Al-Risala · May 1992

I don’t know what the hell to do with it.

Al-Risala, May 1992, pp. 46–47

By Maulana Wahiduddin Khan

ان دولت مندوں کو اکتاہٹ کے علاوہ اور بھی مسائل درپیش ہیں۔ مثلاً ایک دولت مند نے کہا کہ اس کے بچے جلد ہی خود کروڑپتی (Millionaires) ہو جائیں گے۔ وہ اپنی ۴ م ملین ڈالر کی دولت کا کوئی حصہ انھیں دینا نہیں چاہتا۔ کیوں کہ زیادہ دینا ان کو خراب کر دے گا : Giving more just spoils them. مصنف وانس پیکارڈ جو خود اقتصادیات کا عالم ہے ، اس نے تفصیلی جائزہ کے بعد اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ تھوڑے سے افراد کے درمیان زیادہ دولت کا اجتماع بہت برا ہے۔ یہ سرمایہ داری کی اچھی صحت کے لیے خطرناک ہے۔ اس کے علاج کے لیے مصنف نے ایک تجویز پیش کی ہے ۔ ایک خاص مقدار ، مثلاً ۲۵ ملین ڈالر کے بعد ، پوری دولت پر ٹیکس لگانا : Taxing net worth above a certain level (say, $ 25 million).

سرمایہ دارانہ نظام میں نفع پر ٹیکس کا اصول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے تحت جس شخص کے پاس دولت ایک بار آجائے وہ مسلسل بڑھتی رہتی ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں دولت کے ارتکاز (Concentration of Wealth) کی خرابی پیدا ہوتی ہے۔ یہ خرابی موجودہ سرمایہ دارانہ ممالک میں آخری حد تک آچکی ہے۔

پوری دولت پر سال بہ سال ٹیکس لگانا ایک اسلامی تصور ہے۔ یہ عین وہی چیز ہے جس کو شریعت اسلامی میں زکوٰۃ کہا گیا ہے۔ مغربی ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کی خرابیوں نئے وہاں کے سنجیدہ لوگوں کو کسی نے معاشی اصول کا متلاشی بنا دیا ہے۔ حتیٰ کہ اب وہ زکوٰۃ کا نام لیے بغیر زکوٰۃ کے اصول کی اہمیت کو تسلیم کرنے لگے ہیں۔

آج وہ بہترین وقت آگیا ہے جب کہ مغربی ملکوں کے سامنے اسلام کے معاشی اصولوں کو پیش کیا جائے اور وہ اس کو موجودہ سرمایہ داری کا نعم البدل سمجھ کر اسے قبول کرلیں، اور اسی کے ساتھ پورے اسلام کو بھی۔

آج کی دنیا ایک نئے دور کے آغاز کے کنارے کھڑی ہے۔ یہ وہی دور ہے جس کا متعین نام " اسلامی نظام ہے"۔ تاہم دنیا کو اس طرف لانے میں سب سے بڑی رکاوٹ صرف ایک ہے۔ وہ موجودہ زمانہ کے مسلمان ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ انھوں نے غیر مسلم اقوام سے اپنے چھوٹے قومی مسائل کے لیے جھوٹی لڑائی چھیڑ رکھی ہے۔ اس لڑائی سے انھیں کچھ بھی حاصل نہیں ہورہا ہے۔ دوسری طرف یہ عظیم نقصان ہے کہ ان کے ان قومی جھگڑوں کی وجہ سے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ناقابل بیان تلخی پیدا ہو گئی ہے۔ اس بنا پر وہ اسلام کے بارے میں سنجیدہ غور وفکر کے قابل نہیں رہے ہیں۔ اگر مسلمان صرف اتنا کریں کہ وہ کچھ نہ کریں یعنی دوسری قوموں سے قومی اور مادی جھگڑے ختم کردیں تو اسلام خود اپنی طاقت سے پھیلنے لگے گا، بغیر اس کے کہ اس کو پھیلانے کی براہ راست جدوجہد کی گئی ہو ۔

اسلام کے عقائد عین فطری تقاضے کے مطابق ہیں۔ اسی طرح اسلام کا عملی نظام بھی فطرت کے اصولوں پر قائم ہے۔ اسلام کو اہل عالم کی نظر میں قابل قبول بنانے کے لیے صرف اتنا کافی ہے کہ اسلام کو سادہ اور بے آمیز شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کر دیا جائے۔

Printed page