صداقتِ اسیلام
Al-Risala, May 1992, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
مشہور مغربی مورخ فرینکلن بامر (Franklin Baumer) نے موجودہ دور کو پریشانیوں کا دور (Age of anxiety) قرار دیا ہے۔ سائنس کے ظہور کے بعد انیسویں صدی میں یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ بہتر زندگی اور اچھے معاشرہ کی تعمیر کے لیے سائنس کافی ہے۔ سائنس کے ذریعہ انسان کو مادی ترقی بھی حاصل ہوگی اور اس کے ذریعہ اخلاقی اور روحانی ترقی بھی۔ مگر سو سال کے تجربہ کے بعد شدید ناکامی ہوئی۔ سائنس نے مادہ کو مشین میں تبدیل کیا ، مگر وہ برے انسان کو اچھا انسان نہ بنا سکی۔ مثال کے طور پر سائنس نے انسان کو جو نئی طاقت دی ، اس کا استعمال انسان نے دو عالمی جنگوں کی صورت میں کیا جس نے انسانی دنیا میں ایسی تباہی برپا کی جس کی مثال ساری انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔
چنانچہ بیسویں صدی میں عام طور پر اس کا اعتراف کر لیا گیا کہ سائنس انسانی معاشرہ کی تعمیر و ترقی کے لیے کافی نہیں۔ آئن سٹائن نے کہا کہ سائنس پلوٹونیم کی فطرت کو بدل سکتی ہے ، مگر سائنس انسان کے دل کی برائی کو دور نہیں کر سکتی :
Science can denature plutonium but it cannot denature the evil in the heart of man. کچھ اور لوگوں نے براہ راست اور متعین صورت میں مذہب کی اہمیت کا اعتراف کیا۔ نے جدید معاشرہ کے ہزاروں لوگوں کا تجربہ کرنے کے بعد کہا کہ ہم جو کچھ بھگت رہے ہیں اس لیے بھگت رہے ہیں کہ ہم خدا سے دور ہو گئے ہیں :
We continue to suffer because we are alienated from God. موجودہ زمانہ میں جو نئی چیزیں ظہور میں آئی ہیں ان میں سے ایک ذرائع ہیں ، اور دوسرے یہ ذرائع اپنی ابتدائی صورت میں انسانیت کے لیے بے حد مفید تھے۔ مگر جدید نظریات نے انسانوں میں جو ذہن اور مزاج پیدا کیا وہ صحیح نہ تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مفید چیزیں بھی عملاً تباہی کا سبب آج دنیا کو ایسے نظریہ کی ضرورت ہے جو انسان کے اندر صالح مزاج کی تخلیق کر سکے۔
اسلام کی صداقت کا ایک ناقابل انکار ثبوت یہ بھی ہے کہ اسلامی انقلاب سے جو نظام ات وجود میں آئے، وہ ہمیشہ انسانیت کے لیے مفید ثابت ہوئے۔ اور غیر اسلامی انقلاب سے جو نظام ات وجود میں آئے، وہ ہمیشہ انسانیت کے لیے مضر ثابت ہوئے۔
مثلاً جدید آزاد دنیا میں سائنس، جمہوریت، شہری آزادی وہ چیزیں ہیں جو اسلامی انقلاب کے نتیجہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ یہ چیزیں انسانیت کے لیے خیر ثابت ہوئیں۔ اگرچہ غلط استعمال کی بنا پر ان سے انسانیت کو بعض نقصانات بھی پہنچے۔ مگر اصولی اعتبار سے یہ چیزیں سراپا خیر تھیں۔ اس کے برعکس نیشنلزم، کمیونزم، نازی ازم وغیرہ وہ نظام ات ہیں جو غیر اسلامی فکر اور غیر اسلامی انقلاب کے نتیجہ میں ظہور میں آئے۔ یہ چیزیں انسانیت کے لیے سراپا شر ثابت ہوئیں۔ کا معاملہ یہ ہے کہ ان کو جتنا زیادہ کامل صورت میں نافذ کیا جائے اتنا ہی زیادہ ان کا نقصان بڑھتا چلا جائے گا۔ ان کے نقصان میں اگر کچھ کمی ہوگی تو صرف اس وقت جب کہ انہیں ناقص صورت میں نافذ کیا گیا ہو۔
آپ پھل دار درخت بوئیں تو اس سے ہمیشہ پھل ہی ملے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ کانٹے دار درخت بوئیں تو اس سے ہمیشہ کانٹے نکلیں گے۔ یہی اسلام اور غیر اسلام کا معاملہ ہے۔ اسلام کا جز، یا کل جب بھی زندگی میں رائج کیا جائے گا، وہ زندگی میں تعمیری نتیجے پیدا کرے گا۔ اور غیر اسلام کو جب بھی رائج کیا جائے گا، وہ زندگی میں اپنے تخریبی نتیجے دکھائے گا، خواہ اس کو جزئی طور پر رائج کیا گیا ہو یا کلی طور پر۔ موجودہ زمانہ میں انسان نے فطرت کے مطالعہ سے جو چیزیں دریافت کیں اور جو صنعتی تمدن بنایا وہ قدرت کی نشانیاں تھیں۔ اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ان کی حیثیت خدا کی نعمت کی تھی۔ مگر موجودہ زمانہ میں انسان کی ذہنی تشکیل کے لیے جو نظریات ظہور میں آئے وہ انسان کے اپنے دماغ کی پیدا وار تھے۔ اس طرح جدید دور ایک تضاد میں مبتلا ہوگیا۔ ذرائع کے اعتبار سے اس کے پاس خدائی ذرائع تھے۔ مگر انسان کے اعتبار سے غیر خدائی انسان۔
اسلام اس تضاد کو ختم کرنے والا ہے۔ اسلام خدا کی طرف سے آیا ہوا دین ہے۔ اسلامی فکر پر لے آنا گویا اس کو خدائی انسان بنانا ہے۔ اسلام کے پھیلنے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ذرائع خدائی ہیں اسی طرح انسان بھی خدائی ہو جائیں۔ اس تضاد کو ختم کرنے ہی میں انسانی فلاح کا راز چھپا ہوا ہے۔