تاریخی تائید
Al-Risala, May 1992, pp. 36–37
By Maulana Wahiduddin Khan
چھٹی صدی عیسوی کے آخر میں جب اسلام کا ظہور ہوا، اس وقت دنیا کی سب سے بڑی سلطنت عیسائیوں کی سلطنت تھی۔ اس سلطنت کے دو بڑے حصے تھے۔ ایک مغربی حصہ اور دوسرا مشرقی حصہ۔ مغربی حصہ (یورپ) کورومن ایمپائر کہا جاتا تھا اور اس کا پایہ تخت روم (اٹلی) تھا۔ مشرقی حصہ (ایشیا اور افریقہ) کو بازنطینی ایمپائر کہا جاتا تھا اور اس کا پایہ تخت قسطنطنیہ (ترکی) تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری زمانہ میں شام کی سرحد پر رومیوں سے مسلمانوں کا فوجی ٹکراؤ شروع ہوا۔ اس ٹکراؤ میں مسلمان کامیاب رہے۔ ایک صدی کے اندر اندر انہوں نے مسیحی سلطنت کے مشرقی حصہ کو تقریبا پورا کا پورا فتح کر لیا جس میں ان کے مقدس مذہبی مقامات (شام فلسطین) بھی شامل تھے۔
اس کے بعد مسلمانوں نے ایک طرف سسلی اور اسپین کی جانب سے پیش قدمی شروع کی اور بڑھتے بڑھتے فرانس کے اندر داخل ہو گئے۔ دوسری طرف وہ ترکی کی جانب سے مشرقی یورپ میں داخل ہوئے اور آگے بڑھتے ہوئے ویانا (آسٹریا) تک جا پہنچے۔ اس طرح انہوں نے مسیحی (رومی) سلطنت کے مشرقی بازو پر تقریبا پورا کا پورا قبضہ کر لیا۔ اور اسی کے ساتھ اس کے مغربی بازو کے بھی ایک حصہ کو کاٹ لیا۔
مشہور صلیبی لڑائیاں مغربی عیسائیوں کی طرف سے ان کی اسی شکست کا رد عمل تھیں۔ ایک غیر قوم کے ہاتھ سے اپنی اس ذلت اور شکست کو برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ چنانچہ یورپ کی مسیحی سلطنتوں نے متحد ہو کر مسلم دنیا پر حملہ کر دیا۔
یہ صلیبی لڑائیاں (crusades) وقفہ وقفہ سے تقریبا دو سو سال - ۱۰۹۵ء) تک اس درمیان میں عیسائیوں کو وقتی اور جزئی کامیابی بھی حاصل ہوئی مگر سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں بالآخر مسلمانوں نے فتح پائی۔ اور مسیحیوں کو ان کی سابقہ دنیا سے باہر نکال دیا گیا۔ پیرس سائیکلوپیڈیا (Pears Cyclopaedia) نے اس سلسلے میں بہت با معنی تبصرہ کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں :
لاکھوں جانیں اور بے شمار دولت ان مہموں میں قربان کر دی گئی۔ اور جب سب کچھ ہو چکا تو یروشلم بدستور "بد دینوں "کے قبضہ میں پڑا ہوا تھا۔
مسٹر ولفر یڈ بلنٹ (Wilfred Blunt) نے اپنے ایک مقالہ (ٹائم لندن ، ۲ اپریل ۱۹۰۶) میں اسلام کا ذکر کرتے ہوئے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں :
شاید پوری انسانی تاریخ میں اس سے زیادہ تعجب خیز واقعہ اور کوئی نہیں ہے جتنا کہ انتہائی وسعت اور تیز رفتاری کے ساتھ اسلام کا پھیلنا۔
دین اسلام کو جو قوت اور وسعت حاصل ہوئی، اسی کی وجہ سے یہ ممکن ہوا کہ اسلام کی حفاظت اس عالم اسباب میں ممکن ہو جائے۔ اس سے پہلے جو آسمانی مذاہب آئے وہ سب ضائع ہوتے رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ ان پیغمبروں کو ماننے والے تھوڑے تھے ۔ ان کے مخالفین تعداد میں بھی زیادہ تھے اور ہر قسم کی قدرت و طاقت پر بھی انھیں کا قبضہ تھا۔ ان مخالفین نے سابق مذاہب کو ان کی اصل صورت میں باقی رہنے نہیں دیا۔ انھوں نے ان کتابوں میں اپنی منشا کے مطابق تحریف کر دی ۔ اسلام کی پشت پر جو طاقت ور حکومت قائم ہوئی وہ اس بات کی ضمانت بن گئی کہ کوئی اس کو ضائع نہ کر سکے ۔ کوئی اس میں انسانی کلام کی آمیزش نہ کر سکے ۔ اسلام کے ساتھ طاقت کو جمع کرنے اور اس کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دینے سے اور بہت سے فائدے حاصل ہوئے ۔ اس کی وجہ سے وہ تمام خطرات اور اندیشے ختم ہو گئے جو دشمنوں کی طرف سے دین خداوندی کو پیش آتے تھے۔ قرآن کے بعد کے زمانہ میں توحید پرستوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اگر وہ خدا کے فرماں بر دار بنے رہیں تو یہ فرماں برداری بذاتِ خود ان کی کامل حفاظت کی ضمانت بن جائے گی۔ کسی دشمن سے انھیں کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں۔