Al-Risala · May 1992

نیا دور

Al-Risala, May 1992, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کی پشت پر جو حکومت قائم ہوئی وہ عام معنوں میں محض ایک حکومت نہ تھی۔ یہ شرک کے اوپر توحید کا غلبہ تھا۔ قدیم زمانہ میں دعوتِ توحید کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ شرک اور سلطنت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوتے تھے۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ مشرکانہ عقائد سے اپنے لیے حکومت کا حق ثابت اس بنا پر شرک کے خلاف دعوت سلطنت کے خلاف دعوت بن جاتی تھی۔ اور وقت کی سلطنت ایسی دعوت کو مٹانے کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی تھی۔

قدیم زمانہ میں خدائی بادشاہوں (God-kings) کارواج تھا۔ قدیم زمانہ کے بادشاہ اپنے آپ کو دیوتاؤں کی اولاد کہہ کر اپنے لیے حق حکومت ثابت کرتے تھے۔ وہ اپنے آپ کو خدا کا ارضی ظہور بتا کر لوگوں کو یہ یقین دلاتے تھے کہ انہیں لوگوں کے اوپر حکومت کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس بنا پر جب خالص توحید کی دعوت اٹھتی تو ان کو محسوس ہوتا کہ وہ ان کے فلسفہ حکومت کو غلط ثابت کر رہی ہے۔ دعوتِ توحید کی کامیابی میں انہیں اپنے نظریہ حکومت کی موت نظر آتی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے ذریعہ جو عالمی غلبہ حاصل ہوا اس نے شرک اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا۔ اب شرک محض ایک شخصی عقیدہ کی حیثیت سے باقی نہ رہا۔ سیاست اور حکومت کے ساتھ اس کا رشتہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔ شرک اور سیاست کی یہ جدائی تکمیل دین کا ایک اہم پہلو ہے۔ اس کی وجہ سے بعد کے دور میں یہ ممکن ہو گیا کہ توحید کی دعوت اس طرح دی جا سکے کہ شرک کی طرف سے کسی جارحانہ رکاوٹ کا اندیشہ باقی نہ رہے۔ مشرکانہ سیاست ختم ہو کر جو دوسری سیاست آئی وہ عوامی سیاست تھی۔ پہلے حق حکومت شرک سے اخذ کیا جاتا تھا۔ اب حق حکومت عوامی رائے سے اخذ کیا جانے لگا۔ اس تبدیلی نے اپنے لازمی نتیجہ کے طور پر دنیا سے شمشیر کے دور کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ شمشیر دراصل شخصی اقتدار کی جب عوامی اقتدار آیا تو شمشیر نے منطقی طور پر اپنی اہمیت کھودی۔ اس طرح تاریخ نظریاتی مقابلہ کے دور میں پہنچ گئی۔ اور نظریاتی مقابلہ کے میدان میں برتری ابدی طور پر صرف اسلام کا حصہ ہے۔ اب غلبہ صرف اسلام کے لیے مقدر ہے، دوسروں کے لیے مغلوبیت پر راضی ہونے کے سوا اور کوئی صورت نہیں۔

دور قدیم میں اسلام کے علم برداروں نے اسلام کو شرک کے اوپر غالب کیا تھا۔ آج دوبارہ وہ وقت آگیا ہے کہ اسلام کو الحاد کے اوپر غالب اور سر بلند کیا جائے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اسلام کے حاملین اٹھیں اور اپنے حصہ کا کام کر کے اس تاریخی امکان کو واقعہ بنا دیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی ۶۱۰ میں اتری۔ اس کے بعد آپ نے عرب میں اسلام (دین توحید) کی دعوت کا کام شروع کیا۔ اگر آپ چودہ سو سال پیچھے چلے جائیں، اور ابتدائی وقت کے لحاظ سے دیکھیں تو حالات اتنے ناموافق اور اتنے تاریک نظر آئیں گے کہ بظاہر ایسا محسوس ہوگا کہ عرب میں یا بقیہ دنیا میں اسلام کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔ لیکن اگر امکان کے اعت بار سے دیکھیے تو آپ پائیں گے کہ عین اسی وقت ایک شاندار مستقبل اسلامی قافلہ کا انتظار کر رہا ہے۔ ایسی ہی کچھ صورت حال موجودہ زمانہ میں بھی ہے۔ جو لوگ چیزوں کو صرف ظاہر حالات (Face value) کے اعتبار سے دیکھنے کے عادی ہیں، انھیں ہر طرف صرف مشکلات کے تاریک بادل چھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھے تو معلوم ہوگا کہ ان تاریک بادلوں کے پیچھے ایک روشن سورج چھپا ہوا موجود ہے۔

اسلام (توحید کی دعوت آج جس عظیم امکان کے کنارے پہنچ چکی ہے، وہ اتنا قریب ہے کہ اس کی کرنیں پھوٹ کر ظاہر ہو رہی ہیں، اور اس کی جھلک صاف طور پر دکھائی دینے لگی ہے۔ اسلام کے حق میں یہ سارا امکان دعوت کے اعتبار سے پیدا ہوا ہے، نہ کہ ان غیر دعوتی مقامات پر جہاں موجودہ زمانہ کے مسلمان انتہائی بے فائدہ طور پر اپنا سر ٹکرا رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں تمام قوموں میں مذہب کی طرف واپسی کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ یہ ایک عالمی ظاہر ہ مذہبی لٹریچر آج سب سے زیادہ فروخت ہو رہا ہے۔ عبادت خانے جو خالی ہو گئے تھے، ساری دنیا میں دوبارہ بھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

تاہم دوسرے مذاہب محرف مذاہب ہیں۔ تحریف کی بنا پر ان مذاہب میں اور انسانی فطرت میں مطابقت باقی نہیں رہی ہے۔ ان حالات میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ لوگوں کی مذہب کی طرف واپسی حقیقتہ اسلام کی طرف واپسی کیوں کہ صرف اسلام ہی غیر محرف مذہب ہے اور اس بنا پر وہی واحد مذہب ہے جو حقیقی معنوں میں انسان کی طلب کا جواب بن سکتا ہے۔

Printed page