Al-Risala · May 1992

نیا مستقبل

Al-Risala, May 1992, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام اللہ تعالیٰ کا آخری دین ہے۔ اس کو ہر حال میں محفوظ اور قائم رہنا ہے۔ اس لیے شروع سے اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ بڑا عجیب رہا ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں جب اسلام کو مکہ سے نکالا جا رہا تھا تو وہ مدینہ میں داخل ہو کر اپنے لیے عالمی فتوحات کے دور کا آغاز کر رہا تھا۔

عباسی دور میں جب تاتاریوں نے خلافت کے قلعہ کو مسمار کر دیا تو اسی قلعہ کے ملبے سے وہ نیا شاندار دور بر آمد ہو گیا جو ترکی میں عثمانی خلافت اور بر صغیر ہند میں مغل شہنشاہیت کے روپ میں ظاہر ہوا۔ بیسویں صدی عیسوی کے آخر میں اسلام دوبارہ ایک نئے عہد کے دروازہ پر کھڑا ہوا ہے، ایک ایسا دروازہ جس میں داخل ہو کر خدا کا دین پوری دنیا کو روشنی اور زندگی دینے کا ذریعہ بن جائے۔ بر صغیر ہند کے سیاسی لیڈروں نے ۱۹۴۲ میں کوئٹ انڈیا (Quit India) کا نعرہ دیا تھا۔ یعنی اے انگریز و، ہندوستان چھوڑ دو۔ اس نعرہ کے بعد انگریز کی عظیم شہنشاہیت ہل گئی۔ یہاں تک کہ صرف پانچ سال کے اندر، ۱۹۴۷ میں اس کو مکمل طور پر ہندوستان کو چھوڑ دینا پڑا۔ وہ ہندوستان کو ہندوستانیوں کے حوالے کر کے اس ملک سے واپس چلے گئے۔

آج یہ واقعہ بالکل سادہ سا معلوم ہوتا ہے۔ مگر ۱٩۴۷ سے پہلے یہ ایک انوکھا واقعہ تھا جس کی بہت سے لوگ آخر وقت تک اس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ۱۹۴۷ میں میں کانپور میں تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس وقت کا نپور کے ایک اردو اخبار نے اپنے ایڈیٹوریل میں لکھا تھا کہ انگریز آزادی کی بات کر کے ہندوستانیوں کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ بھلا وہ اس سونے کی چڑیا کو چھوڑ کر یہاں سے جا سکتا مگر پندرہ اگست ۱۹۴۷ کو ساری دنیا نے جان لیا کہ یہ انوکھا واقعہ ہو گیا اور انگریز ہندوستان کو ہندوستانیوں کے حوالے کر کے چلا گیا۔

اسی طرح آج اسلام کے احیاء کے لیے بھی شاندار امکانات موجود ہیں۔ جو لوگ صرف ظاہری چیزوں کو دیکھنے والی نظر رکھتے ہیں۔ انہیں اس قسم کی بات محض خوش فہمی معلوم ہوتی ہے۔ مگر حالات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھیے تو یہ بات عین ہونے والی بات نظر آنے لگے گی ۔ آج ہمیشہ سے زیادہ یہ موقع ہے کہ اسلام کو دوبارہ عالمی فکری طاقت کا درجہ دیا جا سکے ۔

موجودہ زمانہ میں بے شمار تمدنی اور سائنسی ترقیاں وجود میں آئی ہیں۔ یہ ترقیاں کیسے وجود میں یہ سب کی سب شرک (مظاہر پرستی) کے خاتمہ اور توحید کے غلبہ کے نتیجہ میں پیدا ہوئیں۔ لفظوں میں یہ یہ ترقیاں اگر چہ آج بظاہر مادی مقاصد کے لیے استعمال ہورہی ہیں مگر حقیقتہ وہ دینی مقصد کے لیے تھیں ۔ وہ دین کے کام کے لیے دینی انقلاب کے ذریعہ ظہور میں آئیں ۔ موجودہ تمدنی اور سائنسی ترقی دین کی معاون ترقی کی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ تمام ترقیاں در حقیقت دعوت دین کے نئے امکانات تھے۔ یہ خدا کے داعیوں کی راہ سے ہر قسم کی مشکلات کو ہٹا کر ان کے کام کو سہل بنانا تھا۔ اس اعتبار سے یہ تمام ترقیاں گویا اس دعا کی تکمیل ہیں جو قرآن میں ان الفاظ میں سکھائی گئی تھی : ربنا ولا تحمل علينا اصرا كما حملته علی الذین من قبلنا (خدایا ، ہمارے اوپر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے کی امتوں پر ڈالا تھا)

موجودہ انقلاب کے نتیجہ میں انتہائی نئے دعوتی امکانات کھل گئے جنھوں نے دعوتِ حق کے کام کو بالکل آسان بنا دیا، یہ سارے نئے امکانات اسی دعا کی قبولیت کے ہم معنی ہیں۔ اس لیے ہیں کہ حق کی آواز کو انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ سارے عالم میں پھیلایا جائے۔ اس لیے ہیں کہ ان کے ذریعہ سے توحید کی دعوت کو سائنٹفک سطح پر مدلل کر کے پیش کیا جائے ۔ انقلاب اس لیے آیا کہ کسی رکاوٹ کے بغیر دعوت کے کام کو جاری کیا جاسکے ۔ جغرافی فاصلے اس لیے کم کیے گئے کہ خدا کے سفیر تیز رفتاری کے ساتھ سفر کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکیں اور قبل اس کے کہ موت کا فرشتہ لوگوں کے پاس آئے انہیں زندگی کے بارہ میں خدا کی اسکیم سے باخبر کردیں۔ اس انقلاب میں دنیوی فائدے کی حیثیت ایک مزید فائدے کی تھی۔ زندگی کی آسانیاں، وسیع تجارت کے امکانات، وغیرہ سب در حقیقت ضمنی فائدے تھے ۔ وہ اصل دعوتی کام کی دنیوی مزدوری مگر اصل کام ہو نے سے رہ گیا اور ساری دوڑ دھوپ صرف مزدوری وصول کرنے پر مرکوز ہو گئی۔ دور جدید اپنے تمام نئے امکانات کے ساتھ اہل اسلام کو پکار رہا ہے کہ اٹھو اور نئے مواقع کو استعمال کر کے آج کی دنیا میں اسلام کی اشاعت کرو۔ اسلام کی فکر اور اس کی تعلیمات کو ساری دنیا میں پھیلا دو ۔ جدید دنیا کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس کو رب العالمين کے بے آمیز دین سے آگاہ کیا جائے، اور یہ بے آمیز دین آج اسلام کے سوا اور کہیں موجود نہیں۔

Printed page