: