شیر کا طریقہ
Al-Risala, January 1992, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹائمز آف انڈیا ( ۱۸ مارچ ۱۹۹۱) میں شیر کے بارے میں ایک رپورٹ چھپی ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ شیر جنگل کی گھاس پر چلنا پسند نہیں کرتے ۔ انھیں اندیشہ ہوتا ہے کہ کوئی کانٹا ان کے نرم پاؤں میں نہ چبھ جائے ۔ چنانچہ وہ ہمیشہ کھلے راستوں پر یا سڑکوں پر چلتے ہیں : Tigers hate to walk on the jungle grass for the fear of a thorn piercing their soft feet. Thus they always walk on open paths and roads. شیر اور دوسرے تمام جانور فطرت کے مدرسہ کے تربیت یافتہ ہیں ۔ وہ ہمیشہ اس طریقے پر چلتے ہیں جو ان کے خالق نے براہ راست طور پر انھیں بتایا ہے ۔ اس بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ شیر کا مذکورہ طریقہ فطرت کا پسندیدہ طریقہ ہے۔ شیر کے لئے یہ احتیاطی طریقہ اس کی طینت میں رکھ دیا گیا ہے ۔ انسان کے لیے شریعت کی زبان میں یہی بات ان لفظوں میں کہی گئی کہ خذوا حذر کم ( اپنے بچاؤ کا انتظام رکھو ) اللہ تعالیٰ نے جس خاص مصلحت کے تحت موجودہ دنیا کو بنایا ہے ، اس کی بنا پر یہاں صاف ستھرے راستے بھی ہیں ، اور کانٹے دار جھاڑیاں بھی ۔ یہ کانٹے دار جھاڑیاں لازماً اس دنیا میں رہیں گی ۔ ان کو ختم کرنا ممکن نہیں۔ اب یہاں جو کچھ کرنا ہے، وہ وہی ہے جو خدا کے سکھائے ہوئے طریقے کے مطابق جنگل کا شیر کرتا ہے ، یعنی کانٹے دار جھاڑیوں سے اپنے آپ کو بچایا جائے اور صاف اور کھلا ہوا راستہ تلاش کرکے اس پر اپنا سفر جاری کیا جائے ۔
شیر جنگل کی گھاس سے اعراض کرتے ہوئے چلتا ہے، ہم کو انسانوں کے فتنے سے اعراض کرتے ہوئے اپنا سفر حیات طے کرنا ہے ۔ ہم کو چاہیے کہ ہم اپنے کسی عمل سے دوسروں کو غصہ نہ دلائیں۔ اگر دوسرے لوگ ہمارے اوپر غضب ناک ہو جائیں تو صبر کے ذریعہ ان کے غضب کو ٹھنڈا کریں ۔ حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ اپنے آپ کو ان کے غضب کا شکار ہونے سے بچائیں۔
جنگل کا بادشاہ " جو کچھ کرتا ہے وہ بزدلی نہیں ہے بلکہ عین بہادری ہے ۔ اسی طرح ایک انسان اپنے سماج میں یہی طریقہ اختیار کرے تو وہ بزدلی نہیں ہوگا بلکہ عین بہادری ہوگا ۔ طریقہ شیر کا طریقہ ہے نہ کہ گیدڑ کا طریقہ ۔
خداوندِ عالم کا ایک ہی قانون ہے جو انسانوں سے بھی مطلوب ہے اور غیر انسانوں سے بھی۔ وہ ہے ناخوش گوار باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی زندگی کی تعمیر کرنا۔ گلاب کے پھولوں کا ایک باغ ہے۔ آپ اس میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کی خوبصورت پتیاں اور اس کے خوشبو دار پھول آپ کو متاثر کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ اس کے کانٹے آپ کو لگ جاتے ہیں۔ آپ کا ہاتھ زخمی ہو جاتا ہے یا آپ کے کپڑے کانٹوں میں پھنس جاتے ہیں۔ اب ایک صورت یہ ہے کہ گلاب کے باغ میں کانٹوں کی موجودگی کو آپ باغبان کا فعل قرار دوسری صورت یہ ہے کہ آپ یہ جانیں کہ یہ کانٹے قدرت کے قانون کا نتیجہ ہیں۔ اگر آپ کانٹوں کی موجودگی کا سبب باغبان کو سمجھیں تو آپ کے اندر نفرت اور شکایت کا ذہن ابھرے گا، اور اگر آپ اس کو قانون قدرت کا نتیجہ سمجھیں تو آپ کانٹوں کی موجودگی کو بطورِ حقیقت تسلیم کرتے ہوئے یہ کوشش کریں گے کہ اس سے اعراض کرتے ہوئے اپنا مقصد حاصل کریں۔ ایک تشخیص سے احتجاج کا ذہن ابھرے گا اور دوسری تشخیص سے تدبیر تلاش کرنے کا۔
ہندوستان میں اکثریتی فرقہ کی طرف سے جو قابلِ شکایت باتیں پیش آتی ہیں ، ان کو مسلمانوں کے تمام لکھنے اور بولنے والے انسان کا پیدا کردہ مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اس لیے وہ احتجاج کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ مگر یہ سراسر عبث ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے گلاب کے کانٹوں کے خلاف شور و غل کیا جائے ۔ گلاب کے درخت میں کانٹے بہر حال رہیں گے ، اسی طرح انسانی سماج میں ایک سے دوسرے کو تلخ باتیں بھی ضرور پیش آئیں گی۔
ان تلخ اور قابلِ شکایت باتوں کا حل صرف ایک ہے ۔ ان سے اعراض کرنا، ان کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنے سفر حیات پر رواں دواں رہنا۔ اس قسم کے سماجی مسائل خود خدا کے تخلیقی منصوبہ کا حصہ ہیں ، اس لیے وہ کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ البتہ ان کی موجودگی کو گوارا کر کے ہم اپنی زندگی کے سفر کو ضرور جاری رکھ سکتے ہیں۔
نادان آدمی ناموافق باتوں سے الجھتا ہے ، دانش مند آدمی ناموافق باتوں سے دامن بچاتے ہوئے گزر جاتا ہے۔ یہی ایک لفظ میں ، اس دنیا میں ناکامی اور کامیابی کا راز ہے۔ یہاں الجھنے کا انجام ناکامی ہے اور نظر انداز کرنے کا انجام کامیابی۔