Al-Risala · May 1992

نظریاتی برتری

Al-Risala, May 1992, pp. 40–41

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام دین رحمت ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں رحمة للعالمین (انبیاء ۱۰۷) کہا گیا ہے۔ یعنی سارے عالم کے لیے رحمت۔ اس کے باوجود آپ کی معاصر قوم سے آپ کی لڑائیاں پیش یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب آپ رحمت اور سلامتی تھے تو آپ نے دوسروں سے جنگ کیوں نہ ایسا ہوا کہ آپ کا مشن رحمت اور امن سے شروع ہوتا اور رحمت اور امن ہی پر وہ تمام ہو جاتا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کی لڑائیاں حقیقۃً زمانہ کے خانہ میں جاتی ہیں نہ کہ خود آپ کے خانہ آپ جس زمانہ میں آئے اس وقت دنیا میں بادشاہت کا زمانہ تھا۔ اس وقت ڈیموکریسی اور آزادی کا کوئی تصور نہ تھا۔ مطلق العنان بادشاہ یا سردار ہر جگہ راج کر رہے تھے۔ یہی زمانی حالت جنگ کا سبب بن گئی۔ اگر اس وقت آج کی طرح ڈیموکریسی موجود ہوتی تو شاید دوسرے سے جنگ کی نوبت ہی نہ آتی۔

اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ یہ مثال امریکہ کی تحریک آزادی اور انڈیا کی تحریک آزادی کے تقابل سے سامنے آتی ہے۔

امریکہ میں انیسویں صدی کے آغاز میں آزادی کی جنگ ہوئی ۔ امریکہ کے ساحلی مقامات پر انگریزوں کا قبضہ تھا۔ امریکی لوگ ان کو اپنے ملک سے نکال دینا چاہتے تھے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فریقوں کے درمیان خونیں لڑائیاں ہوئیں۔ کثیر تعداد میں جانی نقصان کے بعد امریکہ کو انگریزوں سے آزادی

انھیں انگریزوں کے خلاف انڈیا نے مہاتما گاندھی کی قیادت میں آزادی کی تحریک چلائی۔ تحریک عدم تشدد کے اصول پر چلائی گئی۔ تحریک کامیاب رہی۔ معروف اسلحہ کے استعمال کے بغیر انڈیا آزاد ہو گیا۔

اس فرق کا سبب حقیقۃً امریکی لیڈروں کی تشدد پسندی یا مہاتما گاندھی کی امن پسندی نہیں۔ زمانہ کا فرق ہے۔ اٹھارویں اور انیسویں میں آزادی اور ڈیموکریسی کے نظریات ابھی بہت زیادہ عام

نہیں ہوئے تھے۔ وہ ابھی مستحکم اور تسلیم شدہ نظریات نہیں بنے تھے۔ اس وقت ابھی قدیم بادشاہی دور کی روایات باقی تھیں ۔ اس بنا پر قتال کی نوبت آگئی۔

اس وقت امریکہ میں اگر کوئی گاندھی جیسا اہنساوادی لیڈر پیدا ہوتا تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتا اہنسا کی بنیاد پر تحریک چلا کر کامیاب ہونے کے لیے زمانہ کی مساعدت کی ضرورت ہے۔ قسم کی زمانی مساعدت اس وقت تک کسی کو حاصل نہ تھی۔

مگر بیسویں صدی کے نصف اول میں جب گاندھی اٹھے تو آزادی اور ڈیمو کریسی کے نظریات مسلم سیاسی نظریات بن چکے تھے ۔ چنانچہ انہیں زمانہ کی کامل مساعدت حاصل ہوئی اور وہ عدم تشدد کی بنیاد پر تحریک چلا کر برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور آپ کے ارشادات میں خود بھی اس کے اشارے موجود ہیں کہ اسلام کی ابدی تحریک کو دو مختلف دوروں سے سابقہ آئے گا۔ دور اول کا اشارہ قرآن میں اس طرح موجود ہے کہ اس میں ظالموں سے دفاعی جنگ لڑنے کی ہدایت کی گئی ہے ( اذن للذین یقاتلون بانهم ظلموا) چنانچہ اس ہدایت کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانہ کے جارح اور ظالم عناصر سے دفاعی جنگ کی۔ دوسرے دور کا اشارہ ہم کو حدیث میں ملتا ہے۔ صحیح مسلم (کتاب الفتن واشراط الساعة) میں حضرت ابو ہریرہؓ کی یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعد کے زمانہ میں اہل ایمان کی ایک تعداد غزوہ کرے گی ۔ مگر وہ نہ ہتھیار سے لڑیں گے اور نہ تیر ماریں گے۔ لا الہ الا اللہ کہیں گے اور قلعہ کی دیواریں گر جائیں گی (فلم يقاتلوا بسلاح ولم يرموا بسهم، قالوا لا الہ الا اللہ واللہ اکبر فیسقط احد جانبیہا۔ - ثم يقولون الثانية لا اله الا الله والله أكبر فيسقط جانبها الآخر - ثم يقولون الثالثة لا اله الا الله والله أكبر فيفرج لهم فيدخلونها فيغنمون)

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دور آخر میں عالمی حالات میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوں گی کہ افکار ونظریات اسلحہ کے قائم مقام بن جائیں گے۔ اس فکری دور میں اہل اسلام کے لیے ممکن ہو جائے گا کہ وہ اسلام کی فکری طاقت اور اس کی نظریاتی برتری کو لے کر اٹھیں اور محض اس کے ذریعہ سے دوسری قوموں پر کامیابی حاصل کر لیں ۔

Printed page